سندھ حکومت نے 11 وفاقی افسران کو چارج چھوڑنے سے روک دیا

155

کراچی (رپورٹ: محمد انور) حکومت سندھ نے روٹیشن پالیسی کے تحت وفاقی حکومت کے 11 پی ایس پی اور پی اے ایس افسران کو موجودہ عہدوں کا چارج چھوڑنے سے روک دیا۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سندھ ہدایت مراد علی شاہ کی ہدایت پر محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے 29 نومبر کو مراسلہ بھی جاری کردیا ہے۔ یہ سرکلر 11 افسران کو عملدرآمد کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ اس سرکلر میں ہدایت کی گئی ہے کہ تا حکم ثانی کوئی بھی افسر میں موجودہ پوسٹ کا چارج نہیں چھوڑے گا۔
بصورت دیگر ہدایت کی خلاف ورزی کے مرتکب افسران سے جواب طلب کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ 25 نومبر کو وفاقی حکومت نے پاکستان ایڈمنسٹریشن سروس کے 4 اور پولیس سروس آف پاکستان کے 7 افسران کے کراچی سمیت صوبہ سندھ سے تبادلے کے احکامات جاری کیے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے آفیسرز کی کمی کی وجہ سے وفاقی حکومت کے یہ احکامات ماننے سے فوری انکار کردیا تھا۔ تاہم اب وہ احکامات پر عمل درآمد کرنے سے روکنے کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔ان افسران میں پی اے ایس گروپ کے سید حسن نقوی،زاہد علی عباسی،ڈاکٹر کاظم جتوئی،خالد حیدر شاہ،پی ایس پی گروپ کے عبداللہ شیخ ، نعمان صدیقی،نعیم احمد شیخ،عمر شاہدحامد، لیفٹیننٹ ریٹائرڈ مقصود احمد،جاوید اکبر ریاض اور ثاقب اسماعیل میمن شامل ہیں۔ خدشہ ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے گریڈ 20 کے مذکورہ افسران کے تبادلے کے حکم پر عملدرآمد نہ کرائے جانے سے وفاق اور صوبے کے درمیان چپقلش بڑھ جائے گی۔