ترقی یافتہ ممالک غریب ملکوں کو ٹیکنالوجی فراہم کریں‘ وزیراعظم

125
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان فراش ٹائون اپارٹمنٹس کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد دعا کررہے ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت/مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے کورونا ویکسین کی پیداوار بڑھائی جائے، غریب ممالک کو ٹیکنالوجی بھی فراہم کریں، کورونا وبا کے باعث کروڑوں لوگ مقروض اور لاکھوں بیروزگار ہوگئے ہیں، ڈی ایٹ ممالک کے لیے تجارت 2025ء تک 5 ارب ڈالرتک لے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق ڈی ایٹ ورچوئل سربراہ اجلاس میں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دنیا میں بہترین تجارت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچا۔ ڈی ایٹ رکن ممالک کو موجودہ دور کے تقاضے دیکھ کر منصوبے بنانے چاہئیں۔ ڈی ایٹ پچھلے 4 سال سے مؤثر انداز میں کردار ادا کررہا ہے۔ ڈی ایٹ ممالک میں تجارت ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر 2025ء تک 5 ارب ڈالرتک لے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا نے ترقی پذیر ممالک کو بڑے پیمانے پرنقصان پہنچایا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے کروڑوں لوگ مقروض ہوگئے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں۔ ہمیں نوجوانوں کو نئے پلیٹ فارم مہیا کرنے ہوں گے۔ ہمیں نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ہنر سکھانا ہوگا۔ ہم نے نوجوانوں کو روزگار کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھاناہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے درپیش چیلنجز سے تنہا نہیں نمٹ سکتے۔ ترقی یافتہ ممالک کورونا ویکسین کی پیداواربڑھائیں اور ترقی پذیر ممالک کو ٹیکنالوجی فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے ویژن کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے 5نکاتی لائحہ کی تجویز بھی دی ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈی ایٹ پے منٹ کارڈ جیسی تجاویز کا خیر مقدم کرتا ہے جن سے مقامی کرنسیوں میں لین دین ہو سکے گا۔ علاوہ ازیں اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومتوں میں بدقسمتی سے اتنے قرضے لے لیے ہیں جن سے مزید قرضے چڑھ رہے ہیں۔ بینکوں کو چھوٹے لوگوں کو قرضے دینے کی عادت نہیں تھی اور بینکوں سے چھوٹے قرضے حاصل کرنے میں لوگوں کو اب بھی مشکلات ہیں۔انہوں نے کہا کہ غریب کو سستے قرض دینے کی کوشش کامیاب ہوگئی، کرایے کے مکانوں میں رہتے ہیں اور کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ اسلام آباد میں اپنا گھر بنا سکیں گے لیکن اب ان کا خواب پورا ہونے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او نے کرتارپور ریکارڈ ٹائم میں مکمل کیا تھا اور امید ہے فراش ٹاؤن کے فلیٹ بھی وقت پر مکمل ہوں گے، 2 ہزار ایسے لوگوں کو فلیٹ ملیں گے جو فلیٹ کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ہوتا اس لیے کچی آبادی بن جاتی ہے لیکن میرا خواب ہے کہ کچی آبادی والوں کے پاس مالکانہ حقوق آجائیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے ڈھائی سال میں 20 ہزار ارب روپے کا قرض واپس کیا تھا اور ہم نے اپنے ڈھائی سال میں 35 ہزار ارب روپے کا قرض واپس کیا، بدقسمتی سے ایسے قرضے لے لیے ہیں جن سے مزید قرضے چڑھ رہے ہیں، ہم نے (ن) لیگ سے 15 ہزار ارب اضافی قرض واپس کیا اگر یہی پیسہ ملک پر لگتا تو ملک بہتر ہوجاتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی دولت میں اضافے کی ضرورت ہے، اس لیے کوشش ہے کہ پاکستان میں دولت میں اضافہ ہو تاکہ قرض واپس کرسکیں جبکہ نیا پاکستان ایسا پروجیکٹ ہے جس سے 30 انڈسٹریاں منسلک ہیں، کنسٹرکشن انڈسٹری آج پاکستان میں ریکارڈ پر ہے،بنڈل آئی لینڈ پر حکومت سندھ سے بات کررہے ہیں، بنڈل آئی لینڈ پر باہر سے پیسہ آئے گا جبکہ 2 ڈیم بنا رہے ہیں، اس سے زرعی پیداوار اور سستی بجلی پیدا ہوگی، اس کے علاوہ سینٹرل ایشیا تک ٹرین چلنے سے بھی ہماری دولت میں اضافہ ہوگا، ایم ایل ون منصوبہ پاکستان کو وسط ایشیائی ممالک سے منسلک کرے گا۔