فوج کی اعلیٰ سطحی تقرریوں پر قیاس آرائیاں نہ کی جائیں، آئی ایس پی آر

126
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار پریس کانفرنس کررہے ہیں

راولپنڈی ( آن لائن ) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے ،گزارش کرتا ہوں کہ اس پر مزید قیاس آرائیاں نہ کی جائیں ،عوام فوج کی طاقت ہوتی ہے ،عوام ساتھ ہو تو فوج کچھ بھی کر سکتی ہے ، اس بار23 مارچ کو یوم پاکستان بھر پور طریقے سے منائیں گے ،یوم پاکستان کامقصدہے ایک قوم،ایک منزل، ، عوام کے تعاون سے ہرچیلنج پرقابوپائیں گے،دہشت گردوں نے پاکستان کو مفلوج کرنے کی کوشش کی جسے پاک فوج نے ناکام بنا دیا ہے ،امن کا سفر کامیابی سے جاری رہے گا ۔عوام کی مدد سے ہی ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ۔ قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال ہوگئی ہے ،طاقت کااستعمال صرف ریاست کی صوابدیدہے، پاکستان نے افغان امن کیلیے بہت مثبت کرداراداکیا،پوری دنیاافغان امن کیلیے پاکستان کے کردارکوسراہتی ہے، پاکستان کے ڈوزیئرکوعالمی برادری نے سراہاہے۔پیر کے روز پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آپریشن ردالفساد کا مقصد ایک پرامن اور مستحکم پاکستان تھا اور ہے اور ہر پاکستانی اس آپریشن کا سپاہی ہے۔ آپریشن ردالفساد کے 4 سال مکمل ہوگئے ہیں اور اس پر قوم کو آپریشن کے ثمرات اور ملک کی مجموعی سیکورٹی صورتحال سے آگاہی دینا ہی اس پریس کانفرنس کا مقصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ 22 فروری 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں آپریشن ردالفسار کا آغاز کیا گیا۔ردالفساد کا بنیادی محور عوام ہیں جبکہ جب مسلح فورس دہشت گردوں سے لڑ رہی ہوتی ہیں تو دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے کی طاقت سے شکست دی جاسکتی ہے، اسی مناسبت سے ہر پاکستانی نہ صرف اس آپریشن کا حصہ ہے بلکہ پوری قوم کی سوچ کے تحت ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ایک نظریہ کا مقابلہ صرف اس سے برتر نظریے یا دلیل کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے، اسی تناظر میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، قبائلی علاقوں کی قومی دھارے میں شمولیت، تعلیمی مدرسہ اور پولیس ریفارم میں حکومتی کاوشوں میں بھرپور معاونت کے ذریعے شدت پسندی کے عوامل پر قابو پانا شامل تھا ۔پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو بڑی حکمت عملی تھی تو اسے 4 الفاظ میں بیان کرسکتا ہوں جو ’کلیئر، بولڈ، بلٹ اینڈ ٹرانسفر‘ تھے، یہ وہ 4 مراحل تھے جس کے تحت ہم نے یہ لڑائی لڑی۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 برسوں میں آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 3 لاکھ 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے گئے۔ جبکہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ برس آپریشن دواتوئی کیا گیا اور اس دوران ساڑھے 7سو اسکوائر کلومیٹر کے علاقے پر ریاست کی رٹ بحال کی گئی ، آپریشن کے دوران 72 ہزار سے زائد غیرقانونی اسلحہ اور 50 لاکھ سے زائد گولہ بارود ملک بھر سے برآمد کیا گیا، اس کے علاوہ 2017 سے 2021 کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے ساڑھے 18 سو واقعات رونما ہوئے، پاک افغان سرحد پر 1684 سرحد پار حملے کے واقعات ہوئے، ان تمام واقعات اور آپریشنز کے دوران 353 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور سیکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سرحدی انتظام کے تحت پاک افغان سرحد پر باڑ کا کام 84 فیصد اور پاک ایران سرحد پر 43 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، فوج میں اعلیٰ سطح کی تقرریوں سے متعلق قیاس آرائیاں نہ کی جائیں ، اس میں کوئی صداقت نہیں، فوج میں بطور ادارہ تعیناتیاں اتنی کم مدتی نہیں ہوتی، ہر کوئی اپنی مدت پوری کرتا ہے اور عام طور پر فوج میں کسی ادارے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی 2 سال کے لیے کی جاتی ہے، میری گزارش ہوگی کہ اس طرح کی قیاس آرائیاں مزید نہ کی جائیں۔سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کام کیا جارہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا روکنے کے لیے قابل ذکر اقدامات کیے ہیں، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کام کیا جارہا ہے، ہم مرحلہ وار اور حکمت عملی سے کام کررہے ہیں، عوام کے تعاون سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے۔اس موقع پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ردالفساد صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھا بلکہ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا اورنیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت بہت حد تک ہوچکی ہے اور کچھ شعبے ہیں ان پر کام ہونا ہے۔ ادارے کی جانب سے جو کام کرنا تھا وہ ہوا ہے اور حکومت نے جو کام کرنا تھا وہ ہو رہا ہے اور جلد مکمل ہوجائے گا۔افغانستان کے امن عمل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل وزارت خارجہ کے دائرے میں آتا ہے اس لیے تفصیلی بات نہیں کروں گا لیکن افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن ہوگا اور پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرے گا لیکن وہاں کے اقدامات انہوں نے خود کرنا ہیں اور امریکی نئی انتظامیہ کے اقدامات سے متعلق مثبت ہیں کہ بہتری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے ہمارے ڈوزیئر کا جواب مثبت دیا اور کئی عالمی تنظیموں نے بیانات اور دستاویزات دی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں کمی آئی ہے اور ان کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچایا گیاہے اور مزید کام کرنا ہے، اس کے لیے نئے اقدامات کرنے ہیں اور ٹیکنالوجی کو متعارف کروانا ہے۔ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کی موجودگی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے جو نکات تھے ان پر اچھا خاصا کام ہوا ہے لیکن پاکستان نے پچھلے 3 سے 4 سال میں جو کام ہوا ہے اس کی توثیق ہر سطح پر ہوئی ہے اور اس حوالے سے ہم بہت مثبت ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف فوج اور پولیس نے قربانیاں نہیں دی بلکہ عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور اس کا اعتراف کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے امدادی کام متعلقہ صوبوں کی حکومتوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔بھارتی میڈیا میں پاکستان مخالف پروگراموں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کو نظر انداز نہیں کیا جاتا ہے اور جہاں ضروری ہو ہم جواب دیتے ہیں اور مستقبل قریب میں ہم اس طرح کے معاملات پر قابو پالیں گے۔چین سے فوج کو ملنے والی کووڈ-19 ویکسین پر بھی سوال کیا گیا اورانہوں نے کہا کہ میڈیا بھی فرنٹ لائن پر ہے اور کس کو دینا ہے یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے اور سب کو دیا جائے گا، جہاں تعلق فوج کا تعلق ہے تو فوج اپنا کام کر رہی ہے اور کرتی رہے گی اور اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ ہم سے زیادہ مستحق وہ ہیں جو خطرے میں کام کرتے ہیں اور آئندہ آنے والی کھیپ میں فوج اورمیڈیا سب شامل ہوگا۔