کراچی کی نمائندگی صرف جماعت اسلامی ہی کرسکتی ہے،حافظ نعیم

257
وفاقی وصوبائی حکومتیں 1100ارب کے کراچی پیکیج کا حساب دیں، حافظ نعیم

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا ماضی اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کی نمائندگی و قیادت صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی کرسکتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ2001میں جب نعمت اللہ خان سٹی ناظم منتخب ہوئے تو اس وقت کراچی کی صورتحال آج سے زیادہ خراب تھی لیکن نعمت اللہ خان نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مل کر ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے،اس وقت 178یونین کونسل تھیں ہر یونین کے لیے 64لاکھ سے بڑھا کر 1کروڑ روپے کا بجٹ مختص کروایا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ چار سال کے عرصے میں 18ماڈل پارکس بنائیں، 35فیصدسڑکیں نئی تعمیر کروائیں، فلائی اوورز اور انڈر بائی پاس بنوائے،چار سال میں شہر کا پورا نقشہ بدل کررکھ دیا لیکن 2005کے بعد پھر سے کراچی ایسے لوگوں کے ہاتھ آگیا،جنہوں نے کراچی کی رونقیں چھین لی اور اس وقت سے لے کر آج تک کراچی مزید تباہی و بربادی کی طرف جارہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ نعمت اللہ خان نے پانی کا کے تھری منصوبہ 100ملین گیلن مکمل کیا جو کہ طے شدہ لاگت سے کم میں مکمل کیا گیا،کراچی کی ہر آبادی میں منصفانہ طریقے سے پانی کی ترسیل کا نظام بنایا اور مزید پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کے فور منصوبہ پیش کیا اس کے بعد 17سال گزرگئے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ  نہ پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن او ر نہ ہی ایم کیو ایم کسی نے بھی کے فورمنصوبہ مکمل نہیں کروایا،کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام آج پانی کے بحران کا شکار ہے اس کی سب سے بڑی وجہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم،ٹینکر مافیا کے ذریعے وڈیروں اور جاگیرداروں کو بھتہ پہنچانا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کے فور منصوبہ کے حوالے سے کوئی بھی سیاسی جماعت سنجیدہ نہیں ہے، وفاق اورصوبہ دونوں مل کر کراچی کے عوام کو بیوقوف بنارہے ہیں،موجودہ حکومت نے کے فور منصوبہ کے لیے 98ارب روپے منظور دے دی اور رواں سال ماہ جولائی سے جون 2023کے لیے 20ارب روپے کی ادائیگی کردی بقیہ  مد ت میں 78ارب روپے وفاقی حکومت کہاں سے ادا کرے گی؟