بڑھتی مہنگائی افسانہ یا حقیقت

215

اپنے ہاتھوں میں پکڑے دونوں شاپر جو آج صبح میں نے اپنے پلانٹ کے آگے سے گزرتے سبزی فروش سے خریدے تھے جو کہ بقول اس کے صبح کے پہلے گاہک ہونے کے ناتے اس نے مجھے بہت رعایت کے ساتھ فروخت کیا تھا اپنی اہلیہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ کچھ میٹھا ہو جائے وہ بہت حیرانگی سے بولیں کس بات پر جواباً عرض کیا نیک بخت ذرا دیکھو تو شاپر میں کیا ہے کہنے لگی ارے میں تو اسے ٹنڈے سمجھی تھی مگر یہ تو کچے ٹماٹر ہیں میں نے اپنی نظر والی عینک کو نیچے کیا اور اوپر سے انہیں جھانکتے ہوئے پھر سے گویا ہوا کہ کیوں نہ اس بات پر کچھ میٹھا ہو جائے؟ دوسرے شاپر میں تر وتازہ کچی ہری بھنڈیاں تھیں جسے میں اپنی دانست میں کافی عرصہ بعد ایک اچھی اور سستی شاپنگ قرار دے رہا تھا واقعہ کچھ اس طرح کا ہے کہ بیچارہ ریڑھی بان علی الصباح اپنے پہلے ویل آف گاہک کو دیکھ کر خوشی میں غالباً کچھ بوکھلا سا گیا اور میرے سادہ الفاظ کو کچھ اور سمجھ بیٹھا میں نے اس سے اس کے کچے پکے ٹماٹر کی قیمت پوچھی تو اس نے مجھے دو سو روپے کلو بتائی میں نے کہا سو روپے کلو میں سارے کچے ٹماٹر لوں تو کیا دو گے؟ وہ بیچارہ لفظ سارے سے مراد پوری لاٹ سمجھا جب کہ میری سارے سے مراد صرف کچے ٹماٹر تھے اس نے دھڑا دھڑ چھانٹی شروع کی اور جب وہ بہت زیادہ ٹماٹر اکٹھے کر چکا تو مجھے ہر دو جانب کے (perception) فہم میں تفریق سی محسوس ہوئی میں نے اس کا ہاتھ روکتے ہوئے کہا بھائی مجھے تو صرف ایک کلو چاہیے تھا اس نے کہا جناب پھر تو نہیں ہوگا میں تو سارے سمجھا تھا میں نے اپنی بے جا بقراطی پر خفت محسوس کرتے ہوئے کہا کہ بھائی کوئی زبردستی نہیں اگر اس میں تمہارا نقصان ہے تو نہ دو مگر چونکہ علی الصباح میں اس کا پہلا گاہک تھا وہ بزرگوں سے سنے خیالات کے مطابق اپنی بونی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا اس باعث اس نے نہ صرف مجھے سو روپے کلو میں ٹماٹر دے دیے بلکہ 120 کلو والی بھنڈیاں بھی 80 روپے کلو میں فروخت کر دیں۔
مندرجہ بالا افسانوی تمہید آج کی حقیقتوں میں سب سے بڑی حقیقت ہے ملک میں غربت بیروزگاری تو ہمیشہ رہی ہے مگر اب مہنگائی کا جن بالکل بے قابو ہو چکا ہے اور پہلے مہنگائی کا رونا صرف غرباء کی ذمے داری تھی مگر آج ہر کس و ناکس اس کا رونا روتا ہے وزیر اعظم نے خود اعتراف کیا کہ لاکھوں کے وظیفہ میں ان کے اخراجات پورے نہیں ہوتے تو پھر خود ہی سمجھ جائیں کہ عامۃ الناس کا کیا ہوگا جبکہ قبلہ وزیر اعظم کو نہ تو گھر کا کرایہ دینا پڑتا ہے، نہ ہی گیس و بجلی کے بل، نہ ہی دوا دارو کے اخراجات، نہ ہی بار برداری اور سواری کا کوئی خرچہ اور نہ ہی بچوں کے اسکول کی فیس اور گرامر اسکولوں کے تعلیم کے نام پر اپنی کمائی کی غرض سے روزانہ گرین ڈے، پنک ڈے، فروٹ ڈے اور مختلف تقریبات کے اہتمام کی نت نئی فرمائشوں کی بجا آوری۔ واضح رہے کے ہمارے ملک کے وزیر اعظم اتنے سادہ ہیں کہ 55/ روپے کلو میٹر میں بذریعہ ہیلی کاپٹر وہ اپنے گھر سے اپنے دفتر کا سفر طے کرتے ہیں اور جس کی ادائیگی ریاست مدینہ کے بیت المال سے کی جاتی ہے دروغ گوئی وہ اس لیے نہیں کرتے کے وہ ریاست کے منصف اعلیٰ جس نے ملک کے ڈیمز کی چوکیداری کا عوام سے وعدہ کیا تھا کے تصدیق شدہ صادق اور امین ہیں جن کا حال یہ ہے کہ وہ خود کیا ان کے ارد گرد موجود بے شمار خوشامدی خصوصاً لفافہ صحافی انہیں کرپشن سے پاک سمجھتے ہیں مگر اس بات کو کہتے جھجکتے ہیں کہ ان کی ناک کے نیچے چالیس چوروں کا ٹولہ روزانہ کی بنیاد پر کرپشن کرتا ہے جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
چینی آٹا مافیا کے خلاف کوئی کارروائی اس لیے کرنے سے قاصر ہیں کہ دونوں مافیا ان کی اے ٹی ایم مشین کے طور پر جانی جاتی ہیں اور جن میں سے ایک کے ذاتی طیارے پر دور اور قریب کے ارکان صوبائی اور قومی اسمبلیوں کو سواری کھلائی گئی جس کے باعث وزیر اعظم کی سواری باد بہاری اپنی موج مستیوں میں مگن ہے جنہیں گرتی معیشت، اسٹاک ایکسچینج کی تباہی، ڈالروں کے ریٹ کے اتار چڑھائو کے بارے میں ٹی وی دیکھ کر پتا چلتا ہے یا کبھی کبھار ان کی وفا شعار زوجہ محترمہ انہیں یاد دلاتی ہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں جن کی حکومت میں وزراء اپنے محکموں سے بے خبر صرف وزیر اعظم کے گن گاتے ہیں اور ان کا سارا وقت اس راگ درباری میں گزرتا ہے کہ حکومت اور ادارے ایک پیج پر ہیں جن میں ایک ہر دور کے لوٹا وزیر موصوف شیخ رشید ہیں جن کے ڈھائی سالہ دور میں ان کے قلمدان کی ریلوے سو سے زائد حادثات کا شکار ہوئے اور جس میں سیکڑوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا مگر وہ کبھی وزیر اعظم کی چاپلوسی اور کبھی عسکری اداروں کے خود ساختہ ترجمان بن کر روزانہ ہی اپنی جھوٹی پیش گویاں جھاڑتے رہتے اس بات پر انہیں کبھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی یہی حال دیگر وزرا کا ہے جن میں فواد چودھری، حفیظ شیخ، غلام سرور، خسرو بختیار و دیگر سارے ہی لوٹے جو پچھلی حکومتوں میں بھی وزارت کے مزے لوٹ چکے ہیں انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ملک کی معیشت کی تباہ کاریاں پچھلی حکومتوں کی وجہ سے ہیں جن کے دور میں چینی 55 آٹا 35 پٹرول سو روپے سے نیچے ادویات کی قیمتیں آج کے نرخ سے چالیس فی صد کم اور ڈالر 120 کے آس پاس مستحکم تھا ریلوے کے حادثات کم اور مہنگائی کا جن قابو میں تھا وغیرہ
اس اچانک مسرت کے ملنے کے بعد میں ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہو کر دوبارہ اپنے روزگار پر جانے سے قبل ایک ایسے سبزی فروش کے پاس گیا جس کی دکان کچی اور پکی آبادیوں کے درمیان ایک چوک پر ہے میں نے اس سے سارا مدعا بیان کرنے کے بعد گزارش کی کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے یہ فرض کرے کہ میں ایک متوسط طبقہ کی محدود آمدن والا شخص ہوں اور یہ کہ اس کا روز کا گاہک اور سب سے بڑھ کر اس کا قریبی جاننے والا وہ مجھے ان باتوں کا لحاظ کر کے اپنے نرخ بتائے اس نے جو نرخ (کراچی) دیے وہ آپ خود ملاحظہ کیجیے آلو 70 روپے کلو، پیاز 80، ٹماٹر 200، ہری مرچ، شملہ مرچ، لیمو اور لہسن 300 روپے کلو، گوبھی، بند گوبھی، توری، گاجر، ٹنڈے 100 روپے، بھنڈی 120، کریلے 140، لوکی اور بیگن 60 جبکہ ادرک 600 روپے کلو ہے ذکر جب سبزیوں کا ہورہا ہے تو وزیر اعظم کا دیرینہ خواب کٹے انڈے اور مرغیوں کی قیمت بھی آپ کو بتاتے چلیں جو بالترتیب 600، 180 اور 300 روپے کلو ہے۔ عوام پر بڑھتی مہنگائی کے بوجھ کا اندازہ صرف اس بات سے کیا جا سکتا ہے کے صرف گندم اور چینی کی مد میں 330 ارب روپے ان کی جیبوں سے چھینے جا چکے ہیں۔ بقول شخصے حکومت کا کام مہنگائی کا اعتراف کرنا نہیں مہنگائی کو روکنا ہے۔
گزشتہ ہفتے ہی کی بات ہے ہمارے ٹرسٹ نے ذریعے سفید پوش لوگوں میں ایک ماہ کا راشن مفت فراہم کیا جو تین دنوں میں تین نئے نرخ کے ساتھ مکمل ہوا یعنی پرانے آرڈر میں اگر کچھ بیگ بڑھانے کا کہا گیا تو ہر نئے آرڈر پر تیس روپے زائد اس لیے دینے پڑے کہ آٹے کی قیمت کا اتار چڑھائو ڈالر اور سونے کی قیمتوں کی طرح روز بدل رہا ہے میری ساری گفتگو کو کسی طور پر حکومت مخالف نہ لیجیے خود جائزہ لیجیے اور خود ہی فیصلہ کیجیے کہ ریاست مدینہ کے نام پر کہیں ہم دھوکا تو نہیں کھا گئے اور کیا مستقبل میں بھی ہم کسی ایسے ہی دھوکا اور فریب کا شکار تو نہیں ہوجائیں گے؟