حماس مجاہدین قبلہ اول کو بھی صہیونی قبضے سے آزاد کرائیں گے، حافظ نعیم

430

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حماس مجاہدین قبلہ اول کو بھی صہیونی قبضے سے آزاد کروائیں گے۔

اہل غزہ و فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقدہ غزہ بازار کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور پاکستانی مصنوعات کا استعمال کیا جائے تاکہ صہیونی ریاست کو معاشی نقصان  پہنچایا جا سکے۔

الخدمت فاونڈیشن ویمن ونگ ٹرسٹ کے تحت مقامی بینکوئٹ اورضلع وسطی گلبرگ کے تحت باغ رضوان میں اہل غزہ و فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے غزہ بازار کا انعقاد کیا گیا،جس میں پاکستانی مصنوعات پر مبنی100سے زائد اسٹالز موجودتھے ۔اسٹالز میں مقامی طور پر تیار کردہ اشیا نمایاں کی گئیں تھیں۔غزہ بازار کا مقصد اسٹالز سے ہونے والے منافع سے اہل فلسطین کی امداد کرنا ہے۔

اس موقع پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی کی ناظمہ اسما سفیر، چیئرپرسن الخدمت فاؤنڈیشن ویمن ونگ ٹرسٹ نویدہ انیس،ٹرسٹ کی ذمے داران عائشہ سعد، زرافشاں فرحین ،روبینہ شکیل ،شہناز اقبال ،شیریں ارشد، ایگزیکٹو ڈائر یکٹر الخدمت کراچی راشد قریشی ،ضلع گلبرگ کے امیر فاروق نعمت اللہ ، سیکرٹری ضلع کامران سراج ، ٹاؤن چیئرمین گلبرگ نصر ت اللہ و دیگر موجود تھے ۔

قبل ازیں امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے اسٹالز کا دورہ کیا اور عوام سے اپیل کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں خریداری کریں تاکہ ہم اہل غزہ اور فلسطینیوں کی بھرپور طریقے سے مدد کرسکیں ۔

حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالی نے اہل غزہ و فلسطینی مسلمانوں کو کامیابی دی جنہوں نے انبیا کی سر زمین کی حفاظت کے لیے قربانیاں دیں۔حماس نے اپنی مزاحمت سے فلسطینی قیدیوں کو آزاد کروایا۔ حماس نے عزت و احترام کے ساتھ معاہدہ پورا کیا۔ اسرائیل نے 6 دنوں میں عرب ممالک کو شکست دی تھی لیکن حماس کے مجاہدین نے اسرائیل کو شکست سے دوچار کرکے اسرائیل اور امریکا کا غرور خاک میں ملادیا۔

انہوں نے کہا کہ حماس کے مجاہدین مسجد اقصی قبلہ اول کو بھی صیہونی قبضے سے آزاد کروائیں گے۔ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے پاکستانی مصنوعات کو ترجیح دی جائے تاکہ اسرائیل کو معاشی نقصان ہوسکے ۔پاکستانی تجارت سمیت تمام شعبوں میں غیر ملکی کمپنیوں کو شکست دے سکتے ہیں۔پاکستان میں موجود تمام کمپنیاں اپنی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنائیں۔

امیر جماعت کا کہنا تھا کہ پاکستانی مصنوعات کی تشہیر غزہ میں ہونے والی جنگ کی وجہ ہی سے ممکن ہوئی ہے۔ ہم اپنی کمپنیوں کی مصنوعات کو ترجیح دے کر ہی اسرائیل کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اور غزہ سے صیہونیوں کا قبضہ چھڑواسکتے ہیں۔آج کے بازار سے ہونے والا منافع فلسطین ریلیف فنڈ میں دیا جائے گا۔ فلسطین کے مسلمان قبلہ اول کی آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں ہمیں بھی اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین میں جارحیت اسی لیے جاری رکھی کیونکہ مسلم حکمرانوں نے اہل فلسطین کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اگر مسلم حکمران فلسطین کی مدد کرتے تو اسرائیل مجبور ہو کر قابض علاقوں سے نکل جاتا۔ فلسطین کا مسئلہ صرف بیانات سے نہیں عملی اقدامات سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام غزہ بازار کو کامیاب بنائیں تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ تعداد میں فلسطینی مسلمانوں کی مدد کرسکیں۔ پاکستانی مصنوعات کے فروغ کے لیے بہت جلد ایکسپو کریں گے۔

فاروق نعمت اللہ نے کہاکہ حماس کے مجاہدین نے دنیا کو پیغام دیا کہ ہم اسرائیل کو قبول نہیں کرسکتے ۔ اسرائیل ایک ناپاک اور ناجائز ریاست ہے، ہم اہل غزہ کے شہیدوں اور غازیوں کے ساتھ ہیں ۔ غزہ بازار سے ہونے والا منافع اہل فلسطین کی مدد کے لیے بھیجا جائے گا۔

نویدہ انیس نے کہاکہ ہم اپنی فلسطینی بہن اوربھائیوں کے ساتھ ہیں اور ان کی ہر ممکن مدد جاری رکھیں گے ، الخدمت ویمن ونگ ٹرسٹ اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کررہی ہے اور لوگوں کو اس حوالے سے موبلائز بھی کیا جارہا ہے۔