آئین اپنا نہ عام پاکستانیوں کا تحفظ کر سکا، ایم کیوایم پاکستان

530
protect

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینئیر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ 18ویں ترمیم اختیارات کی منتقلی کیلئے تھی، آئین نہ اپنا نہ عام پاکستانیوں کا تحفظ کر سکا، اس کے اندر بڑی وضاحت کی ضرورت ہے،آج کی ترامیم میں ہم مقامی حکومت کو تحفظ دینے کی بات کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں وفاق بلدیاتی محکموں کو براہ راست فنڈز دے۔

ایم کیو ایم قیادت نے کراچی میں پریس کانفرنس کی، جس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک میں ہر شہری کو ریلیف ملنا چاہئے، جمہوریت میں ہر شہری کو حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ایم کیو ایم کنوینئیر نے کہا کہ خوشحال پاکستان کے ساتھ ساتھ خوشحال پاکستانی کو بھی دیکھیں، پاکستان میں معاشی بحران کے ساتھ نیت کا بھی بحران ہے، سب کو سیاست کے بجائے ریاست پر توجہ دینی چاہئے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آئین نہ اپنا نہ عام پاکستانیوں کا تحفظ کر سکا، اس کے اندر بڑی وضاحت کی ضرورت ہے۔

خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ ایسی جمہوریت ہو جوعام آدمی کو ریلیف دے، کیا 2008 یا آج کا کراچی اچھا ہے؟ آج کی ترامیم میں ہم مقامی حکومت کو تحفظ دینے کی بات کر رہے ہیں۔ جب تک ضلعی حکومتیں نہ ہوں اس وقت تک عام انتخابات نہیں ہونے چاہئیں، وسائل کی غلط تقسیم سے اس وقت معاشی بحران ہے، کراچی کے تمام اکابرین کو یہاں دیکھ رہا ہوں، پاکستان کی عوام کا یہ دکھ اور درد دور کریں گے۔

ایم کیوایم رہنما کا کہناتھا کہ ملک میں ہر شہری کو ریلیف ملنا چاہئے، جس طرح قومی و صوبائی حکومتوں کو اسی طرح ضلعی حکومتوں کو بھی آئین تحفظ دے، 75 سال کے بعد ایسی جمہوریت پاکستان کے اوپر بوجھ ثابت ہوئی، سیاست سے ریاست کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں آنے والے انتخابات کے بعد ایک ایسی حکومت آئے جو عام پاکستان کی دہلیز تک سہولتیں پہنچائے۔

ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینئیر مصطفی کمال نے کہا کہ تمام بلدیاتی محکموں کو آئین میں لکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی فنانس کمیشن سے فنڈز ٹرانسفر ہوتے ہیں، صوبوں کے اندر فنڈز ٹرانسفر کا منصفانہ میکینزم نہیں، وفاق براہ راست اکانٹ میں فنڈز ٹرانسفر کرے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بلدیاتی نظام میں بھی نگراں سیٹ اپ ہونا چاہئے، جب تک بلدیاتی حکومتیں نہ ہوں تب تک صوبے اور وفاق میں انتخابات نہ کروائے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی جماعت کو مزید صوبے بننے پر اعتراض ہے تو اسے ہماری تجویز کردہ آئینی ترامیم کو سپورٹ کرنا چاہیے۔