صدر ہائیکورٹ بارکیخلاف توہین عدالت کیس کاتحریری حکم نامہ جاری

42

اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں ہائیکورٹ بار کے صدر سمیت25 سے زائد وکلا کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی عدالت سے جاری حکم نامے میں عدالت نے وکلا کو توہین عدالت کیس میں جواب جمع کرانے کے لیے4 اگست تک مہلت دے دی۔ 2 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں کہا گیا کہ رکن اسلام آباد بارکونسل نصیر احمد کیانی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی نائب صدر فرزانہ فیصل خان نے اپنے جواب میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی۔ نصیر احمد کیانی اور فرزانہ فیصل خان کی حد تک عدالت مناسب موقع پر حکم جاری کرے گی۔ وکیل نوید حیات ملک کا جواب غیر مشروط معافی کے معیار پر پورا نہیں اترتا، ان کی حد چارج فریم ہو گا، غیر مشروط معافی مانگنے یا نہ مانگنے سے متعلق سوچنے کے لیے زاہد محمود راجا نے مہلت کی استدعا کی۔ زاہد محمود راجا نے کہا کہ دیگر وکلا کو بھی جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیا جائے۔ عدالت4 اگست تک وکلا کو اپنے جواب جمع کرانے کا وقت دے رہی ہے۔