بلدیاتی قانون کیخلاف جماعت اسلامی کے شہر بھر میں دھرنے ،کالا قانون مسترد

243
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن بلدیاتی بل کی منظوری کیخلاف کے ایم سی بلڈنگ کے باہر دھرنے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت سندھ حکومت کی وڈیرہ شاہی آمریت مسلط کرنے ، شہری اداروں پر قبضے اور کراچی دشمن کالے بلدیاتی قانونی کے خلاف بدھ کو کراچی بھر میں 11مقامات پر احتجاجی دھرنے دیے گئے ، جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے آئین مخالف اقدامات اور غیر جمہوری رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متنازع بلدیاتی ترمیمی بل 2021ء کو فی الفور واپس لینے ، بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی طور پر خود مختار بنانے اور کراچی کو میگا میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ دیتے ہوئے بااختیار شہری حکومت کے قیام کے لیے از سر نو قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کے ایم سی ہیڈ آفس ایم اے جناح روڈ جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے کورنگی ڈی سی آفس پر احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے منظور کردہ بلدیاتی ترمیمی بل آئین کے آرٹیکل 32اور 140-Aکے خلاف ہے،ترمیمی بل کی اسمبلی سے جبری منظور ی کراچی کے عوام کو غلام بنانے اور شہری اداروں پر قبضے کی کوشش ہے ، یہ بل کراچی کے وسائل پر ڈاکا اورلوٹ مار کا گھنائونا کھیل ہے جسے عوام مسترد کرتے ہیں ، آج کراچی بھر میں دیے گئے دھرنے پیپلز پارٹی کی آمرانہ سوچ، فسطائیت اور کراچی پر قبضہ کرنے کے خلاف ہیں۔ کل بروز جمعہ 3دسمبر کو اسی حوالے سے پورے شہر میں یوم سیاہ منایا جائے گا اور سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہوں گے جبکہ اتوار 12دسمبر کو کراچی میں ایک بھر پور اور تاریخی ’’ کراچی بچائو مارچ ‘‘کیا جائے گا ،جعلی بل کے خلاف لاڑکانہ، جیکب آباد اور دیگر اندرون سندھ کے شہر ی بھی سڑکوں پر موجود ہیں اور احتجاج کررہے ہیں۔اس موقع پر ضلع جنوبی کے امیر و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آمرانہ سوچ رکھنے والوں نے اسمبلی کے ارکان کو مسودہ دکھائے بغیر ہی منظور کرالیا،پیپلز پارٹی میں جمہوریت کہیں بھی موجود نہیں، وراثت پر پارٹی کو چلایا جارہا ہے۔آئین کی مالا جپنے والوں نے آئین کی براہ راست خلاف ورزی کی۔چند برس میں پیپلز پارٹی پر وڈیروں اور جاگیرداروں کاقبضہ ہوگیا ہے، وڈیروں کی طاقت سے اسمبلی کے ممبر بن جانا جمہوریت نہیں۔پیپلز پارٹی سندھ میں آبادی کی بات تو کرتی ہے لیکن کراچی کی آبادی پر کوئی بات ہی نہیں کرتی۔ اس پارٹی کو کراچی سے کوئی سروکار ہی نہیں،پیپلز پارٹی مسلسل 14 سال سے سندھ پر مسلط ہے لیکن اس نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا ،کراچی کے عوام کے ساتھ مل کر سندھ حکومت کے عزائم ناکام بنائیں گے اور کراچی پرشب خون ہر گز نہیں مارنے دیں گے ، ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شریک رہی ہے اور اس کی موجودگی میں پہلے ہی بلدیاتی اداروں کے اختیارات کم کیے گئے ، ایم کیو ایم نے ہمیشہ جاگیرداروں کو سپورٹ کیا ہے ، بابائے کراچی عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے کراچی کی مثالی خدمت کی ہے اور عوام کے لیے تاریخی پروجیکٹس بنائے ، نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کی سٹی حکومت نے 4ارب کے بجٹ کو 42ارب تک پہنچایا ۔ K-3کا منصوبہ شروع کر کے مکمل کیا اور K-4پر کام شروع کیا مگر بد قسمتی سے بعد میں آنے والی سٹی حکومت نے اس منصوبے کو سندھ حکومت کے ساتھ مل کر التوا کا شکار کر دیا۔ گرین لائن بس پروجیکٹ کو شروع ہوئے 6سال کا عرصہ ہو گیا ہے ، نواز لیگ کی حکومت نے اپنے دور حکومت میں اسے ادھورا چھوڑا ، 3سال سے زاید عرصہ ہو گیا پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی اسے تاحال مکمل نہیں کیا ۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے بھی K-4 منصوبے کی طرح گرین لائن پروجیکٹ میں بھی اپنے حصے کا کام نہیں کیااور عوام کو ان سہولیات سے محروم رکھا ۔ وفاقی وزرا کی طرف سے تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے، 80بسیں بھی آگئی ہیں لیکن ابھی تک چلنا شروع نہیں ہوئی ہیں ۔ کراچی کے عوام کو جھوٹے وعدوں اور پیکجز کے نام پر بے وقوف بنایا جارہا ہے ، اب یہ عمل بند کرنا ہو گا ۔ کراچی کے3 کروڑ سے زاید عوام کو ان کا جائز اور قانونی حق دینا ہو گا ۔ علاوہ ازیں اسٹار گیٹ شارع فیصل ،پاور ہاؤس چورنگی نارتھ کراچی ،واٹر پمپ چورنگی فیڈرل بی ایریا ،ڈالمن مال حیدری نارتھ ناظم آباد ،اورنگی ٹاؤن پونے 5 چورنگی ،مین شیر شاہ روڈ ،بندر روڈ، حسن اسکوائر،پرانی سبزی منڈی نزد عسکری پارک ،ڈی سی آفس کورنگی ڈھائی ڈبل روڈ ،ڈی سی آفس مین قائد آباد پر بھی احتجاجی دھرنے دیے گئے جن سے ا میر ضلع ائر پورٹ توفیق الدین صدیقی ، امیر ضلع شمالی محمد یوسف ، امیر ضلع گلبرگ وسطی فاروق نعمت اللہ ، امیر ضلع وسطی وجیہ حسن ، امیر ضلع غربی مولانامدثر حسین انصاری ، امیر ضلع کیماڑی مولانا فضل احد ، نائب امیر ضلع شرقی انجینئر عزیز الدین ظفر ، امیر ضلع کورنگی عبد الجمیل خان ، امیر ضلع ملیر محمد اسلام اور دیگر نے خطاب کیا ۔ مقررین نے سندھ حکومت کے کراچی دشمن اقدامات ، بلدیاتی اداروں کو صوبائی حکومت کے مزید تابع بنانے اور کراچی پر آمرانہ و جاگیردارانہ قبضے کی کوششوں کے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت کو متنبہ کیا کہ ان کالے قوانین کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ جماعت اسلامی 3 کروڑ سے زاید عوام کی بھر پور ترجمانی کرے گی اور اہل کراچی کو ان کا جائز اور قانونی حق دلانے کی جدو جہد جاری رکھے گی ۔ دھرنے کے شرکا نے سندھ حکومت کے اقدامات اور متنازع بلدیاتی ترمیمی بل2021ء کے خلاف پر جوش نعرے لگائے ، شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز بھی اُٹھائے ہوئے تھے، جن پر تحریر تھا’’ کراچی کے اداروں پر وڈیرہ شاہی قبضہ نامنظور،3 کروڑ انسانوں کو غلام بنانے کا قانون واپس لو،سندھ بلدیاتی بل کراچی کے حق پر ایک اور ڈاکا،کراچی پر قبضے کا کالا قانون نامنظور‘‘۔