اوریا مقبول

32 مراسلات 0 تبصرے

کانگریس کی سیکولر ازم سے مودی کی ہندوتوا تک

بھارت کے مسلمانوں کے لیے ایک بار پھر یہ جال پھینکا جارہا ہے کہ تمہاری نجات ایک سیکولر معاشرے اور سیکولر نظامِ حکومت میں...

نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے

کہاں ہیں وہ دانشور، ادیب، سماجی کارکن، انسانی حقوق کے علَم بردار بلکہ بہت سے سیاسی رہنما جو ابوالکلام آزاد کی تحریریں لہرا لہرا...

بھارت کا خاتمہ

کالم کا یہ عنوان کسی مسلمان پاکستانی خصوصاً عرفِ عام میں بدنام جہادی کی گفتگو یا خواہش کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ گزشتہ نصف...

مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ

امریکی تال پر رقص کرنے والے دنیا بھر کے تجزیہ نگار گزشتہ پندرہ سال سے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج کی ناکامی کا...

مغرب کی علم دشمنی کی روایت کا تسلسل

شیکسپیئر کے ڈراموں سے جنم لینے والے تمام کردار وائرس کی طرح ہر اُس ملک کے بچوں کے ذہنوں میں ڈال دیے گئے ہیں...

پارٹی فنڈنگ کا صندوق

جمہوری سیاست، کاروباری دنیا اور سفید پوش جرائم کا دھندا… ان تینوں کا آپس میں تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنا سیاسی پارٹیوں کا...

موٹاپے کی وبا اور کیپٹل ازم کی بھوک

پوری دنیا کو اس وقت ایک عجیب و غریب ہیجانی کیفیت میں مبتلا کیا جا چکا ہے۔ ایک خوف ہے جو ہر صاحبِ حیثیت...

کرتار پور اور مذہبی سیاست گری

آج سے تقریبا تین سال قبل میں آخری دفعہ بھارت یونیسکو کی ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے گیا، تو میں نے دلی براستہ...

غفلت سے نکلو

ستمبر 1965ء کی سترہ روزہ جنگ پاکستان کی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے گرد آلود کتابوں میں دفن کردیا گیا، کیونکہ 1971ء...

مولانا عبدالرشید غازی سے مولانا فضل الرحمٰن تک

عبدالرشید غازی جو بعد میں مولانا کہلائے، قائداعظم یونیورسٹی سے 1988ء میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اقوامِ...
پرنٹ ورژن
Friday magazine