خلافت عثمانیہ کی طرح پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دی جارہی ہے

400

کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید)خلافت عثمانیہ کی طرح پاکستان کونقصان پہنچانے کے لیے اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دلوائی جارہی ہے‘آئی ایم ایف کی خواہش پر اسٹیٹ بینک آرڈیننس منظور ہوا تو ملک ٹوٹ سکتا ہے‘ پولیس اور فوج کوتنخواہ بھی نہیں دی جاسکے گی‘گورنرمرکزی بینک کا انتخاب پارلیمنٹ کرے‘شرح سود بڑھنے سے ملک کی معاشی پیداوار بہت متاثر ہو گی‘ مہنگائی بڑھے گی ۔ان خیالات کا اظہار ماہر معیشت قیصر بنگالی، ڈاکٹر شاہد حسن، ڈاکٹر حفیظ پاشا، سابق وزیرِ خزانہ اور ریونیو عبدالحفیظ شیخ ، میاں زاہد حسین، سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری شارق ووہرا نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کی آڑ میں اس پر قبضہ کر رہا ہے؟‘‘قیصر بنگالی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آرڈیننس منظور ہوا توخدانخواستہ ملک ٹوٹ جائے گا‘ آرڈیننس آگیا تو ریاست مفلوج ہوجائے گی‘ ریاست کے پاس پولیس اور فوج کوتنخواہ دینے کو بھی پیسے نہیں ہوں گے‘ سلطنت عثمانیہ بھی ایسی شرط لگا کر توڑی گئی تھی‘ اسٹیٹ بینک کی بے پناہ خودمختاری ملکی سالمیت کے لیے خطرناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ اس سوال سے” آڑ ” کا لفظ نکال دیں اور صرف یہی کافی ہے کہ “آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک پر قبضہ کر رہا ہے۔” اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا مطلب یہ ہے اب ہماری حکومت کا اسٹیٹ بینک خلافتِ عثمانیہ کا بینک بنایا جا رہا ہے۔ عالمی سہوکاروں نے سلطنت عثمانیہ کو مالی لحاظ سے بے اختیار کردیا تھا اور اب یہی کھیل پاکستان میں کھیلا جا رہا ہے‘ اگلے 3 سے 6 ماہ میں شرح سود بڑھ سکتا ہے‘ جس سے بینکوں کی جانب سے دیا جانے والا قرضہ زاید شرح سود پر دیا جائے گا جو تیار کردہ مصنوعات کی لاگت کو بڑھا دے گا‘ اسی طرح آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجلی کے نرخ میں اضافہ اگلے3 برس تک کیا جاتا رہے گا اور بجلی کے نرخ میں ہونے والا اضافہ عام آدمی کو بری طرح متاثر کرے گا‘ حکومت300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو ہمیشہ سبسڈی دے کر اضافے کے اثر کو زائل کرتی رہی ہے تاہم آئی ایم ایف مختلف شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ چاہتا ہے جس میں300 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو دی جانے والی سبسڈی بھی شامل ہے۔ڈاکٹر شاہدحسن نے کہا کہ یکم جولائی 1948ء کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہو ئے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ”اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک کی مالیاتی خودمختاری کی علامت ہو گا لیکن آج اس علامت کو آئی ایم ایف چھین کر عالمی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر ر ہا ہے‘ گورنر اسٹیٹ بینک ایسٹ انڈیا کمپنی کا وائسرائے بن جائے گا اور اسی طرح پریشان کرے گا جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کے ارکان کرتے تھے اور اگر کسی نے مداخلت یا احتجاج کی کوشش کی تو اس کے یہاں بھی “جلیاں والا باغ سانحے” کا سامنا کرنا پڑے گا‘ اس طرح سے دنیا کی واحد مسلم ایٹمی قوت کو معاشی طور پر تباہ کر دیا جائے گا‘ اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ اس کو قانونی تحفظ بھی دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی بے پناہ خود مختاری کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک ملکی معیشت کو مکمل طور پر کنٹرول کر سکے گا‘ حکومت نے اس سال افراط زر کا ٹارگٹ 7 سے 9 فیصد کے درمیان رکھا تھا تاہم اب تک اوسطاً افراط زر کی شرح 8 سے 9 فیصد کے درمیان چل رہی ہے اور آنے والے دنوں میں یہ 10 فیصد کی شرح پر پہنچ سکتی ہے‘ اس بات کا امکان ہے کہ اسٹیٹ بینک آنے والے مہینوں میں شرح سود میں اضافہ کر دے گا‘ آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے کلیدی شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری رکھا ہے جن میں ا سٹیٹ بینک کی خود مختاری، پاور سیکٹر میں اصلاحات، کارپوریٹ ٹیکس وغیرہ شامل ہیں‘ پاکستان میں شرح سود اس وقت 7 فیصد ہے جو کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پہلے13.25 فیصد تھی تاہم دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں شرح سود ابھی بھی بلند سطح پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بجلی کی قیمت کے علاوہ ملک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف شرائط کے تحت شرح سود میں اضافہ کر ے گا تواس سے ملک کی معاشی پیداوار بہت متاثر ہو گی تاہم آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے اسے بڑھانا پڑے گا‘ ان شرائط کے تحت اسٹیٹ بینک کو زیادہ خودمختاری حاصل ہو جائے گی اور وہ یہ اقدامات اٹھائے گا۔ سب سے زیادہ اثر17 سے20 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے افراد پرہو گا تاہم انہوں نے تجویز دی کہ حکومت اپنے احساس پروگرام کے تحت بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کم آمدنی والے افراد کے لیے ایک، دو ہزار روپے ادا کر کے زائل کر سکتی ہے۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی بے پناہ خودمختاری ملک کی اقتصادی بقا اور سلامتی کے لیے ضروری ہے اور یہ سب کچھ حکومتِ پاکستان کی اجازت اور قانونی پیچیدگیوں کو ختم کر کے کیا گیا ہے‘ ان ترامیم سے اسٹیٹ بینک آزادانہ ماحول میں شرح سود کا تعین کرسکے گا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے لیے اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے گورنر اسٹیٹ بینک کا انتخاب کیا جاتا ہے تو اس صورت میں اسٹیٹ بینک کی خودمختاری میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن اگر حکومت خود انتخاب کرتی ہے تو اس سے ملک کی اقتصادی بقا اور سلامتی کو نقصان کا خدشہ ہے‘ حکومت کی طرف سے مرکزی بینک سے بے تحاشہ قرض لینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اس سے افراط ِ زر میں اضافہ ہو تا ہے ۔شارق ووہرا نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو خود مختار ہونا چاہیے لیکن بے لگام نہیں‘ آئی ایم ایف یہ چاہتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک مرکزی بینک کے بورڈ میں اپنی مرضی کے ارکان کو رکھیں‘ اس سے اسٹیٹ بینک خود مختار نہیں بے لگام ہو جائے گا۔