رمضان کی آمد کیساتھ کراچی میں پھلوں کی قیمت آسمان پر پہنچ گئیں

490

کراچی:رمضان کی آمد کے ساتھ ہی پھلوں کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی، کمشنر کراچی نے پھلوں کی سرکاری قیمت کا نرخ نامہ جاری کر دیا جس میں پھلوں کے نرخ عام دنوں سے بھی کم مقرر کی گئی ہے۔

پھلوں کا سرکاری نرخ نامہ تین کا پہاڑہ بن گیا، سرکاری قیمت میں تین کے عدد کی گردان ہے جسے موجودہ مالیاتی اور ادائیگی کے نظام کے تحت بھی عمل درآمد ممکن نہیں۔ شہر بھر میں پھل کے ٹھیلوں پر سرکاری نرخ نامہ آویزاں نہیں اور پھل فروش من مانی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔

سرکاری نرخ نامے میں درجہ اول کیلے کی قیمت 173روپے درجن مقرر کی گئی تاہم سیزن نہ ہونے کی وجہ سے درجہ اول کیلے 250روپے اور اس سے زائد پر فروخت کیے جا رہے ہیں جبکہ درجہ دوم کیلے سرکاری قیمت 153روپے کے مقابلے میں 200روپے درجن تک فروخت ہو رہے ہیں۔

پپیتہ درجہ اول کی سرکاری قیمت 133روپے مقرر ہے تاہم درجہ اول پپیتہ 250روپے جبکہ درجہ دوم 118 روپے کی سرکاری قیمت کے مقابلے میں 180 سے 200روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔کمشنر کراچی نے امرود کی قیمت 108 روپے مقرر کر دی جبکہ مارکیٹ میں امرود کم سے 150 اور درجہ اول امرود 200روپے کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔

 چیکو کی سرکاری قیمت 133روپے کلو مقرر کی گئی تاہم چیکو 200روپے کلو درجہ دوم 150روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔سرکاری نرخ نامے میں مقامی گولڈن سیب کی قیمت 192 اور درجہ دوم کی قیمت 172 روپے مقرر کی گئی جبکہ بازار میں گولڈن سیب درجہ اول 250روپے اور درجہ دوم 200روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔

کمشنر کراچی نے خربوزہ درجہ اول کی قیمت 93روپے اور درجہ دوم کی قیمت 73روپے مقرر کر دی جبکہ شہر میں خربوزہ درجہ اول 200روپے اور درجہ دوم 120 روپے سے 140روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ سرکاری نرخ نامے میں تربوز کی قیمت 153روپے کلو مقرر ہے تاہم شہر میں تربوز 180سے 200روپے کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔ایرانی کھجور کی سرکاری قیمت درجہ اول 403 اور درجہ دوم 383روپے مقرر کی گئی تاہم ایرانی کھجور خوردہ سطح پر 550 سے 600 روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔

پرائس لسٹ میں کینو اور موسمی کی قیمت بھی مقرر کی گئی تاہم یہ قیمت کینو موسمی کے سیزن کے مقابلے میں بھی کم رکھی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لسٹ بازار کے رجحان، طلب و رسد کے توازن کو مدنظر رکھنے کے بجائے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر تیار کی گئی۔

دوسری جانب، شہری انتظامیہ حسب معمول رمضان میں ناجائز منافع خوری روکنے میں ناکام ہے، کمشنر کراچی نے گوشت اور مرغی کا نرخ نامہ بھی جاری کیا تاہم انتظامیہ اس نرخ نامے پر عمل نہ کروا سکی۔