مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کو دفاع کا مکمل حق حاصل ہے،بین الاقوام کانفرنس

57

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ ریزولوشن اور لیگل فورم فار کشمیر کے زیر اہتمام ”اپنے دفاع کے نظریے“ کے عنوان سے آن لائن بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مقررین نے کہا کہ جارح قوتوں کے ظلم و جبر کے خلاف مقبوضہ اور فلسطین کے عوام کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ کانفرنس سے عالمی ماہرین، مصنف اور مورخ ڈاکٹر ایلان پپی،صحافی اور میڈیا مشیرڈاکٹر رمزے، قائداعظم یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر سلمیٰ ملک، انٹرنیشنل بلقان یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر میوالدین ابیش اور دینا ابراہیم نے بھی خطاب کیا ۔ کانفرنس میں کہا گےا کہ کشمیر اور فلسطین میں بھارت اور اسرائیل نہتے شہریوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ ان حالات میں اپنے دفاع کے حق کے نظریے پر بات ہونی چاہےے۔ جارع قوتوں کے ظلم وجبر کے خلاف جموں وکشمیر اور فلسطین کے عوام کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ڈاکٹر رمزے بارود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا بے بنیاد جواز بنا کر نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے حالانکہ اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا حق ہے۔ گزشتہ 70 برس سے فلسطینیوں کا خون بہایا جار ہا ہے۔ غزہ میں لوگ اسرائیلی محاصرے میں رہ رہے ہیں۔ 15 برس میں صرف غزہ ہی میں ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اب فلسطین میں اپنے اقدامات کی مجرمانہ تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر ایلان پپی نے کہا کہ اب وقت آگےا ہے کہ خود اپنے دفاع کے قانون کی درست تشرےح ہو ۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کو خود اپنا دفاع کرنا چاہےے۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی سے فلسطینیوں کی آبادی کا تناسب بگڑے گا۔ جموں وکشمیر میں بھی لوگوں کو اپنی سرزمین نہیں چھوڑنی چاہےے۔ ڈاکٹر سلمی ملک نے کہا کہ اپنی حفاظت کا تصور نیا نہیں ہے۔ ماضی میں مغرب میں اس پر بحث ہوئی ہے۔ ظلم اور جبر کے مقابلے میں اپنا دفاع کیا جاتا ہے۔ ماضی میں لیگ آف نیشن اور اقوام متحدہ نے اس نظریے کے کئی پہلووں کو متعارف کرایا ہے۔ ڈاکٹر سلمی نے کہا کہ کشمیریوں کواپنے دفاع کا پورا حق ہے ۔ کشمیریوں کو بھارتی فوج قتل کر رہی ہے۔ ان پر ظلم ہورہا ہے۔ انہیں حق ہے کہ وہ ظلم کے مقابلے میں اپنا دفاع کر یں۔ ڈاکٹر میوالدین ابیش نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے معا ملے کوصرف بین الاقوامی قانون کی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس معاملے کاسیاق و سباق بھی اہم ہے۔