جنوبی کوریا کا جاپانی پابندیوں کیخلاف عالمی تجارتی تنظیم سے رابطہ

43

سیئول (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی کوریا نے جاپانی اقدامات کے خلاف عالمی تجارتی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے رابطہ کیا ہے، جس کا مقصد ٹیکنالوجی سے متعلق اشیا اور مواد کی برآمد پر پابندیاں ختم کرانے کے لیے عالمی تنظیم کی حمایت حاصل کرنا ہے، اس حوالے سے تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے تجارتی مذاکرات کے ماہر کو روانہ کردیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی کوریا کی وزارت تجارت، صنعت اور توانائی نے بیان جاری کیا ہے کہ نائب وزیر کم سے انگ ہو، عالمی تجارتی تنظیم کی جنرل کونسل کے آج (منگل) سے شروع ہونے والے اجلاس میں جنوبی کوریائی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس سے قبل انہوں نے جاپان کے 8 اداروں کے ساتھ سمندری خوراک کی درآمد پر پر جنوبی کوریا کی جانب سے عائد کردہ پابندی کے حق میں عالمی تجارتی تنظیم کے فیصلے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ واضح رہے کہ جاپان کی برآمدی پابندیوں میں مزید سختی سے متعلق ہونے والے اجلاس میں عالمی تجارتی تنظیم کے تمام 164 ارکان کے نمایندے شرکت کریں گے۔ جاپان کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی زد میں آنے والے ساز و سامان اور مواد کو سیمی کنڈکٹرز ور ڈسپلے پینلز بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ نائب وزیر عالمی تنظیم کے اجلاس میں جاپانی اقدامات کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی قرار دینے کا ملکی موقف پیش کریں گے۔ دوسری جانب جاپان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وزارت خارجہ کے اقتصادی امور بیورو کے سربراہ شنگویاما گامی عالمی تنظیم کے اجلاس میں جاپان کی نمایندگی کریں گے۔ جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق توقع ہے کہ حکومت کی جانب سے عالمی تجارتی تنظیم کو بتایا جائے گا کہ ٹوکیو حکومت کے اقدامات برآمدات کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کی خاطر اٹھائے گئے ہیں، جن سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔