ترکی ، مصر ،پاکستان اور ایران متحد ہوجائیں تو اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے

593

 

کراچی (رپورٹ: منیب حسین) فلسطینی قوم صدیوں سے اس علاقے پر آباد تھی، جسے آج دنیا اسرائیل کہتی ہے۔ 1948ء میں برطانوی استعمار کے نکلتے ہی دنیا بھر سے جہازوں میں لاد کر لائے گئے یہود کو اس سرزمین پر اسرائیل کے نام سے ایک ملک دے دیا گیا، لیکن یہاں کے مقامی باشندے آج تک اس حق سے محروم رکھے گئے ہیں۔ ماضی میں اسلامی اور عرب ممالک کی جانب سے قضیہ فلسطین کو جو اہمیت دی گئی اور دنیا بھر میں پھیلے سوا کروڑ فلسطینیوں کے لیے ایک ملک کے قیام کی تائید جاری رہی، اس نے صہیونی ریاست کے بہت سے عزائم کو عملی صورت نہیں دینے دی، تاہم اب عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے تیز رجحان اور ان کے حلیف امریکا کی جانب سے صہیونی ریاست کے غاصبانہ اقدامات کو سندِ جواز فراہم کرنے سے مستقبل میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق شکوک وشبہات جنم لینے لگے ہیں۔ دنیا یہ سوچ رہی ہے کہ اس قضیے میں فلسطینیوں کے
اولین حامی یعنی عرب ممالک ہی ان کی حمایت سے دستربردار ہورہے ہیں، تو وہ کون سی طاقت ہے، جو اسرائیل اور اس کے حلیفوں کو آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر مجبور کرے۔ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ امریکا اور اس کے علاقائی اتحادی فلسطینیوں کو بندگلی میں دھکیل رہے ہیں، جس سے نکلنے کے لیے انہیں دشمن کے ساتھ ایک اور معرکے میں اترنا پڑے گا، لیکن اس بار یہ معرکہ فیصلہ کن ہوگا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حماس سمیت فلسطینی تحریک مزاحمت کسی بھی ایسی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ جسارت سے خصوصی گفتگو میں مشرقی بیت المقدس سے باشندے اور اس وقت برمنگھم یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دینے والے سیاسی مبصر اور کالم نگار ڈاکٹر کامل الحواش کا اس سوال پر کہنا تھا کہ تمام فلسطینی جماعتوں کے سیکرٹری جنرلوں نے باہم اختلافات ختم کرنے اور عوامی مزاحمتی تحریک شروع کرنے پر اتفاق کیا، اور مقصد کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، اور ایک مشترکہ بیان میں واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل سے معاہدوں پردستخط کے دن سے فلسطینی قوم کو سڑکوں پر آنے کا کہا گیا، تاہم قوم کی اکثریت نے ان کی آواز پر لبیک نہیں کہا، جبکہ تحریک مزاحمت بھی اس کے بعد سے خاموش ہے۔ تاہم ٹرمپ کی سبکدوشی اور ان سے مختلف سیاست کے حامل جوبائیڈن کی آمد کے ساتھ ہی فلسطینی قیادت نے قومی مصالحت پر توجہ دینا شروع کی، جو اس بات کا اظہار ہے کہ فلسطینی قوم اپنے حقوق اور قضیے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے، اور منتخب فلسطینی قیادت اسرائیل کے آگے جھکنے کے کسی بھی معاہدے کو قبول نہیں کرے گی۔ فلسطینی قیادت اب بھی دوریاستی حل پر یقین رکھتی ہے، لیکن یہودی آبادکاری اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ سیاست نے اسے مشکل بنا دیا ہے، اور فلسطینی قوم مختلف متبادل حل سوچ رہی ہے، جو خاص حق واپسی سمیت ان کے تمام قانونی حقوق انہیں دلا سکیں۔ البتہ جہاں تک مزاحمت کی بات ہے، تو فریقین کے درمیان طاقت کا توازن انتہائی غیرمتوازن ہے، جس نے فلسطینی جماعتوں کو قومی مزاحمت کے لیے یکجہتی پر مجبور کیا ہے۔ بعض تنظیمیں اس وقت بھی ہتھیار جمع کررہی ہیں، لیکن قوم کا جس پر اتفاق ہے، وہ ایک کثیر الجہت ملی مزاحمت ہے۔ اس حوالے سے مصر کے منتخب صدرڈاکٹر محمد مرسی شہید کے مشیر اطلاعات احمد عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ فلسطینی تحریک مزاحمت نے اصل میں تو صہیونی استعمار کو نکال باہر کرنے اور پورے فلسطین کو آزاد کرانے کی جدوجہد جاری رکھی، جس کی حدود دریائے اردن سے بحیرہ روم تک ہیں۔ پھر تحریک مزاحمت کو مذاکرات کے نتیجے میں دشمن کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کرنے پڑے، جو ہر اسرائیل کی جانب سے غزہ پر ہر جارحیت کے بعد ہوئے، لیکن یہ کسی بھی حال میں ممکن نہیں کہ تحریک مزاحمت اسرائیل کے ساتھ دائمی امن مذاکرات کرے، یا اس کے وجود کو تسلیم کرلے، یا اسے ارض فلسطین پر حکومت کا کسی بھی طرح حق دے۔ البتہ اسے روکنے کے لیے تحریک مزاحمت کی کوئی بھی لڑائی اس جنگ کی مانند نہیں ہوگی، جیسی ریاستی افواج لڑا کرتی ہیں۔ یہ دشمن پر گھات لگاکر چھوٹے چھوٹے حملوں کی صورت میں ہوگی، جو دشمن کو بڑے سے بڑا نقصان پہنچائے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ حماس نے صرف ایک بار اسرائیل کو دھمکی دی تھی کہ وہ تل ابیب ائرپورٹ پر میزائلوں کی بارش کردے گی، جس پر دشمن کے جنگی طیاروں نے غزہ پر پروازیں کرنا فوری بند کر دی تھیں۔ فتح کا مدار جوابی حملے پر ہے‘ جب تک دشمن کو دھمکانے کے وسائل اور امکانات موجود ہیں، تحریک مزاحمت ایسا کرنے پر قادر ہے‘ تاہم فلسطینی تحریک مزاحمت کی اہلیت اور صلاحیت سے متعلق سوال پر عرب اسلامی مفکر ڈاکٹر محمد عباس نے مختلف جواب دیا۔ ان کا خیال ہے کہ فلسطینی تحریک مزاحمت سے بڑھ کر اسلامی ممالک کو اتحاد قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اسلامی ممالک خاص طور پر ترکی، مصر، پاکستان اور ایران اتحاد کرلیں، تو اسرائیل ویسے ہی مٹ جائے۔