تحریک لبیک پر پابندی کیلیے غیر آئینی وغیر جمہوری راستہ اپنایا گیا ،جماعت اسلامی

204

لاہور/کراچی(نمائندہ جسارت+اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی ، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کے لیے غیر آئینی ، غیر جمہوری طریقہ اختیار کیا ہے ۔ تحریک انصاف نے خود احتجاج ، دھرنوں میں لاقانونیت کی انتہا کی ۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ریاستی عمارتوں پر حملے کیے۔ تحریک لبیک کی قیادت اور کارکنان نے اگر غیر قانونی حرکات کی ہیں تو اسے ڈیل کرنے کے قانونی راستے موجود ہیں ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرڈ پارٹی پر پابندی کا معاملہ آئین اور قانون میں طے شدہ ہے ۔ حکومت خود بھی لاقانونیت کی مرتکب ہورہی ہے ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کا اعلان کر کے اپنی مخالف جماعتوں کو پیغام دیاہے ، حکومتی رٹ تحریک لبیک نے نہیں ، خود حکومت کی نااہلی ، حکومتی اتحادیوں کی بلیک میلنگ اور اقتصادی سیاسی محاذ پر ناکامی کی وجہ سے حکومت کی رٹ پہلے سے ہی موجود نہیں، حکومت مصنوعی سہاروں اور بیساکھیوں پر چل رہی ہے ۔ تحریک لبیک کے ساتھ ریاستی اداروں ، حکومتوں نے خود معاہدے کیے ، معاہدوں پر عملدرآمد خود حکومت نہیں کر رہی ۔ معاہدہ شکن حکومت کے خلاف احتجاج کے سوا کیا راستہ رہ جاتا ہے ۔ حکومت غیر آئینی ، غیر جمہوری پابندی عاید کرنے کے بجائے بات چیت کرے اور اپنے عہد کی پاسداری کرے ۔ سیاسی جمہوری عمل میں حکومت اور تمام سیاسی ،دینی ،جمہوری قوتوں کو پرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام اور احتجاج کا حق حاصل ہے ۔ حکومت اور سیاسی دینی جماعتیں قانون شکنی کا راستہ خود بند کریں ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ حکومت اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بحرانوں کی ذمے دار ہے ۔وزیراعظم انسانوں کی تذلیل کے بجائے حکومتی اختیارات کے ساتھ قانونی کارروائی کریں ۔ میڈیا ٹرائل و حکومتی حکمت عملی قومی شیرازے کو تار تار کر رہی ہے ۔نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے تحریک لبیک پر پابندی کے اقدامات کو غیر آئینی، غیر قانونی قرار دیا اور کہاہے کہ تحریری معاہدہ پر عملدرآمد نہ کر کے اور حافظ سعد رضوی کو بلاجواز گرفتار کر کے حکومت نے خود اشتعال پھیلایا اور گرفتاری پر ردعمل کا اندازہ لگائے بغیر شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جو حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ حکومت خود تو قانونی راستہ اختیار کرے اور حکومت فرانس تک اسلامیان پاکستان کے جذبات پہنچائے ، سفیر کو حسب معاہدہ ملک بدر کرنے کے بجائے تحریک لبیک پر پابندی کا راستہ اختیار نہ کرے ۔ الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتوں پر پابندی محض حکومتی آرڈر سے نہیں ہوسکتی اس سلسلے میں آئینی طریق کار اختیار کرنا پڑتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کے ذریعے پولیس فائرنگ جیسے اقدامات اور شرپسند عناصر کی اشتعال انگیزی کی مکمل تحقیق کی جائے ۔ جمعیت اتحاد العلما سندھ کے ناظم اعلیٰ علامہ حزب اللہ جکھرو نے کہا کہ پابندی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے ، تحریک لبیک پر پابندی غیرجمہوری وغیرآئینی اقدام ہے، حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، بینظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر اس سے کئی گنا زیادہ جلائو گھیرائو اور پرتشدد واقعات ہوئے تھے اس پر تو حکومت نے کسی پارٹی پر پابندی نہیں لگائی تھی ،مگر تحفظ ناموس رسالت ؐ کے لیے نکلنے والے شمع رسالتؐکے پروانوں کی گرفتاریاں ومقدمات نہ صرف قابل مذمت عمل بلکہ ریاست مدینہ کے دعویدار حکمرانوں کے منافقانہ کردار کے عکاس ہیں۔ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا فیصلہ حکومت نے خود معاہدے کی صورت میں کیا تھا اس پر عمل درآمد اس کی ذمے داری ہے، پرامن احتجاج ہرشہری کا بنیادی حق ہے۔انہوں نے کہا کہ معاملات کو افہام وتفہیم کے ساتھ حل ،تحریک لبیک کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے۔