فیفا ہمارے بجائے اپنی نارملائزیشن کمیٹی پر ایکشن لے ، اشفاق شاہ

86

پی ایف ایف فٹبال ہاؤس کا چارج دوبارہ حاصل کرنے کے بعد ’ فیفا‘ صدر فیڈریشن سید اشفاق حسین شاہ پر مسلسل اپنا دباؤ بڑھا رہی ہے اور ان کے خلاف ایک سخت رویہ بھی اپنایا جارہا ہے تاکہ پی ایف ایف ہاؤس کا چارج فوری طور پر اسکی نامزد کردہ نارملائزیشن کمیٹی کے حوالے کیا جائے جس کیلئے فیفا نے ایک سخت لیٹر پی ایف ایف کو ارسال کیا اور اس میں حتمی تاریخ اور وقت کا بھی تعین کیا۔اشفاق شاہ کا کہنا ہے کہ‘فیفا فٹبال کی ایک تنظیم اعلیٰ ہے اور ہم اس کا احترام بھی کرتے ہیں ۔ 2018 میں سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت تشکیل دی جانے والی پی ایف ایف کے سربراہ اشفاق حسین شاہ نے فیفا پر زور دیا ہے کہ وہ پی ایف ایف کے انتخابات کے انعقاد کے لئے کچھ بھی کیے بغیر 18 ماہ ضائع کرنے والی اپنی اس نارملائزیشن کمیٹیوں کے خلاف کارروائی کرے۔لا ہور میں ایک نیوز کانفرنس میںسید اشفاق شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ این سیزنے گذشتہ 18 ماہ کے دوران کیا کیا اور اس دوران انہوں نے کتنا رقوم خرچ کیں ؟
صدر فیڈریشن کا کہنا تھا کہ ہم نے پچھلے 18 ماہ کے دوران کبھی مداخلت نہیں کی۔ انہوں نے نہ صرف وقت اور رقم ضائع کی بلکہ فیفا اور اے ایف سی کی بدنامی کا باعث بھی بنے۔ فیفا کو ان قواعد و ضوابط کے مطابق ان این سیز کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔
اشفاق شاہ کا کہنا تھا کہ فیفا کو بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ اس پی ایف ایف کو سپریم کورٹ کا مینڈیٹ حاصل ہے۔‘‘فیفا کو تمام صورتحال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ یہ صورتحال کیونکر پیدا ہوئی۔ اس کی اپنی این سیزاس ساری صورتحال کے برملاذمہ دار ہیں۔ ہمارے پاس عدالت عظمی کا مینڈیٹ ہے اور ہم ایک جائز ادارہ ہیں۔ ہم نے ان کے این سی کو انتظامی چارج سونپ کر فیفا اور اے ایف سی کا احترام کیا لیکن انہوں نے ہماری دیانتداری کا احترام کرنے کے بجائے ہمیں یکسر نظر انداز کردیا۔
‘‘این سی چیئرمین جناب ہارون ملک کا کہنا ہے کہ وہ 2015 کی فہرست کے مطابق انتخابات نہیں کرواسکتے۔ فیفا نے این سی کو انتخابی ادارہ کے طور پر لگایا تھا، لیکن اس کے چیئرمین نے کانگریس کے اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی بات شروع کردی۔صدر فیڈریشن نے کہا کہ کانگریس کے ممبروں کی حیثیت سے ان کے پی ایف ایف کے بڑے نام ہیں جنہوں نے ملک میں فٹ بال کی نشوونما زور اس کی بہتری کے لئے قابل ستائش خدمات پیش کیں۔میڈیا کے ایک سوال پر کہ اگر فیفا نے اپنے پی ایف ایف کانگریس ممبروں پر پابندیاں عائد کردیں تو وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹیں گے۔ اشفاق شاہ نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ان کی وکلا ء اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔اشفاق شاہ نے کہا کہ این سیز نے پچھلے 18 ماہ کے دوران بڑے فنڈز خرچ کیے۔‘‘انہوں نے مختلف ہیڈ پربھاری رقوم ضائع کیں۔ ہم ہر چیز جمع کررہے ہیں۔ ہم نے جو فنڈ 2019 میں چھوڑا تھا وہ بھی کم کردیا گیا ہے۔ این سی نے قومی خواتین چیمپین شپ پر 25 ملین روپے خرچ کیے اور آپ نے اس کا معیار دیکھا۔انہوں نے کہا کہ وہ فٹ بال کو زیادہ بہتر انداز میں چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جلد ہی اپنی سرگرمیوں کا شیڈول جاری کریں گے ۔پہلے مرحلہ میں بعداز رمضان پریمیر لیگ کے انعقاد کا بھی انہوں نے عندیہ دیا۔
باوثوق ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق اس مسئلے کو بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوششوںکا سلسہ بھی جارہی ہے۔جس میں تنازعہ کو حل کرنے کے لئے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا،”’این سی کے چیئرمین ہارون ملک اورسید اشفاق شاہ ان اجلاسوں کا حصہ نہیں تھے لیکن ان کے قریبی لوگ موجود تھے۔”‘‘ہوسکتا ہے ’’ کچھ لو اور کچھ دو ‘‘کی پالیسی اپنائی جائے۔چونکہ بال فیفا عدالت میں ہے اور موسم بہار کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد آئندہ ہفتے ہی پاکستان معطلی سے متعلق فیصلہ آسکتا ہے ۔
ذرائع کے مطابق فیفا‘ اشفاق گروپ کے کانگریس ممبروں کے خلاف معطلی کا فیصلہ نہیں لے سکتی کیونکہ ایسے متعدد افراداس میں ملوث ہیں جن کے اپنے اپنے ڈسٹرکٹس میںاکثریت ہے اور ان پر پابندی عائد کرنے سے صورتحال مزید خراب ہوجائیگی۔ اگر آئندہ اسلام آباد میںہونے والے کانگریس کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ان افراد پر پابندی عائد کردی گئی تو مستقبل کے کسی بھی این سی کے لئے کام کرنا مشکل ہوگا۔ توقع کی جارہی ہے کہ فیفا کواس حساس صورتحال کابخوبی علم ہوگا کیونکہ جس ادارہ نے پی ایف ایف سیکریٹریٹ کے کنٹرول کو دوبارہ سنبھالا ہے وہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دیا گیا ہے اور فیفا کو انتہائی سمجھداری سے اس معاملے کو دیکھنا ہوگابصورت دیگر پاکستان میں فٹبال کے معاملات ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔
باوثوق ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ پی ایف ایف اور نارملائزیشن کمیٹی کے مابین ہونے والی چپقلش سے متعلق 2019کے دوسرے کوارٹر میں جب فیصل صالح حیات نے کراچی کے دورے کے موقع پر سابق صدر فیڈریشن نے اپنے گروپ کے ساتھیوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا تھا کہ موجودہ صورتحال سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔اے ایف سی کے الیکشن تک کچھ نہیں ہونے والا فیفا اور اے ایف سی مجھے مانتی ہے اور میں اے ایف سی کے نائب صدر کا آئندہ الیکشن میں امیدوار بھی ہوں ۔ اے ایف سی الیکشن کے بعد فیفا ایک نارملائزیشن کمیٹی کو دونوں گروپوں کی مشاورت سے نامزد کرے گا۔جو الیکشن کرانے کی ذمہ دار ہونگی لیکن یہ کمیٹیاں تین سال کا دورانیہ لیں گی اور 2023میں جب الیکشن ڈیو ہونگے تو یہی کمیٹیاں الیکشن کرائیں گی جب تک تمام معاملات بالائی سطح پر میرے حق میں آچکے ہونگے اور میں ہی صدر فیڈریشن کے الیکشن میں کامیاب ہونگا۔فیصل صالح حیات کی ماضی میں کی گئی پیشنگوئی درست ثابت ہونے جارہی تھی ۔ جس دھیمی رفتار کے ساتھ نارملائزیشن کمیٹیوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں وہ ایک طے شدہ منصوبے کی کڑی معلوم ہوتی ہیں۔
فیصل صالح حیات کے خلاف تمام تر ثبوت و شواہد کی موجودگی کے باوجود ان کے خلاف کسی ایکشن کا نہ لیا جانا ، ان کی معطلی کے بعد ان کا نارملائزیشن کمیٹی کو حساب نہ دینا،گول پروجیکٹ میں کئے جانے والے گھپلوں اور متعدد شکایات کے باوجود اس جانب توجہ نہ دینا، متوازی فیڈریشن آفس کا جعلی کرایہ نامہ پر ہزاروں ڈالر ز کی رقم پرسنل اکاؤنٹ میں ارسال کرنا۔ اس طرح کے متعدد الزامات جو باآسانی
گرفت میں لائے جاسکتے تھے لیکن فیصل صالح حیات کو مکمل طور پر اوپن ٹکٹ دیا گیا۔ 2015کے الیکشن میں دھاندلی ثابت ہونے اور انہیں معطل کرنے کے باوجود انہیں اے ایف سی کا نائب صدر اور انکے رفقائے کار کرنل احمد یار خان لودھی، رحیم اور نیر بخاری کو فیفا اور اے ایف سی کی کمیٹیوں میں نمائندگیاں دی گئیں۔ حمزہ خان کی چیئرمین شپ میں نارملائزیشن کمیٹی الیکشن کے پروسیس کو مکمل کرنے کی قریب آگئی تھی لیکن اس موقع پر اے ایف سی
اورفیفا سے قربت رکھنے والے محسن گیلانی جنہوں نے حمزہ خان کو چیئرمین نارملائزیشن کمیٹی بنایا تھا وہ ان کے ایجنڈے پر پورا نہیں اتر رہے تھے اور تسلسل کے ساتھ الیکشن کرانے کے موڈ میں تھے جو فیصل صالح حیات کو اے ایف سی کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کیخلاف تھا اور یہی وجہ تھی کہ محسن گیلانی نے حمزہ خان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا چونکہ ان کے پاس وہ تمام ثبوت موجود تھے جو حمزہ خان نے ان کے کہنے پر کئے۔جس میں لیہ میں ہونے والے کیمپ پر آنے والی خطیر رقم بھی شامل تھی جو حمزہ خان کے دستخط سے ریلیز کرائی گئی۔ بعدازاں ایک بیہودہ اسکینڈل بھی حمزہ خان کے نام سے منسوب کرکے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا گیا۔قائم مقام چیئرمین منیر سندھانہ نے فیصل صالح حیات کے ایجنٹ کی حیثیت سے حمزہ خان کے تمام فیصلوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرکے 15ماہ کی جدوجہد اور لاکھوں ڈالر کو ضائع کردیا۔تیسرے چیئرمین ہارون ملک نے تو کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی ان کا تو فوکس الیکشن تھا ہی نہیں بلکہ وہ کلب رجسٹریشن اور ایونٹ پر اپنی نظر یں جمائے ہوئے تھے اور فیصل صالح حیات کے ایجنڈے کے مطابق اس قسط کو 2023تک چلنا تھا۔لیکن اس ڈرامہ کا ڈراپ سین 27مارچ 2021کو اس وقت سامنے آگیا جب انہوں نے ماضی میں کی جانے والی غلطی سے سبق حاصل کرتے ہوئے فٹبال ہاؤس کا چارج چیئرمین نارملائزیشن کمیٹی سے واپس لے کر فٹبال کے تمام امور اپنی منتخب کردہ فیڈریشن کے زریعہ چلانے کے اختیارات حاصل کرلئے۔خدانخواستہ اگر اس فیصلے میں تاخیر ہوجاتی تو ایک بار پھر پاکستان کی فٹبال کا مستقبل فیصل صالح کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا۔
ہارون ملک صاحب نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو انفرادی حیثیت میں چلانے کا پروگرام بنایا ہوا تھا اور چند فٹبال دشمن عناصر جو ہمیشہ فٹبال فیڈریشن میں کسی عہدے کے متلاشی رہتے ہیں کو اپنا دست راست بنا کر پاکستان کی فٹبال سے کھلواڑ کھیلنا شروع کردیا۔صوبائی اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر فٹبال کو مکمل طور پر لاوارث اور بے یارومددگار چھوڑ کر خواب خرگوش کے مزے لینے لگے اور کھلاڑی اور ان کے سپورٹر مادر پدر آزاد ہوکر حریف کھلاڑیوں، آرگنائزر ز اور ریفریز کو زدوکوب اور غلیظ گالیوں سے انہیں زیر اثر لانے لگے۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ امید کامل ہے کہ سید اشفاق شاہ، صدر پاکستان فٹبال فیڈریشن جہاں دیگر اپنی قومی ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف عمل ہیں صوبائی اور ضلعی سطح پر بھی اس معاملے میں زاتی دلچسپی لے کر متعلقہ صوبوں اور ڈسٹرکٹ میں افہام و تفہیم کے ساتھ ذمہ داران کا تقرر کریں تاکہ اس شرانگیزی پر قابو پایا جاسکے۔