گلستان جوہر میں پولیس کی ملی بھگت سے خاتون کے گھر پرقبضہ

190

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جوہر ویلفیئرسرکل گلستان جوہر کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں گلستان جوہر کے مختلف بلاکس میں قبضہ گروپ مافیا کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیاہے۔ گلستان جوہر 97.C بلاک 8 میں عصمت جہاں نامی خاتون 14 سال سے اس مکان میں مقیم ہیں ان کے مکان میں راشد نامی شخص جو قبضہ گروپ کا سرغنہ ہے جس کو گلستان جوہر تھانے کے SHO شاہد بلوچ کا مکمل تعاون حاصل ہے اس کے کارندے ایس ایچ او کی ہدایت پر زبردستی گھر میں گیٹ پھلانگ کر داخل ہوئے اور گھر میں توڑ پھوڑ کی اور مطالبہ کیا کہ گھر کی فائل ان کے حوالے کردیں ۔ ایس ایچ او کا حکم ہے مزاحمت کرنے پربیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کو بٹھا کر تھانے لے گئے میں نے ایس ایچ سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو مجھے ہراساں کیا اور مجھ سے زبردستی بیان لکھوایا گیا اور مذکورہ مکان کی فائل فوری ان کے حوالے کرنے کو کہا گیا۔مجھے اور تمام اہل خانہ کو ہراساں کیا جارہا ہے اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جس کی ایف آئی آر انسپکٹر جنرل پولیس آئی آئی چندریگر روڈ کراچی میں 11اکتوبرکو درج کرا دی ہے جس میں اپنی اور اہل خانہ کے تحفظ کی درخواست کی ہے لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوئی ہے مذکورہ تھانے کا ڈیوٹی آفیسر اب بھی خاتون خانہ کو دھمکیاں دے رہا ہے مکان کے کاغذات لانے کا مطالبہ کررہاہے اور نہ دینے کی صورت میں نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہا ہیے۔اس کا فون نمبر۔03112443720 ہے۔جوہر ویلفیئر سرکل کی جانب سے آی جی سندھ، وزیر اعلی سندھ اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ خاتون کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے اور گلستان جوہر تھانے کے SHO شاہد بلوچ کو فوری معطل کرکے غیر قانونی سرگرمیوں میں قبضہ مافیا کی اعانت کرنے پر قرار واقعی سزا دی جائے اور گلستان جوہر میں قبضہ گروپ کی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔