چین متبادل کی تلاش میں

263

محمد طارق خان
چند دن پہلے چین نے ایران سے 25 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا، معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران چینی اور ایران نمائندوں نے پاکستان کی غیر مستقل اور صبح شام بدلتی پالیسیوں کا اشاروں کنایوں میں ذکر بھی کیا، پھر کراچی میں مقیم چینی قونصل جنرل نے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے صدر سے ملاقات میں پاکستان کی غیر مستقل پالیسی کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا اور گزشتہ ہفتے پاکستان میں چینی سفیر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی غیر مستقل پالیسی اور عدلیہ و فوج کی سیاست میں مداخلت کے ذریعے منتخب حکومتوں کی ٹانگ کھینچنے کی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ چین بڑے پیمانے پر افغانستان میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ واخان کے راستے براہ راست افغانستان یا پھر وسط ایشیا کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے ساتھ افغانستان کو منسلک کرکے ایران تک رسائی حاصل کی جائے۔ حال ہی میں نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے چین نے نتائج و عواقب کی پروا کیے بغیر عجلت میں افغانستان سے امریکی انخلا کو سازش قرار دیا ہے، چین کا کہنا ہے کہ اس طرح امریکا ایک بار پھر افغانستان کو انتہائی خونیں اندرونی خانہ جنگی کا شکار کرکے افغانستان میں چینی منصوبوں کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔
صدر شی جن پنگ کے تاریخ ساز ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے آغاز سے کر اب تک 6 برس سے زیادہ کے عرصے میں چین نے جہاں خطے کے تقریباً تمام ممالک کو اس منصوبے میں شامل کیا، وہیں افغانستان کو ہمیشہ اس مقصد کے لیے ناموزوں قرار دیا، چینیوں کا خیال تھا کہ افغانستان کے حالات میں سدھار کا امکان کم ہے، اس ملک میں انتہا پسندی، مذہبی اور نسلی و لسانی تفریق کی جڑیں انتہائی گہری ہیں، جس کی وجہ سے یہ ملک ہمیشہ خانہ جنگی اور اندرونی خلفشار کا شکار رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے ون بیلٹ ون روڈ کے تحت سب سے زیادہ تقریباً 65 ارب ڈالر سرمایہ کاری پاکستان میں کرنے کا اعلان کیا، پاکستان میں تبدیلی سونامی سے پہلے دونوں حکومتوں کے درمیان تمام معاملات خوش اسلوبی سے نہ صرف طے پائے بلکہ سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے پر برق رفتاری سے کام شروع ہوگیا، 4 سے پانچ سال کے عرصے میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں کے اثرات پاکستان کے طول عرض میں دیکھے اور محسوس کیے جانے لگے، پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین توانائی بحران سے نکل آیا، ملک بھر میں موٹرویز، رابطہ پلوں اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کا سینہ چیر کر بنائی گئی سرنگوں نے گلگت چترال سے کراچی اور گوادر تک مواصلات کے نظام میں انقلاب برپا کردیا، فاصلے سمٹ گئے، آمدورفت باسہولت ہوگئی، پاکستان کے فرسودہ انفرا اسٹرکچر کو نئی زندگی مل گئی، اور گوادر کی بندرگاہ مکمل طور پر آپریشنل ہونے کے ساتھ چین سے بذریعہ سڑک اور سمندر تجارتی مال گوادر پہنچنے لگا۔ جس سے پاکستان اور خطے میں خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کے آغاز کے امکانات روشن ہوگئے۔
شاید یہی بات امریکیوں اور اس کے حواریوں کو ناگوار گزری اور پاکستان میں ایک بار پھر سازشوں کے تانے بانے بُننے جانے لگے اور 2018 میں بدترین انتخابی دھاندلی کے ذریعے پاکستان میں سیاسی قیادت تبدیل کردی گئی۔ نئی آنے والی حکومت زیادہ دن اپنے عزائم کو پوشیدہ نہ رکھ سکی اور تبدیلی سرکار کے وزرا نے سی پیک پر کھلے عام تنقید شروع کردی، مراد سعید نے سی پیک کو کرپشن کا منبع قرار دیا تو رزاق داود نے سی پیک پر عملدرآمد روک کر معاہدے پر نظر ثانی کی نوید سنا دی۔ پاکستان کے رویے میں آئی اس غیر متوقع تبدیلی نے چینیوں کو بھی حیران کردیا، چین نے ایک طرف وقتی طور پر زیر تکمیل منصوبوں کی رفتار سست کردی تو دوسری طرف منصوبوں کے آئندہ مراحل کو مکمل منجمد کردیا، چین کے رویے میں سرد مہری کا جب تک اسلام آباد کو ادراک یا احساس ہوتا اس وقت دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور باہمی تعاون کی فضاء کو کافی نقصان پہنچ چکا تھا، مگر اس کے باوجود پاکستان نے تعلقات کی بہتری اور ڈیمیج کنٹرول کے جو اقدامات کیے وہ نہ صرف ناکافی تھے بلکہ ان میں نیم دلی اور بے زاری کا عنصر نمایاں رہا، مثال کے طور پر وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبے کی نگرانی اپنے کابینہ سے لے کر ایک سابق جرنیل کو سونپ دی، مگر اس فیصلے کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موصوف کے صاحبزادے ماضی میں سی پیک مخالف مہم چلاتے رہے تھے، اور موصوف کے اپنے کاروباری مفادات امریکا سے وابستہ تھے، ان کے بارے میں زبان زد عام تھا کہ نہ صرف ان کی امریکا میں بھاری سرمایہ کاری ہے، بلکہ ان کا پورا خاندان امریکا میں مقیم ہے۔
ظاہر ہے باخبر اور دوربین چینی ان تمام حقائق اور بدلتے رویوں سے لا علم نہ تھے، یہی وجہ ہے جنرل عاصم باجوہ کو کچھ ہی عرصے بعد یہ عہدہ چھوڑنا پڑا۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت، دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں ہی پر، امریکی اثر و رسوخ اور گرفت کافی مضبوط ہے، اور وہ ہر صورت سی پیک منصوبے میں رکاوٹیں ڈال کر اسے ختم یا کم از کم سست روی کا شکار کرنا چاہتے ہیں، اس خطرے کو بھانپتے ہوئے چین نے متبادل راستے کی تلاش شروع کردی۔ گو کہ یہ حقیقت ہے کہ چین کے پاس پاکستان کی طرح مختصر، آسان اور محفوظ متبادل موجود نہیں، وسط ایشیا سے روس، ایران یا ترکی کے راستے شرق الاوسط یا یورپ تک رسائی کا ہر راستہ دشوار بھی ہے، طویل بھی اور بیک وقت کئی ممالک سے گزرنے کی وجہ سے قانونی پیچیدگیاں بھی ہیں، اور شاید یہی بات پاکستانی فیصلہ سازوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا رکھے ہوئے ہے کہ وہ جو چاہے من مانی یا بلیک میلنگ کریں، چین کے پاس کوئی متبادل ہے ہی نہیں اس لیے چین ہمیشہ ان پر ملتفت رہے گا۔
مگر یہ سوچ انتہائی خطرناک اور چینیوں کی طاقت، استعداد اور ان کی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جانے کے عزم سے تجاہل عارفانہ ہی ہوسکتی ہے، چین نے اپنے آپ کو امریکی اور بھارتی جکڑ بندیوں سے آزاد کرنے اور بحر کاہل کے واحد راستے سے تجارت پر انحصار کم کرنے کے لیے جس ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی بنیاد رکھی، پاکستان کا سی پیک اس کا ایک اہم مگر چھوٹا حصہ ہے۔ اس منصوبے اور جارحانہ سرمایہ کاری پالیسی کے تحت چین اب تک ویت نام، کمبوڈیا، لاوس، برما، بنگلا دیش، سری لنکا اور منگولیا کے رستے روس، اور وسط ایشیائی ریاستوں کے راستے ترکی اور یورپ تک سڑکوں اور ریل کا جال بچھا چکا ہے اور چین سے تجارتی سامان سے لدی ٹرینیں وسط ایشیا سے ہوتی ہوئی یورپ پہنچ رہی ہیں۔ چینی منصوبہ سازوں نے ان میں سے ہر راستہ ایک مختلف منڈی تک براہ راست رسائی کے علاوہ کسی دوسرے راستے کے بوجوہ بند ہونے پر متبادل کے طور پر استعمال کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر منگولیا سے روس رسائی ممکن نہ ہو تو وسط ایشیائی ریاستوں سے ممکن بنائی جاسکے گی۔
تاہم شرق الاوسط اور مشرقی افریقا تک رسائی کا واحد آسان اور مختصر ترین راستہ پاکستان ہی ہے، چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ بہت اچھے رہے ہیں اور پاکستان چینیوں کے لیے محفوظ بھی ہے۔ مگر تبدیلی سرکار کی جانب سے بھیجے گئے مکسڈ سگنلز نے چینیوں کے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور وہ مجبور ہوئے کہ متبادل راستے پر غور کریں، یہی وجہ ہے کہ چین کی نظریں اب افغانستان اور ایران پر لگی ہیں، اور چینی سفیروں اور وزیرخارجہ کے لہجے میں پاکستان کے لیے شکوے اور تلخی کا عنصر نمایاں ہورہا ہے۔ چینی بالعموم سافٹ پاور پر یقین رکھتے ہیں، ان کی دوستی اور دشمنی طویل مدتی ہوتی ہے مگر وہ ہر دو صورت میں خاموش، لو پروفائل اور دھیمے لہجے میں سفارت کاری کو اہمیت دیتے ہیں، اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے قائل ہیں، تاہم اگر ان کے مفادات پر ضرب لگتی ہو تو برملا اظہار بھی کرتے ہیں اور متبادل کی تلاش میں دیر نہیں لگاتے۔
اسی تناظر میں چین نے ایران میں 25 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت بھاری سرمایہ کاری کا آغاز کردیا ہے، اور وہ ہر قیمت پر ان منصوبوں کی تکمیل اور تحفظ کو یقینی بنائے گا تاکہ پاکستان پر انحصار کم کیا جاسکے، امریکی چین کے اس ارادے سے بخوبی واقف ہیں، اسی لیے وہ افغانستان میں پرامن انتقال اقتدار کو یقینی بنائے بغیر اس طرح چھوڑ کر نکل رہے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان عدم اعتماد کی طویل خلیج حائل ہے،
گلبدین حکمت یار اس خلیج کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آج کے افغانستان میں وہ کتنا اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ گلبدین حکمت یار کی گزشتہ دونوں پاکستان آمد، امیر جماعت اسلامی سے ملاقاتیں اور پھر چینی سفیر کا منصورہ جا کر امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق سے ملنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ افغانستان سے اس طرح عجلت میں انخلا دراصل افغانستان کو ایک نئی اور شدید خانہ جنگی میں دھکیلنے کا باعث ہوسکتا ہے، جس کا براہ راست اور سراسر نقصان چین کے منصوبوں اور ایران کی بندرگاہوں تک رسائی پر ہوگا۔ ظاہر ہے چین کے لیے یہ صورت حال ناقابل قبول ہے، مگر چین اس معاملے میں کس حد جائے گا اور اس کے پاس کیا آپشنز موجود ہیں، یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہوگا۔
اس لیے ہمارے منصوبہ سازوں اور مقتدر قوتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ چین کے ساتھ امریکا کی طرح دہری پالیسی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ امریکا ایک کثیر الجماعتی جمہوری نظام رکھنے والا ملک ہے۔ جہاں حکومتوں کی تبدیلیوں کے ساتھ انتظامیہ، پالیسیاں اور دوستیاں دشمنیاں سب بدل جاتا ہے، جبکہ چین میں یک جماعتی نظام ہے جس میں قیادت، انتظامیہ اور پالسیوں کا تسلسل ہی نظام کی کامیابی کا ضامن ہے، امریکا ہم سے ہزاروں میل دور جبکہ چین کے ساتھ ہماری سرحد مشترک ہے، اور چین کے ساتھ ہماری طویل مدتی معاشی، دفاعی مفادات وابستہ ہیں، اس لیے چین کے معاملے میں ہمیں اپنی پالیسیوں میں مکمل یکسوئی، ہم آہنگی اور تسلسل لانے کی ضرورت ہے۔