قانون پربدنیتی سے عمل ہو تو مسائل جنم لیتے ہیں( چیف جسٹس)

122

اسلام آباد(آن لائن+مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ میں سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون میں جو بھی درج ہے اس پر نیک نیتی سے عمل کرنا ہوتا ہے،قانون مکمل طور پر معصوم اور اندھا ہوتا ہے ،قانون پر بدنیتی سے عمل ہو تو مسائل جنم لیتے ہیں، الیکشن اتحاد کی گنجائش سیاسی جماعتوں میں ہمیشہ رہتی ہے، ہمارا اور آئرلینڈ کا آئین ایک جیسا ہے، آئرلینڈ میں بھی الیکشن خفیہ بیلٹ سے ہوتا ہے، آئرش عدالت عظمیٰ کا بھی اس معاملہ پر فیصلہ موجود ہے،اس حوالے سے حکومتی موقف بھی جاننا چاہیں گے،اگر متناسب نمائندگی میں سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کا میکانزم شامل ہے تو پھر اکثریتی جماعت کا کیا ہوگا؟ایسے میں تو پھر ایوان بالا میں اکثریت والی جماعت اقلیت میں بدل سکتی ہے۔معاملے کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم 5رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت چیف جسٹس کی آبزرویشنز پر اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ آئرلینڈ کی پارلیمنٹ کے 2ہائوس ہیں،آئرلینڈ میان لوئر ہائوس کے انتخابات پاپولر ووٹ سے ہوتے ہیں، آئرلینڈ میں پاپولر ووٹ خفیہ ہوتے ہیں۔ الیکشن اتحاد کی گنجائش سیاسی جماعتوں میں ہمیشہ رہتی ہے۔اگر متناسب نمائندگی میں سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کا میکانزم شامل ہے تو پھر اکثریتی جماعت کا کیا ہوگا؟ ایسے میں تو پھر ایوان بالا میں اکثریت والی جماعت اقلیت میں بدل سکتی ہے۔دورانِ سماعت اٹارنی جنرل پاکستان نے سماعت جلد مکمل کرنے کی استدعا کی اور کہا بدھ تک کیس مکمل نہ کیا گیا تو 3 مارچ کو الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کروا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں سیاسی جماعتوں کے سوا کسی کے دلائل کا کوئی حق نہیں بنتا، بار کونسلز کا سیاسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں، وہ ان کے دلائل سننے کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ رضا ربانی نے مزید کہا کہ رشوت کسی کوووٹ نہ ڈالنے کے لیے بھی دی جاسکتی ہے،جوپیسے ہی اس بات کے لے کہ ووٹ نہیں ڈالوں گاتوکیسے پکڑیں گے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ رولز صدارتی الیکشن کا اختیار دیتے ہیں،الیکشن ایکٹ کے لیے بنے رولز کی حیثیت آئینی نہیں ہے،تمام قوانین کا جنم آئین سے ہوتا ہے،یہ حقیقت ہے کہ صدارتی الیکشن کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا گیا۔پیسہ لینا اور ووٹ دینا دونوں کو ثابت کرنا ہوگا۔عدالت عظمیٰ نے میاں رضا ربانی کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کرنے جبکہ فاروق ایچ نائیک کو اپنے تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت ایک دن کے لیے ملتوی کر دی ہے۔