پاکستان کا فیٹف کی گرے لسٹ سے اخراج

499

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے۔ یہ فیصلہ فیٹف کے پیرس میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں تنظیم کے رکن ممالک کے علاوہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اقوامِ متحدہ کے نمائندے بھی بطور مبصر شریک ہوئے جبکہ پاکستان کی نمائندگی وزیر ِ مملکت برائے خارجہ اُمور حنا ربانی کھر نے کی۔ فیٹف کی ٹیم اگست کے آخر میں پاکستان کے پانچ روزہ دورے پر آئی تھی اور اس کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی پاکستان کے گرے لسٹ سے اخراج کا حتمی فیصلہ ہوا ہے۔ اس کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔ پاکستان 2012 سے 2015 تک فیٹف کی گرے لسٹ کا حصہ رہ چکا ہے اور پھر 2018 میں اسے دوبارہ اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا جس کی وجہ پاکستان کی جانب سے اس ادارے کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق مطمئن نہ کر سکنا تھا۔ اس سال مارچ میں ہونے والے نظرثانی اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے سفارشات کی تکمیل میں خاصی پیش رفت کی ہے تاہم چند نکات پر مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔ جبکہ جون 2022 میں ہونے والے پلینری اجلاس میں پاکستان کی 2018 اور 2021 کی کارکردگی پر بحث ہوئی تھی اور ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا جو پاکستان نے فیٹف کی سفارشات کی بنیاد پر کیے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے فیٹف شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی ہدایت پر ہی فیٹف شرائط پر عملدرآمد کے لیے جی ایچ کیو میں ایک میجر جنرل کی سربراہی میں ایک اسپیشل سیل قائم کیا گیا تھا جس نے وزارتوں اور ایجنسیوں کے درمیان روابط کا نظام بناکر ہر ایک نکتے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان میں منی لانڈرنگ کے 800 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، ان کیسز کی گزشتہ 13 مہینوں کے دوران تحقیقات مکمل کی گئیں اور اس دوران 58ارب کے اثاثے ضبط کیے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایف بی آر نے 1700 سے زائد نامزد غیرمالیاتی کاروبار اور پیشوں کی نگرانی کی اور 35 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے اور یہ ان ہی اقدامات کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا۔
فیٹف کے گرے لسٹ سے نکلنے کے فوائد میں سے ایک بڑا فائدہ غیرملکی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان پر اعتماد اور مالی امداد کی شکل میں سامنے آنے کے قوی امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے فوراً بعد ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے تناظر میں سماجی تحفظ، غذائی سلامتی کو فروغ دینے اور لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ضمن میں ڈیڑھ ار ب ڈالر مالی معاونت کی منظوری دیدی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی اعانت سے حکومت کو اپنے انسداد ترقیاتی اخراجات کے پیکیج پر عمل درآمد کے لیے درکار مالی گنجائش فراہم ہوسکے گی جسے پاکستان کے غریب ترین خاندانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو اکثر بحران کے وقت غیر متناسب طور پر متاثر ہوتے ہیں حکومت کی حمایت میں صنفی بااختیار بنانے اور آب و ہوا کی تبدیلی کے موافقت کو فروغ دینے کے لیے مخصوص اقدامات شامل ہیں جو حالیہ سیلاب کی روشنی میں اور بھی اہم ہوگئے ہیں۔ بینک کے ڈائریکٹر جنرل برائے وسطی ومغربی ایشیا یوگینی ژوکوف نے بتایا ہے کہ کوویڈ 19 سے پاکستان کی معیشت کو درپیش مسائل نیز بڑھتے ہوئے کاروباری اور ذاتی اخراجات نے لاکھوں پاکستانیوں خاص طور پر غریب اور معاشی طور پرکمزور طبقات کو بہت متاثر کیا ہے لہٰذا توقع ہے کہ اے ڈی پی حکومت کو بلند قیمتوں کے اثرات، غذائی عدم تحفظ میں اضافے، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی، اور اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے مسائل حل کرنے میں مدد کرے گا۔ بینک کے ڈائریکٹر پبلک مینجمنٹ طارق نیازی نے بتایا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی امداد سے نقد رقم کی منتقلی حاصل کرنے والے خاندانوں کی تعداد 7.9 ملین سے بڑھا کر 9 ملین کرنے، پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ، حاملہ اور دودھ پلانے والی مائوں اور 2 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے صحت کی خدمات اور غذائیت کی فراہمی کی جغرافیائی کوریج میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی، پروگرام حمایت کے ایک جامع اور اچھی طرح سے مربوط پیکیج کا حصہ ہے اس سے حکومت کو معیشت پر فوری جھٹکوں کے اثرات سے نمٹنے، متوازی طور پر ساختی اصلاحات کو جاری رکھنے میں مدد ملے گی، ایشیائی ترقیاتی بینک کی 1.5 ارب ڈالر کی کائونٹر سائیکلیکل سپورٹ حالیہ سیلاب کے تناظر میں پاکستان میں لوگوں، ذریعہ معاش اور انفرا اسٹرکچر کی مدد کے لیے ایک اہم امدادی پیکیج کا حصہ ثابت ہوگا جس سے 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور جس کے نتیجے میں ملک کے بنیادی ڈھانچے اور زراعت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ معاشی ماہرین یہ امید ظاہر کررہے ہیں کہ فیٹف کے گرے لسٹ سے اخراج پاکستان کی معاشی بحالی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔