سرکلر ریلوے نئے نقشے کے مطابق بنانے ،کے الیکٹرک کا غیر قانونی گرڈ اسٹیشن ختم کرنے کا حکم

231

کراچی (اسٹاف رپورٹر)عدالت عظمیٰ نے کراچی سرکلرریلوے بحالی کا عمل فوری شروع کرنے اور نئے ڈیزائن کے مطابق کام شروع کرنے کی ہدایت کردی۔عدالتنے اپنے تحریری فیصلے میں کہاکہ ایک ماہ میں نئے ڈیزائن کے مطابق ٹھیکہ دینے کے عمل مکمل کیاجائے۔ ایف ڈبلیو او کے مطابق فزیبیلیٹی رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کردی اور کچھ مقامات پر بالائی ٹریک بنانا لازمی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کہا کہ تاحال پی سی ون بھی منظور نہیں کیا گیا اور انڈر پاس اور فلائی اوورز کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے گئے ۔علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں محمود آباد گرڈ اسٹیشن کے خلاف شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست گزار شعاع النبی ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ پی ای سی ایچ ایس فیز 6 محمود آباد میں 10 ایکٹر گرین بیلٹ کے لیے مختص ہے، پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی نے گرین بیلٹ کے الیکٹرک کو دے دی جب کہ گرین بیلٹ کا پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں، گرین بیلٹ کے ایم سی کی ملکیت ہے۔عدالت عظمیٰ نے محمود آباد کے الیکٹرک گرڈ اسٹیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ کے الیکٹرک گرین بیلٹ پر قائم گرڈ اسٹیشن 2 ماہ میں ختم کرے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گرین بیلٹ کو کمرشل سرگرمی کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دے سکتے۔ عدالت نے کے ایم سی کو گرین بیلٹ کی اصل پوزیشن بحال کرنے اور کے ایم سی کو ہی گرین بیلٹ پر پارک بنانے کی بھی ہدایت کردی۔قبل ازیں عدالت عظمیٰ نے تجاوزات کیس کے تحریری حکم نامے میں الہ دین پارک کی دکانیں اور پویلین اینڈ کلب مسمار کرنے کے لیے ایک ہفتہ کی مہلت دیتے ہوئے کمشنر کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔عدالت کا اپنے تحریری فیصلے میں کہنا تھا کہ پارک کو صرف پارک کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے اور پارک کی دیکھ بھال کمشنر کراچی کے سپرد کردی گئی ،کسی بھی کمپنی کو پارک چلانے کا ٹھیکہ نہیں دیا جائے گا جبکہ عدالت نے نجی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے لیے نیلامی کا عمل فوری روکنے کا حکم دیا ،اس کے علاوہ اورنگی اورگجر نالہ متاثرین کے متبادل رہائش اور معاوضہ دینے کے لیے اٹارنی جنرل کو وزیر اعلیٰ سندھ اور فریقین سے مشاورت کی مہلت دے دی گئی، عدالت نے متاثرین کی بحالی سے متعلق رپورٹ آئندہ سیشن میں طلب کرلی۔ علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی ہے کہ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے فور منصوبے کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔مزید برآںعدالت عظمیٰ نے گریڈ 16 سے اوپر کے کنٹریکٹ افسران کو بغیر پبلک سروس کمیشن کے مستقل کرنے کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے منظورکرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا حکومت افسران کے تقرر / مستقلی کے لیے 2 الگ طریقے اپنا رہی ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے اس طرح تو کل کسی کو بھی افسر بنا دیا جائے گا بغیر کمیشن پاس افسران کو کیسے مستقل کیا جا سکتا ہے؟حکومت کیسے قانون کو بائی پاس کرکے یہ اقدام کر سکتی ہے؟ یہ پبلک سروس کمیشن پاس افسران کے ساتھ امتیازی سلوک ہوگا۔ اس طرح تو امتحان پاس کرنے کے اہل اور نااہل دونوں یکساں ہو جائیں گے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ خدشہ ہے کہ پورے ملک سے سرکاری افسران کا خلا پیدا ہو جائے گا، تمام صوبے کنٹریکٹ افسران کو پبلک سروس کمیشن کے بغیر مستقل کر رہے ہیں، یہ پریکٹس نہ صرف سندھ بلکہ تمام صوبوں میں ہے، اس کیس کو اسلام آباد میں سنا جائے اور تمام صوبوں سے رائے لی جائے۔ ایک اسپیشل کمیٹی تشکیل دے دی جائے جو میرٹ پر افسران کا تعین کرے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے آپ کمیٹی کے بجائے کنٹریکٹ افسران کو پبلک سروس کمیشن کیوں نہیں بھیجتے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیاکہ بغیر پبلک سروس کمیشن کے ترقی پانے والے کتنے افسران ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ سندھ میں کم و بیش 2 ہزار افسران متاثر ہوں گے۔ خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ ریگولرائزیشن ایکٹ کو کالعدم قرار دے چکی ہے، کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا ہے۔