عوام کا شدید احتجاج ،کراچی میں نالوں پر تجاوزات کیخلاف آپریشن معطل

100

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) شہر قائد کے علاقے محمود آباد میں ہونے والے انسداد تجاوزات آپریشن کو عوام کے شدید ردعمل اور احتجاج کے بعد معطل کر دیا گیا۔ شہر قائد میں قبضہ مافیا نے طاقت کے زور پر تجاوزات کے خلاف آپریشن ناکام بنادیا۔مشتعل مظاہرین نے سرکاری عملے پر فائرنگ کی اورگھنٹوں یرغمال بنائے رکھا۔ ذرائع کے مطابق کے ایم سی کا عملہ بھاری بھرکم مشینری اور پولیس نفری لے کر محمود آباد کے علاقے میں
تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے پہنچا تو خواتین ، بزرگ اور بچوں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، مظاہرین نے احتجاج شروع کر دیا ، وقت گزرنے کے ساتھ مزاحمت بھی بڑھتی گئی ۔ مشعل مظاہرین نے کے ایم سی اور پولیس پر پتھرائو کیا۔ کئی گاڑیوں کے شیشے توڑدیے ۔ سرکاری گاڑیوں اور اینٹی اینکروچمنٹ اسٹاف پر فائرنگ بھی کی۔ حکام کے مطابق ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے کے ایم سی کے فائر اسٹیشن پر قبضہ کرکے کئی اہلکاروں کو یرغمال بنالیا۔ دوسری جانب مظاہرین نے سڑک بلاک کرکے بلوچ کالونی پل اور شہید ملت ایکسپریس وے پر دھرنادے دیا۔ کورنگی کاز وے بھی رکاوٹیں لگاکر بند کردی گئی۔ جس سے علاقے میں بدترین ٹریفک جام رہا۔ سرکاری مشینری حرکت میں آئی اور پکڑ دھکڑ بھی ہوئی۔ لیکن کئی اہلکاروں کے زخمی ہونے کے بعد ایک بار پھر انتظامیہ نے مظاہرین کے سامنے گٹھنے ٹیک کر آپریشن موخرکردیا۔ جس کے بعد مظاہرین نے بھی احتجاج ختم کردیا۔کراچی میونسپل کارپوریشن کی ٹیم محمودآباد کے علاقے منظور کالونی میں واقع نالے پر قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے پہنچی تو انہیں عوام کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔مشتعل افراد اور علاقہ مکینوں نے کراچی میونسپل کارپوریشن کے عملے پر پتھرا کیا جس کے نتیجے میں 2اہلکار زخمی ہوئے جبکہ انہوں نے مشینری کو قبضے میں لیا اور شیشے توڑ دیے۔پولیس نے مشتعل افراد کو گرفتار کرنا شروع کیا تو عوام نے اہلکاروں کو بھی نہ بخشا۔ مظاہرین کی جانب سے کیے جانے والے پتھرائو میں تھانہ بلوچ کالونی کے ایس ایچ او زبیر نواز بھی معمولی زخمی ہوئے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے مزید نفری کو طلب کیا گیا جبکہ جائے وقوع پر موجود پولیس اہلکار منظور کالونی فائر اسٹیشن میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ پولیس اہلکاروں اور کے ایم سی عملے نے فائر اسٹیشن میں داخل ہونے کے بعد دروازے بند کیے جس کے بعد وہاں عوام بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور انسداد تجاوزات آپریشن اور کے ایم سی کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔ مشتعل افراد نے منظور کالونی فائر اسٹیشن پر بھی پتھرائو کیا جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے یہ علاقہ میدانِ جنگ بن گیا۔ بعد ازاں پولیس حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کیے جو کامیاب ہوئے جس کے بعد انسداد تجاوزات آپریشن کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا۔ ایس پی نے بتایا کہ مشتعل مظاہرین منظور کالونی فائر اسٹیشن کا مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے تھے اور انہوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ کشیدگی کے باعث کورنگی ایکسپریس وے پر ٹریفک کو بند بھی کیا گیا تھا جسے کامیاب مذاکرات کے بعد کھول دیا گیا۔پولیس کے مطابق مظاہرین نے مذاکرات کے بعد کراچی میونسپل کارپوریشن کے ٹرک اور مشینری پولیس کے حوالے کردی جبکہ فائر اسٹیشن سے قبضہ بھی ختم کردیا۔