ریاست مذاکرات کرکے لوگوں کو چھوڑ رہی ہے،عدالت عظمیٰ

57

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے منافرت پھیلانے اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت گرفتار پشتون تحفظ موومنٹ رہنما و رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ضمانت چار لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض قبول کر لی ہے۔ درخواست ضمانت کی سماعت سماعت جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت وکیل ملزم نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ علی وزیر نے تقاریر میں صرف شکایت کی تھی،علی وزیر کی
پشتو تقریر پر سندھی پولیس افسر نے مقدمہ کیسے درج کر لیا؟اس موقع پرپراسیکوٹر جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ علی وزیر پر اس طرح کے اور بھی مقدمات ہیں، جس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا دیگر کیسز میں ضمانت ہوگئی ہے؟ پراسیکوٹر جنرل سندھ نے بتایا کہ علی وزیر کی کسی اور مقدمہ میں ضمانت نہیں ہوئی۔جسٹس سردار طارق نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ کسی اور کیس میں ضمانت نہیں ہے تو اسے سنبھال کر رکھیں،علی وزیر پر دہشتگردی کا مقدمہ نہیں بنتا، وہ دفعہ کیوں لگائی ہے؟ریاست مذاکرات کرکے لوگوں کو چھوڑ رہی ہے،ہو سکتا ہے کل علی وزیر کیساتھ بھی معاملہ طے ہو جائے،لوگ شہید ہو رہے ہیں کیا وہاں قانون کی کوئی دفعہ نہیں لگتی ؟کیا عدالت صرف ضمانتیں خارج کرنے کیلیے بیٹھی ہوئی ہے؟جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا علی وزیر کے الزامات پر پارلیمان میں بحث نہیں ہونی چاہیے؟ علی وزیر نے شکایت کی تھی اسکا گلہ دور کرنا چاہیے تھا،اپنوں کو سینے سے لگانے کے بجائے پرایا کیوں بنایا جا رہا ہے؟علی وزیر کا ایک بھی الزام درست نکلا تو کیا ہوگا؟شریک ملزمان کیساتھ رویہ دیکھ کر گڈ طالبان بیڈ طالبان والا کیس لگتا ہے، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ریکارڈ سے واضح ہے کہ مقدمہ ترجمہ کرانے کے بعد درج ہوا ہے۔بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایم این سے علی وزیر کی ضمانت چار لاکھ کے مچلکوں عوض منظور کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے۔