سراج الحق کی اپیل پر کراچی تا چترال مہنگائی و بیروزگاری کے خلاف جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاجی مظاہرے

220
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن مہنگائی ، بیروزگاری و سودی نظام کیخلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے ہیں

کراچی لاہور/سکھر/حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر/نمائندگاہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر ملک بھر میں صوبائی ، ڈویژنل ،ڈسٹرکٹ اور زونل ہیڈکوارٹرز پر مہنگائی ، بیروزگاری کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا ۔ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کے باہر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم ، امیر جماعت اسلامی لاہو ر ذکر اللہ مجاہد ، نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے ملتان، امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے پشین ، کوئٹہ میں ہدایت الرحمن، امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے منڈی بہائوالدین اور امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب رائو محمد ظفر نے ملتان ، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی وسطی پنجاب بلال قدرت بٹ نے گوجرانوالہ، فیصل آباد میں سردار ظفر حسین اورجماعت اسلامی یوتھ کے قائدین نے مہنگائی بے روزگاری کیخلاف احتجاجی مظاہروں کی قیادت اور خطاب کیا ۔ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے منصورہ کے باہر ملتان روڈ پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر میں بجٹ سال میں ایک دفعہ پیش ہوتاہے ، پاکستان وہ بد قسمت ملک ہے جہاں بجٹ کے نام پر عوام پر مہنگائی کے کوڑے روزانہ برسائے جاتے ہیں ۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ حکومت عوام کو مہنگائی کی چکی میں نہ پیسے ۔ حالیہ بجٹ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا بجٹ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ایک طرف حکمران کہتے ہیں کہ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر اور ایکسپورٹ بڑھ گئی ہے لیکن دوسری طرف مہنگائی ، بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے ۔ قوم ملک میں خوشحالی آنے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ بدحالی دیکھ رہی ہے ۔ موجودہ بجٹ میں نجی پاور کمپنیوں کے ٹیرف میں اضافہ اور سرمایہ داروں کے مفاد کے لیے بنایا گیا اور بجلی ، گیس، پیٹرول ، آٹا ، ادویات ا ور دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں سے اربوں روپے ڈکار لیے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ میں پوچھتے ہوں کہ نیب کہاں ہے؟اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ فلاں کو بلالیا فلاں کو بلا لیا، آمدنی سے زائد اثاثوں پر سوال ہوتے ہیں ۔ کہاں ہیں تمہارے اختیارات ، کیا کسی ملزم کو سزا ملی ہے ؟انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کراچی گئے اور وہاں اربوں کے پیکیج کا اعلان کیا مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا ۔ عملاً پی آئی اے ،اسٹیل ملز اور دیگر اداروں کی نج کاری کا اعلان اور سیکڑوں ملازمین کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ ن لیگ اور پی پی صرف اپنے مفاد کے لیے باہر نکلتی ہیں عوام کے مفا د کے لیے نہیں نکلتیں۔امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے اپنے خطاب میں کہاکہ موجودہ حکومت کا بجٹ ظالمانہ اور غریب کش ہے۔ ابھی آئی ایم ایف کے پیش کردہ بجٹ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی کہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے مہنگائی بیروزگاری کے خلاف سڑکوں پر نکلی ہے قوم بھی جماعت اسلامی کا ساتھ دے ۔ اس موقع پر شرکا اور خطاب کرنے والوں میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لاہور انجینئر اخلاق، محمود الاحد ، ضیاء الدین انصاری ، جے آئی یوتھ لاہور کے صدر عبداللہ اعجاز اورامیر جماعت اسلامی غربی عبدالعزیز عابد بھی موجود تھے ۔ علاوہ ازیںسراج الحق کی اپیل پر مہنگائی، بیروزگاری اور سودی نظام کیخلاف ملک کے دیگر حصوں کی طرح سندھ بھر میں جماعت اسلامی کے تحت احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن سے مرکزی، صوبائی اور ضلعی قیادت نے خطاب کیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر ’’بجلی،گیس،پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نامنظور، آئی ایم ایف کی معاشی دہشت گردی نامنظور،عوام دشمن بجٹ نامنظور، حکمرانوایک کروڑ نوکریوں کے بدلے لاکھوں افراد کیوں بیروزگار، لاکھوں گھر دینے کے بجائے لوگوں کو بے گھرکرنے کا جواب دو‘‘ کے نعرے درج تھے جبکہ مظاہرین حکومتی معاشی پالیسیوں اور مہنگائی کیخلاف فلک شگاف نعرے بھی لگارہے تھے۔ حیدرآباد، سکھر،لاڑکانہ،جیکب آباد، شکارپور،کندھ کوٹ، بدین، تھرپارکر، ٹھٹھہ، شہدادکوٹ، کنڈیارو، ٹنڈو الہیار، ٹنڈومحمدخان ، ٹنڈوآدم ودیگرشہروں میں منعقدہ احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھاکہ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی،بیروزگاری اور سودی معاشی دہشت گردی نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے،موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر 3 سالوں میں بجلی، گیس،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور کھانے پینے کی اشیا پر بے تحاشا ٹیکس عائد کرنے کی وجہ سے عام آدمی کے لیے دووقت کی روٹی حاصل کرنا بھی مشکل ہوچکا ہے،بجٹ کے فوری بعد بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ منی بجٹ کی ایک جھلک ہے، آئی ایم ایف اور سودی نظام معیشت سے نجات حاصل کیے بغیر ملکی ترقی اور قوم کی خوشحالی کا خواب کبھی سچا نہیں ہوسکتا۔اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر وسابق ایم این اے اسداللہ بھٹو نے حیدرآبادپریس کلب پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سودی نظام معیشت عالمی مالیاتی اداروں کا اہم ہتھیار ہے،موجودہ حکمران بھی آئی ایم ایف کے چیلے ہیں جن سے عوامی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی،صنعتی اور زرعی شعبے پر چند لوگوں کا قبضہ جبکہ عام مزدور اور کسان کا خون چوسا جارہا ہے، جس ملک میں ظلم اور ناانصافی کانظام رائج ہو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا، اس لیے جماعت اسلامی مہنگائی، بیروزگاری اور سودی نظام کیخلاف تحریک چلارہی ہے، ہماری تحریک تب تک جاری رہے گی جب تک ملک سے ظالمانہ اور جاگیردارنہ نظام کا خاتمہ نہیں ہوجاتا،موجودہ حکمرانوں کے 3 سال مکمل ہونے کو ہیں لیکن ایک کروڑ نوکریوں،50 لاکھ گھروں کا وعدہ ابھی تک وفا نہیں ہوسکا جبکہ وفاقی کابینہ کے وزراء اور مشیروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز بھی موجودہ حکومت کے عوام دشمن اقدامات میں برابر کی شریک ہیں جس کی واضح مثال حالیہ بجٹ اجلاس میں ان کی خاموش تعاون ہے،تیسری بار وزیرخزانہ کی تبدیلی کے باوجود آج بھی ملک کی معاشی حالت ابتر اور عوام بدحال ہیں۔ صوبائی قائم مقام امیر پروفیسر نظام الدین میمن نے شکار پور پریس کلب پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مہنگائی اور سودی نظام معیشت کی وجہ سے عام آدمی کا جینا دوبھر ہوچکا ہے، جو حکومت عام آدمی کے لیے دوقت کی روٹی کا بندوبست نہ کرسکے اس کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے، عمران حکومت اپنے 3 سالہ دور اقتدار میں عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، اس موقع پر ضلعی امیر عبدالرحمن منگریو،مقامی امیر عبدالسمیع شمس بھٹی نے بھی خطاب کیا۔ صوبائی نائب امیر ممتاز حسین سہتو نے کنڈیارو پریس کلب پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد سے سودخور حکمرانوں کو بھگانا ہوگا جو عالمی معاشی دہشت گرد آئی ایم ایف کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، سودی معاشی نظام میں مزدور، کسان اور متوسط طبقے کا مستقبل تاریک اور ترقی کے تمام راستے بند کردیے گئے ہیں، موجودہ اور سابق حکمرانوں نے فقط اپنی نسل کو معاشی لحاظ سے مضبوط اور عوام کو بے حال کیا ہے، سود کا نظام دستور پاکستان کیخلاف ہے جس کو مزید جاری رکھنا آئین پاکستان کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ اس موقع پر ضلعی امیر شبیر خانزادہ ایڈووکیٹ ،مولانا ہاشم لاشاری، مولانا عبداللہ میتلو اور محمود اجن نے بھی خطاب کیا۔ صوبائی نائب امیر حافظ نصراللہ عزیز نے لاڑکانہ پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی، بیروزگاری،شدید گرمی میں 18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی خوشیاں اور مسکراہٹیں بھی چھین لی ہیں،عام آدمی روٹی کے لیے پریشان لیکن حکمرانوں نے بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے،ملک میں قانون سازی کو مذاق بناکر رکھ دیا گیا،عوام کو چاہیے کہ اب کرپٹ، نااہل اور بے حس حکمرانوں سے نجات کے لیے جماعت اسلامی کی بے داغ اور دیانتدار قیادت کا ساتھ دیں تاکہ ملک ترقی اور عوام کے مسائل حل ہوسکیں۔شہداد کوٹ میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے صوبائی جنرل سیکرٹری کاشف سعید شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کا تسلسل اور کورونا کے دور میں بیروزگاری کی وجہ سے عام آدمی نہ جی سکتا ہے نہ مرسکتا ہے، نوکریاں،روزگار اور نئے گھر دینے کے دعوے کرنے والی تبدیلی حکومت کے دور میں آئے روز کھانے پینے کی اشیا،بجلی،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل جاری ہے، عوام کو چاہیے کہ کرپٹ اور سودی نظام کے رکھوالوں کو اب گھر بھیجے ورنہ سودی معاشی نظام اور کرپشن کی وجہ سے ہمارا حال بھی صومالیہ جیسا ہوسکتا ہے۔دریں اثنا سکھر میں سلطان لاشاری، جیکب آباد میں عبدالحفیظ بجارانی،حاجی دیدار لاشاری، خیرپور مولاناحزب اللہ جکھرو، عبدالوحید قریشی کوٹری، عبدالقدوس احمدانی، سید علی مردان شاہ بدین، حافظ لعل محمد سولنگی، عامر شیخ ٹنڈومحمد خان، الطاف ملاح، آفتاب ملک مکلی، میرمحمد بلیدی، عبدالسبحان سمیجو مٹھی،تشکیل صدیقی ڈھرکی، جان گل خلجی، عبداللہ بلوچ کندھ کوٹ میں منعقدہ احتجاجی مظاہروں سے خطاب کیا۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر ملک میں مہنگائی و بے روزگاری وسودی نظام کے خلاف ملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں جماعت اسلامی کراچی کے تحت نیو ایم اے جناح روڈ پر احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرے میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی اور حکومتی ناقص پالیسیوں،مہنگائی و بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف نعرہ تکبیر اللہ اکبر، دور ہٹو امریکی یاروپاکستان ہمارا ہے،دور ہٹو آئی ایم ایف کے یارو۔پاکستان ہمارا ہے،سودی نظام قبول نہیں،امریکی غلامی قبول نہیں،مہنگائی و بے روزگاری کوختم کروکے نعرے لگائے۔مظاہرے کے شرکانے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ لنگر خانے نہیں کارخانے لگاؤ، بے روزگاری ختم کرو۔ نوجوانوں کو روزگار دو، کمر توڑ مہنگائی اور بے روزگاری کب ختم ہوگی؟، بیوروکریسی، جاگیردار اور سرمایہ دار کریں لوٹ مار، عوام تباہ حال اور بے روزگار، 1کروڑ نوکریوں کا وعدہ کہاں گیا؟، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا ایجنڈا نامنظور، جاگیردار۔ سرمایہ دار لوٹ کے کھاگئے پاکستان، عوام پر ظلم کی سیاہ رات کب ختم ہوگی؟، پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں کم کرو۔مظاہرے سے امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، نائب امیرڈاکٹراسامہ رضی، سیکرٹٹر ی کراچی منعم ظفر خان،جماعت اسلامی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر نائب امیر کراچی راجا عارف سلطان ودیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کراچی سے چترال تک قوم سراپا احتجاج ہے،جب بجٹ کا مثبت اثر عوام کے گھروں میں نہ ہو تو یہ بجٹ عوام کا نہیں بلکہ خواص کا ہے،ہر گزرتے دن کے ساتھ خرچے بڑھ رہے ہیں اور آمدنی کم ہورہی ہے، بجٹ میں یہ بات تو موجود ہی نہیں تھی کہ ہر 15 دن بعد بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا،حکومت میں آنے سے قبل اسد عمر کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتیں آدھی ہوجائیں گی لیکن آج بجلی کا بل دوگنا ہوگیاہے،ملک میں مافیاز کی حکومت ہے جو چہرے بدل بدل کر حکومت کرتے اورعوام کا استحصال کرتے ہیں،جماعت اسلامی کی جدوجہد معیشت میں انقلاب اورنظام کی تبدیلی کی جدوجہد ہے۔انہوں نے کہاکہ آج حکمرانوں کی تو ترقی ہورہی ہے لیکن عوام کی حالت خراب ہورہی ہے،حکمران عوام کو بنیادی ضروریات فراہم نہیں کرتے تو پھر کس لیے عوام سے ٹیکس وصول کرتے ہیں،ملک میں آئی ایم ایف کی غلامی کا نظام ہے،مختلف ملکوں نے اپنے قرضوں کو ری شیڈول کروایا ہے تو پاکستان کے حکمران کیوں نہیں کرواسکتے۔ بیوروکریٹ اور حکمران طبقہ آئی ایم ایف میں عوام کی قیمت لگاتے ہیں،حکمران ایف آئی ایم ایف کے ایما پر بل پاس کرتے ہیں،خاندانی تحفظ کے نام پر غیر اسلامی اور قرآن و سنت کے خلاف اسمبلیوں سے بل پاس کروائے جارہے ہیں،خاندانی تحفظ کا بل پاس کروانے کے خلاف اسمبلی میں جماعت اسلامی کے سوا کسی پارٹی نے آواز نہیں اٹھائی،جماعت اسلامی قرآن و سنت کے قانون کے خلاف کوئی بل کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ 3 کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کے لیے 1800 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھا گیا جس میں سے 5 ارب روپے بھی خرچ نہیں کیے گئے، وفاق کو کراچی سے کوئی دلچسپی نہیں اور پیپلز پارٹی کراچی سے صرف لوٹنا جانتی ہے،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مہاجر اور سندھی کی بنیاد پر لسانیت پھیلاکر خود آپس میں فائدہ اٹھاتے ہیں،ایم کیو ایم کراچی کے عوام کو ماضی کی طرح پھر دھوکا دے رہی ہے، 2002ء سے 2008ء تک ایم کیو ایم کا دور تھا پھر کیوں کوٹہ سسٹم ختم نہیں کیا گیا؟ ایم کیو ایم بتائے کہ کراچی کے عوام کو آدھا کیوں گنا گیا؟ کیوں جعلی مردم شماری کو منظور کروایا گیا؟،کے الیکٹرک کو دومرتبہ فروخت کیا گیا اور دونوں بار ایم کیو ایم حکومت کے ساتھ تھی۔ جب سارے فیصلے کراچی دشمن ہوتے ہیں تو آخر کس بنیاد پر ایم کیو ایم کراچی کے حق کی بات کرتی ہے،وزیر اعظم کہتے تھے کہ پیٹرول کی قیمت 50 روپے ہونی چاہیئے لیکن انہوں نے آج پیٹرول کی قیمت میں دوگنا اضافہ کردیا ہے،وزیر اعظم ان جاگیرداروں پر ٹیکس کیوں نہیں لگاتے جنہیں انگریزوں نے غداری پر جاگیردار یں بھی تھیں،چینی مافیا اور آٹا مافیا پر ٹیکس کیوں نہیں لگایا جاتا جو وزیر اعظم کے ساتھ موجود ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہاکہ کراچی کے عوام جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں اور جماعت اسلامی کادست و بازو بنیں۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہاکہ مہنگائی نے کراچی کے عوام کی کمر توڑدی ہے،مہنگائی و بے روزگاری نے کراچی کے عوام کو بنیادی ضروری سہولیات سے محروم کردیا ہے،مہنگائی و بے روزگاری سے خود کشی کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ،نوجوان طبقہ ملازمتیں نہ ملنے پر جرائم کی طرف جار رہا ہے،ملک میں سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام کسی صورت قبول نہیں ہے،پوری قوم انگریزوں کے غلاموں کی غلامی پر مجبور ہے۔ یونس سوہن ایڈووکیٹ نے کہاکہ پورے پاکستان میں کراچی تا چترال تک مہنگائی و بیروزگاری کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں،جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو مہنگائی کے خلاف مظاہرے کررہی ہے۔