جسٹس شوکت صدیقی کی بر طرفی کے خلاف فریقین کو نوٹس کی استدعا مسترد

89

اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک+اے پی پی + آن لائن)عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کی جانب سے فریقین کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان سے آرٹیکل 211 پر معاونت طلب کر لی ۔جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں5رکنی لارجر رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کیبرطرفی سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال نے وکیل درخواست گزار حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 211 کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں کونسل کی رائے کو چیلنج کیا گیا ہے،پہلے آپ کو کونسل کی کارروائی اور رائے کو چیلنج نہ کرنے کی آئینی قدغن پر عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا،آپ نے ہمیں پورا آئینی ڈھانچہ سمجھانا ہے ، آپ کو عدالت کو اس نقطے پر بھی مطمئن کرنا ہوگا کہ جج کو ہٹانے سے متعلق کونسل کی رائے کے خلاف اپیل کا حق کیوں نہیں دیا گیا، کیا آپ چاہتے ہیں کہ کونسل کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے،آپ آرٹیکل 211 پر عدالت کی معاونت کریں ممکن ہے کہ عدالت آرٹیکل 211 کی تشریح کرے،کونسل کی کارروائی چیلنج کرنے کے اصول پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلہ آ رہا ہے ،آپ انتظار کریں، کیس کی سماعت ایک ماہ تک کے لیے ملتوی کرتے ہیں، تب تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ آجائے گا تو آپ کے پاس دلائل کے لیے کافی مواد مہیا ہو جائے گا۔دوران سماعت وکیل درخواست گزار حامد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ جب تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا تفصیلی فیصلہ نہیں آتا فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں۔ عدالت عظمیٰ نے حامد خان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ بظاہر جج کو ہٹانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے کو چیلنج کرنے پر آئینی قدغن موجود ہے۔علاوہ ازیںاحتساب عدالت کے جج سیّد اصغر علی کی عدالت میں زیر سماعت سابق صدر پاکستان آصف زرداری وغیرہ کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں 2 گواہوں کے بیانات قلمبند کر لیے گئے۔ جمعرات کو سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ آصف زرداری کی طرف سے ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے استثنا کی درخواست دی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے وکلا صفائی کے اعتراضات کو ریکارڈکاحصہ بناتے ہوئے سماعت یکم اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔دوسری جانب احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان کی عدالت میں زیر سماعت جعلی اکاؤنٹس کے پنک ریذیڈنسی ریفرنس میں 2 شریک ملزمان نے بھی بریت کی درخواستیں دائر کردیں۔گزشتہ روز سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر وسیم جاوید ، عبد الغنی مجید دیگر ملزمان عدالت پیش ہوئے جبکہ ملزم اسلم قریشی کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی جس پرجج احتساب عدالت نے اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ تاخیری حربے استعمال نہ کیے جائیں، جس پر وکیل احسن قریشی نے کہاکہ آئندہ سماعت پر ملزم ہر صورت پیش ہوگا، اس پر عدالت کے جج نے کہاکہ آج نہیں تو کل اس ریفرنس میں فرد جرم تو عاید کرنی ہے۔عدالت نے شریک ملزم اسلم قریشی کے وکیل کی درخواست پر ایک روزاستثنا کی درخواست منظور کر لی۔اس موقع پر2 شریک ملزمان علی گل اور قربان علی نے بریت کی درخواستیں دائر کردیں اورپنک ریذیڈنسی ریفرنس میں عبد الغنی مجید سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عاید نہ ہو سکی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28ستمبر تک ملتوی کردی۔