!اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں

313

افتخار گیلانی معروف‘ کہنہ مشق‘ صحافی ہیں۔ انقرہ میں رہتے ہیں اور ترکی کے ایک عالمی خبر رساں ادارے میں کام کرتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس‘ پائنیر( Pioneer) اور کشمیر ٹائمز جیسے اہم اخبارات کے ساتھ منسلک رہے۔ کشمیر کی صورتحال سے خصوصی طور پر واقفیت حاصل کر نے میں لگے رہتے ہیں اور راز ہائے درونِ میخانہ سے آگاہ ہیں۔ اپنے ایک حالیہ کالم میں انہوں نے ایک چونکا دینے والی بات لکھی ہے۔ لکھتے ہیں ’’جب 1996ء میں بھارتی وزیراعظم اندر کمار گجرال نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے نیویارک میں ملاقات کی تو کشمیر یا دیگر امور کے بجائے جو اہم مطالبہ پاکستانی وزیراعظم نے نہایت ہی زور و شور سے رکھا وہ یہ تھا کہ بھارتی حکومت دبئی کے راستے ان کی شوگر مل کے لیے رعایتی نرخوں پر مشینری فراہم کروائے اور ان مشینوں پر میڈ اِن انڈیا کا لیبل نہ لگا ہو۔ گجرال جب یہ احوال واپسی پر طیارہ میں آف دی ریکارڈ گفتگو کے دوران شیئر کر رہے تھے تو اس کے بعد کسی نے بھی بھارتی وزیراعظم سے کشمیر یا دیگر امور پر سوال پوچھنے کی زحمت نہیں کی جبکہ اس سے قبل کئی صحافی ان امور سے متعلق سوالات پوچھنے کی تیاریاں کر رہے تھے‘‘۔
میں نے افتخار گیلانی صاحب سے رابطہ کیا اور بتایا کہ 1996ء میں نواز شریف وزیراعظم نہیں تھے۔ اکتوبر1993ء سے لے کر پانچ نومبر 1996ء تک بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں۔ نواز شریف نے وزارتِ عظمیٰ کا چارج 17فروری 1997ء کو لیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ سال کے حوالے سے تسامح ہو سکتا ہے مگر واقعہ درست ہے۔ مزید شواہد اس سلسلے میں گیلانی صاحب نے یہ دیے کہ گجرال کے ساتھ اْس وقت جہاز میں کے پی نیّر‘ سنیل نرنلا‘ انوھتا ماجمدار اور سعید ملک بھی موجود تھے۔ ان سب نے اس بات کی تصدیق کی۔ سلمان حیدر نے بھی‘ جو اْس وقت بھارت کے سیکرٹری خارجہ تھے‘ یہی بات بتائی۔ چونکہ وزیراعظم گجرال نے یہ بات آف دی ریکارڈ بتائی تھی اس لیے کوئی اس واقعہ کو ضبطِ تحریر میں نہیں لا سکتا تھا سوائے محمد سعید ملک کے۔ سعید ملک مقبوضہ کشمیر سے ہیں اور گمان غالب یہ ہے کہ وہ واحد مسلمان ہیں جو ایک بھارتی اخبار کے چیف ایڈیٹر بنے۔ وہ مشہور تھنک ٹینک ’’آبزرور ریسرچ فائونڈیشن‘‘ کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ گزشتہ برس انہوں نے سوشل میڈیا پر اور ہفت روزہ ’’کشمیر لائف‘‘ میں بھی یہ واقعہ لکھ دیا۔ ’’کشمیر لائف‘‘ کا یہ شمارہ اٹھائیس مارچ تا تین اپریل2021ء کا ہے۔ اْس وقت سعید ملک ’’سنڈے آبزرور‘‘ کے چیف ایڈیٹر تھے۔ وہ لکھتے ہیں ’’میں نے اپنی ایک تحریر میں اْس پاکستانی سفیر کا ذکر کیا ہے جو دہلی میں تعینات تھا۔ اس کا خیال تھا کہ نواز شریف کا اپنے بھارتی ہم منصب سے معاملات طے کرنے کا جو اسٹائل تھا وہ قابلِ رشک نہ تھا۔ سفیر نے یہ نہیں بتایا کہ نواز شریف کا جو سفارتی اور سیاسی مائنڈ سیٹ تھا اس میں ان کے خاندان کے وسیع و عریض کاروباری مفادات آڑے آجاتے تھے۔ اس سے مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو اس موضوع پر مزید روشنی ڈالتا ہے۔ 1997ء میں اْس وقت کے وزیراعظم آئی کے گجرال اْس بھارتی وفد کی قیادت کر رہے تھے جو جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے نیویارک میں تھا۔ میں بھی ہمراہ جانے والی پریس ٹیم کا حصہ تھا۔ واپسی کی پرواز کے دوران گجرال میڈیا ٹیم کے ساتھ معمول کی بات چیت کر رہے تھے۔ کسی نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے سوال پوچھا۔ گجرال نے انکشاف کیا کہ نواز شریف نے جو مطالبات زور و شور سے کیے ان میں ایک یہ تھا کہ بھارتی حکومت‘ شریف خاندان کی شوگر مل کے لیے بھارت کی بنی ہوئی مشینری کی غیر رسمی برآمد اور فروخت کی‘ براستہ دبئی‘ اجازت دے کیونکہ ان کی شوگر مل پرانی ہو چکی تھی۔ پاکستان کے وزیراعظم کی یہ خواہش بھی تھی کہ مشینری پر ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ کا لیبل نہ لگا ہو اور برآمدی اور درآمدی ڈیوٹی میں بھی رعایت کی جائے۔ ظاہر ہے‘ یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ معاملہ نیویارک ملاقات کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہ بنے! گجرال نے پریس ٹیم کو بتایا کہ اس نے نواز شریف کو یقین دلایا کہ وہ واپس بھارت جا کر اس درخواست پر غور کرے گا اور اپنی طرف سے پوری کوشش کرے گا۔ گجرال نے یہ بات آف دی ریکارڈ بتائی تھی تاکہ اخلاقیات کے حوالے سے اسے میڈیا میں رپورٹ نہ کیا جائے۔ اس غیرمعمولی انکشاف کے بعد میڈیا والوں کا وہ جوش و خروش سرد پڑ گیا جس کے ساتھ وہ‘ وزیراعظم سے کشمیر کے بارے میں بہت سی وضاحتیں مانگنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ ان وضاحتوں کا تعلق گجرال اور نواز شریف ملاقات سے تھا۔ گجرال سمجھ گیا۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ لیے اْٹھا اور ائر انڈیا بوئنگ کے اْس کیبن میں چلا گیا جو اس کے لیے مخصوص تھا!‘‘۔
یہ واقعہ بڑے میاں صاحب کے مزاج‘ افتادِ طبع اور مائنڈ سیٹ کے ساتھ کْلّی طور پر ہم آہنگ ہے۔ ان کی یہی شہرت ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بھارت کے سرکاری دوروں میں وہ بھارتی بزنس مینوں کو نجی حیثیت میں ملے‘ یا ملتے رہے! پہلی‘ اور غالباً دوسری وزارت ِ عظمیٰ کے دوران بھی‘ ایف بی آر کے ایس آر او ایک‘ ایک دو‘ دو دن کے لیے جاری کیے جاتے رہے جن سے مخصوص فوائد حاصل ہو تے رہے! سیدہ عابدہ حسین کی خود نوشت میں مذکور یہ واقعہ کسی نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ بڑے میاں صاحب کو جب عابدہ حسین اپنی زرعی زمینیں دکھانے لے گئیں تو میاں صاحب کا فوری رد عمل یہ تھا کہ آپ یہاں شوگر مل کیوں نہیں لگاتیں؟
معلوم نہیں یہ روایت ثقہ ہے یا نہیں مگر عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ حکومت کی زمام تاجروں کے ہاتھ میں دینے سے منع کیا گیا ہے۔ عمران خان اگر اقتدار میں آنے کے بعد امیدوں پر پورے نہیں اترے اور وعدہ خلافیوں کے مرتکب ہوئے تو اس کی وجوہ میں سے بڑی وجہ یہی تھی کہ ان کے یمین و یسار تاجر بیٹھے ہوئے تھے۔ صنعت کار بھی تاجروں کے طبقے ہی میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اصل کام بھی خرید و فروخت ہی ہے۔ خام مال خریدتے ہیں اور مصنوعات بیچتے ہیں۔ شوگر مافیا کی اکثریت عمران خان کی وفاقی اور پنجابی کابینہ میں بھری تھی۔ دوائوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھا کر ان کی حکومت نے بہت بڑا ظلم کیا۔ ان کے تجارت اور سرمایہ کاری کے وزیر کے اپنے کارخانے ملک سے باہر تھے۔ اس معاملے کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھ لیجیے۔ قوموں کی قسمت بدلنے والے تاریخ کے بڑے لیڈروں میں سے بزنس مین کوئی بھی نہ تھا۔ قائداعظم‘ علامہ اقبال‘ سرسید احمد خان‘ چرچل‘ اتاترک‘ لی کوآن یو‘ مہاتیر محمد‘ امام خمینی‘ گاندھی‘ نہرو‘ شیر شاہ سوری‘ مائوزے تنگ‘ ڈیگال‘ بسمارک‘ کوئی بھی تو تاجر یا صنعت کار نہ تھا۔ تجارت اور صنعت محض پیشہ نہیں‘ سوچ اور طرزِ زندگی بھی ہے۔ ایک تاجر اگر رات دن اپنی تجارت کے بارے ہی میں سوچتا ہے اور اگر ہر موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے تو آپ اسے الزام نہیں دے سکتے کیونکہ اس کے نزدیک تجارت یا کارخانہ ہر شے پر مقدم ہے۔ ایک تاجر قوم اور ملک کی نیّا کو کبھی پار نہیں لگا سکتا نہ ہی ایسا لیڈر کامیاب ہو سکتا ہے جو تاجروں اور کارخانہ داروں کے جہازوں اور اے ٹی ایم کا محتاج ہو!
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)