حماس اور اخوان المسلمون کی جمہوری تحریک نے مطلق العنان عرب حکمرانوں کو چیلنج کیا

98

کراچی رپورٹ :قاضی جاوید

حماس اور اخوان المسلمون کی جمہوری تحریک نے مطلق العنان عرب حکمرانوں کوچیلنج کیا‘ حکمرانوں نے اسلامی شدت پسندی میں اضافے کا بہانا بنا کر اپنے اقتدار کو مضبوط کیا‘امریکا پسند نہیں کر تا ‘ اسرائیل ان دونوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے‘ اسلام کی شورائی جمہوریت کو عرب حکمران نافذ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہارروز نامہ 92نیوز کے گروپ ایڈیٹرسید ارشاد احمد عار ف،سابق وفاقی وزیر این ڈی خان اورسینیٹر تاج حیدر نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’عرب ریاستوں کے حکمران اخوان المسلمون اور حماس کے دشمن کیوں ہیں؟‘‘ سید ارشاد احمد عار ف نے کہا کہ حماس اور اخوان المسلمون کوامریکا پسند نہیں کر تا ‘ اسرائیل ان دونوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور عرب حکمران ان کی شہرت سے خوفزدہ ہیں‘ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے محمد مرسی کی حکومت کو ختم کر نے میں اپنا کر دار ادا کیا اور آخر کار وہ ظلم کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو ئے‘ وہ ایک جمہوری صدر تھے اور ان کی حکومت کو سعودی عرب نے بے یار و مدد گار چھوڑ دیا تھا لیکن جیسے مرسی حکومت ختم ہوئی اور جنرل عبدالفتاح السیسی کی حکومت آئی اس کو8 ارب ڈالر اور تیل کی امداد دی گئی جس سے السیسی کی حکومت کو مضبوط ہونے کا موقع ملا‘ آج بھی حماس اخوان المسلمون کی فکر اور نظریات سے منسلک ہے‘ نظریاتی طور پر اخوان المسلمون کا حصہ ہونے کے باوجود حماس ایک آزاد فلسطینی تنظیم ہے‘ حماس پہلے بھی مختلف عرب ممالک میں موجود رہی ہے‘ بغداد سے بیروت اور قاہرہ سے یروشلم تک جمہوریت کی لہریں اخوان المسلمون کی حمایت کرتی ہیں اور یہی صورتحال خطے کے مطلق العنان حکمرانوں کو پریشان کر رہی ہیں‘ اخوان المسلمون اور حماس نے مشرق وسطٰی میں معاشرتی تحریک برپا کر رکھی ہے جس نے حکمرانوں کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے‘ عرب عوام مطلق العنان حکمرانوں سے تنگ آ چکے ہیں‘ ان حکمرانوں نے وعدہ تو ہمیشہ جنت کا کیا لیکن جب دینے کی باری آئی تو اپنے لوگوں کو سوائے خاک و خون اور ظلم کے کچھ نہیں دیا‘ مشرق وسطٰی میں مغرب کی جانب سے غیر جمہوری حکومتوں کی حمایت کے تاریخی اسباب بھی ہیں‘ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے پر ان ممالک میں جن لوگوں نے حکومتیں سنبھالیں ان میں سے اکثر کا تعلق فوج یا سیکورٹی اداروں سے تھا اور ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کے اداروں کی فطرت میں ہی درجہ بندی، سختی اور نہ سننے کی عادت ہوتی ہے‘ نوآبادیاتی ریاستوں نے ہمیشہ معاشرتی اداروں کے بجائے فوج اور سیکورٹی کے اداروں کو مضبو ط کرنے پر توجہ دی کیونکہ ان کا اولین مقصد مقامی لوگوں کو کنٹرول کرنا تھا‘ اخوان المسلمون اور حماس ایسے تمام نظاموں کے خاتمے کے لیے جدوِجہد کر رہے ہیں اور یہی سب سے بڑی دشمنی کی وجہ ہے۔ تاج حیدر نے کہا کہ عرب حکمرانوں کو اخوان المسلمون سے نہیں بلکہ صرف اور صرف جمہوریت سے دشمنی ہے‘ اگرچہ عرب دنیا میں ان تبدیلیوں کی صحیح نوعیت کے بارے میں کسی قسم کے حتمی نتائج نکالنا قبل از وقت ہوگا لیکن یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ عرب دنیا میں سِول سوسائٹی یا معاشرتی گروپ مضبوط ہو رہے ہیں اور سیاسی بیداری کی ایک تڑپ پیدا ہو چکی ہے‘ پچھلی صدی کے دوران 50 اور 60 کی دھائیوں میں مصر، شام، عراق، سوڈان اور لیبیا سمیت کئی عرب ملکوں میں جوان فوجی افسروں نے بغاوتیں کیں اور برطانیہ اور فرانسیسی آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والی حکومتیں کو اقتدار سے باہر کر دیا‘ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سامراجی حکومتوں نے ان ممالک میں لوگوں کو آئینی اور جمہوری انداز حکومت سے کتنا دور رکھا ہوا تھا‘ مرسی کی منتخب حکومت کو صر ف جنرل عبدالفتاح السیسی نے نہیں بلکہ پورے عالم عرب نے ختم کیا‘ گزشتہ عشرے کے دوران مشرق وسطٰی میں حکومتوں کے بگڑتے ہوئے معاشی حالات کی وجہ سے عوام کی مایوسی میں مزید اضافہ ہو چکا ہے‘ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان ممالک میں غیر ملکی آقائوں کی پسندیدہ حکومتوں کے خاتمے سے سب سے زیادہ فائدہ اسلام پسند طاقتوں کو ہوا ہے‘ اسلام پسند ان ممالک میں سب سے زیادہ مقبول گروپ کے طور پر سامنے آئے ہیں‘ ان میں اخوان المسلمون اور حماس بہت اہم ہیں‘ ان کی اس کامیابی کا راز اس بات میں ہے کہ انہوں نے عوام کی بروقت معاشی اور معاشرتی مدد کی‘ حکمران لوگوں کے اصل مسائل حل نہیں کرسکے‘ حکمرانوں نے اسلامی شدت پسندی میں اضافے کا بہانا بنا کر اپنے اپنے اقتدار کو مضبوط کیا اور ابھی بھی یہی کر رہے ہیں۔این ڈی خان نے کہا کہ رسول اللہ اور خلفائے راشدین نے عوام کے لیے شورائی نظام قائم کیا تھا لیکن آج تک مسلمانوں میں جمہوریت کو عروج حاصل نہیں ہو سکا‘ اسی لیے محمد مرسی کی منتخب حکومت کی مخالف ہوئی اور آخر کار ان کو قتل کر دیا گیا‘ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عربوں میں کبھی جمہوریت رہی ہی نہیں ہے اور مسلمانوں نے ہمیشہ بڑی بڑی حکومتیں قائم کی ہیں جیسے خلافتِ عثمانیہ اور ہندوستان میں بادشاہت اور عرب میں بھی چھوٹی چھوٹی بادشاہت قائم کی گئی ہے اسی لیے وہاں جمہوریت پنپ نہیں سکی ہے ‘ عرب اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کی نظر میں جمہوریت اور مغرب کی سیاسی اجارہ داری، ایک ہی چیز کے 2 نام ہیں‘ ان کی نظر میں جمہوریت کے نام پر مغربی دنیا عرب ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کر کے لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتی ہے تا کہ وہ خود ان پر قبضہ کر سکے۔ عرب ریاستوں کے حکمران اخوان المسلمون اور حماس کے دشمن کیوں ہیں؟ کا جواب یہی ہے کہ اسلام کی شورائی جمہوریت کو عرب حکمران نافذ نہیں کرنا چاہتے ہیں اور اخوان و حماس سے یہی دشمنی ہے کہ وہ جمہوریت کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔