جماعت اسلامی کا بد ترین لوڈ شیڈنگ اور پانی بحران کیخلاف آج کراچی بھر میں مظاہروں کا اعلان

112

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں بڑھتی ہوئی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور پانی کی عدم فراہمی پرکے الیکٹرک اور واٹر بورڈ کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت جمعہ13مئی کو شہر بھر میں سیکڑوں مقامات پر مظاہرے کیے جائیں گے ،48گھنٹے میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی گئی تو کے الیکٹرک کے خلاف ہیڈ آفس پر دھرنا دیا جائے گا ۔ حقوق کراچی تحریک کو مزید تیزکیا جائے گا،پہلے ہی کراچی میں پانی کا بڑا بحران اور مسئلہ ہے اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے ، وفاقی وزیر خرم دستگیر کے اعلان کے مطابق یکم مئی سے پورے ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم کردی گئی ہے ، وفاقی وزیر بتائیں کہ کیا کراچی پاکستان کا حصہ نہیں ہے ؟ وفاقی و صوبائی حکومتیں اورتمام حکمران جماعتیں کراچی کے مسائل کو حل ہی نہیں کرنا چاہتی ہیں اس لیے کراچی کے عوام کو چاہیے حقیقی اور دیانت دار قیادت کا ساتھ دیں ، تمام حکمران پارٹیوں نے کے الیکٹرک کی حمایت کی ہے لیکن جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف ہمیشہ آواز اُٹھائی ہے اور کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کی ترجمانی کی ہے ،ہمارا مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک سے42ارب روپے جو کلا بیک کی مدمیں وصول کیے گئے انہیں کراچی کے صارفین کو واپس کیا جائے ، اس کا 17سال کا فرانزک آڈٹ کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر نائب امرا کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، انجینئر سلیم اظہر،رکن سندھ اسمبلی و امیر ضلع جنوبی سید عبد الرشید ، کے الیکٹرک کمپلینٹ سیل کے نگران عمران شاہد ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ اس وقت شہر میں شدید گرمی اور ہیٹ ویوز جاری ہیں لیکن اس کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے12سے14گھنٹے کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے، ان میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جنہیں کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ سے مستثنا کہتی ہے ،کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کو ایک مرتبہ پھر کے الیکٹرک کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا کے اجلاس میں بھی آواز اُٹھائی او ر کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کا مقدمہ لڑا لیکن بدقسمتی سے وفاقی و صوبائی حکومتیں اور حکمران پارٹیاں کے الیکٹرک کی سہولت کار بنی ہوئی ہیں اور مسلسل سبسڈی فراہم کی جارہی ہے ،جب کے ای ایس سی پرائیوٹائز ہوا تھا تو اس وقت کراچی کے صارفین کی تعداد 18لاکھ تھی اور اب 36لاکھ ہوچکی ہے،کے ای ایس سی کو پرائیوٹ اس لیے کیا گیا تھا کہ کے الیکٹرک بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہوگی نیشنل گرڈ سے بجلی نہیں لی جائے گی ،2004ء میں کے ای ایس سی9340ملین یونٹ بجلی پیدا کرتی تھی اور اب 17سال گزرنے کے بعد صرف 17فیصد بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا جوکہ 10938ملین یونٹ بنتے ہیں ،2005ء میں مینٹی نینس کے اخراجات 4210ملین تھے جوکہ اب 17سال گزرنے کے بعد66641ملین ہوگئے ہیں ،کے الیکٹرک نے مینٹی نینس چارجز میں 1300فیصد اضافہ کیا ہے ، کے الیکٹرک کا منافع 220فیصد بڑھ گیا لیکن کراچی میں لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی اووربلنگ ختم کی گئی بلکہ تیز میٹر لگادیے گئے ہیں اور عوام کو لوٹا جا رہا ہے ،نیپرا، کے الیکٹرک اور حکومت کا اتحاد بنا ہوا ہے ،کے الیکٹرک وفاق کے تحت ہے ، نواز لیگ ،پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی اورایم کیو ایم وفاق میں حکومت کرتی رہی ہیں لیکن انہوں نے ہمیشہ کے الیکٹرک کو سپورٹ کیا اورکراچی کے عوام کو کوئی سہولت نہیں دی گئی ،ہمیں بتائیں کہ 66641ملین روپے مینٹی نینس کے نام پر کہاں خرچ کیے جارہے ہیں ؟انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی بدترین کارکردگی اس بات کی علامت ہے کہ گزشتہ 17سال میں تمام حکومتوں نے کے الیکٹرک کو مکمل سپورٹ کیا ،انہی حکمرانوں اور بدقسمتی سے کراچی سے مینڈیٹ لینے والی پارٹیوں کی سپورٹ سے ہی ایک پرائیویٹ کمپنی نے شہر میں مافیا کی شکل اختیار کرلی ہے ،گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور اب میٹرک کے طلبہ کے امتحانات بھی ہونے والے ہیں ،طلبہ کس وقت پڑھائی کریں گے ، گھروں میں خواتین ، بچے ، بزرگ ،فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والا مزدور اور دکانوں میں کام کرنے والے شہری بد ترین صورتحال سے دوچار ہیں، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی کے باہر 29دن کا تاریخی دھرنا دیا اور کراچی کے میئر کو بااختیار کرنے کی تحریک چلائی لیکن اب ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی ایک ہوگئے ہیں اور ایک بار پھر کراچی کو بااختیار نہیں کرنا چاہتے ،ہمارا واضح مؤقف ہے کہ جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی ایک ایک شق پر عمل کیا جائے اور سندھ اسمبلی سے قانون پاس کرایا جائے ۔