بھارت میں 20 کروڑ مسلمان نسل کشی کے دہانے پر

167

 

واشنگٹن (آن لائن) بین الاقوامی ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت میں 20 کروڑ مسلمانوںکی ’نسل کشی‘ کاخطرہ ہے ۔یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں ’’نسل کشی اور بھارت کے مسلمانوں کے 10 مراحل‘‘ کے موضوع پر مباحثہ میں حصہ ہوئے کہی۔ مباحثہ انڈین امریکن مسلم
کونسل کے زیر اہتمام کیا گیا۔ عالمی ماہر سربراہ جینوسائیڈ واچ ڈاکٹر گریگری اسٹینٹن نے کہا کہ بھارت میں حقیقتاً مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہیجب کہ مقبوضہ کشمیر اورآسام میں مسلمانوں پر ظلم قتل عام سے پہلے کا مرحلہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں انسانیت کے خلاف منظم جرائم جاری ہیں۔ بابری مسجد کو گرانا اور مندر تعمیر کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ڈاکٹر گریگری اسٹینٹن کے مطابق دہلی فسادات میں پولیس نے سیکڑوں افراد کو حراست میں لیااور ان پرتشدد میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔حقوق انسانی کی ماہر انسانی حقوق ٹینا رمریز نے کہا کہ مسلمانوں پر ظلم ان کی معاشی صورتحال کو بدتر کر رہی ہے، بھارت میں صورتحال اب بھی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہبھارتی مسلمان مستقل خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔حقوق انسانی کی ماہر تیستا سیتلواڈ نے کہا کہ مسلمانوں پر ظلم سے سماجی اور اقتصادی حالت خراب ہورہی ہے، گائے کا گوشت فروخت کرنے کے جھوٹے الزامات پر ہجوم نے مسلم شخص پرتشدد کیا۔ ماہر انسانی حقوق ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار اپنی 14فیصد آبادی کو دبارہا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت مسلمانوں کے انسانی اور آئینی حقوق سے انکار کررہا ہے۔