فیس بک نے پاکستانی اکاؤنٹس کے ’’منظم نیٹ ورک ‘‘کومعطل کردیا

121

اسلام آباد(صباح نیوز)دنیا میں سماجی رابطوں کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے پلیٹ فارم پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے 103 ویب پیجز، 78 گروپس، 453 انفرادی اکاؤنٹس اور107 انسٹا گرام اکاؤنٹس پر مشتمل ایک ایسے ‘منظم نیٹ ورک’ کو معطل کردیا ہے جو مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ فیس بک کے مطابق
انہوں نے ان مشتبہ اکاؤنٹس کی چھان بین کی تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ اکاؤنٹس ’منظم اور غیر مصدقہ رویے‘ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ فیس بک نے ان اکاؤنٹس اور صفحات سے متعلق معلومات امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے انٹرنیٹ آبزرویٹری گروپ (ایس آئی او) کو فراہم کیں تھیں۔اس گروپ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں سب سے اہم قدر مشترک یہ سامنے آئی کہ معطل کیے جانے والے اکاؤنٹس منظم طریقے سے بڑے پیمانے پر ایسے اکاؤنٹس کو رپورٹ کر رہے تھے جو پاکستان، اسلام، پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج کے خلاف مواد شائع کرتے تھے۔تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ معطل کیے جانے والے اکاؤنٹس احمدی گروپ سے منسلک اکاؤنٹس کو بھی معطل کرنے کے لیے رپورٹ کرتے اور اس نیٹ ورک کے پیجز اور اکاؤنٹس پر شائع مواد پاکستانی فوج، پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی تعریف سے بھرے ہوئے تھے۔ایس آئی او کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ معطل کیے جانے والے صفحات اور اکاؤنٹس کا نیٹ ورک فیس بک پر ’بڑے پیمانے پر انتہائی منظم طریقے‘ سے ایسے اکاؤنٹس اور پیجز کی شکایت کرتے ہوئے انہیں رپورٹ کر رہا تھا ’جو اسلام مخالف اور پاکستان مخالف تھے۔ایس آئی او کے مطابق ’آٹو رپورٹر‘ نامی یہ طریقہ کار بنانے والے صارف نے باقاعدہ طور پر یہ لکھا ہے کہ اس طریقہ کار کو بنانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ’اْن اکاؤنٹس کو رپورٹ کیا جائے جو اسلام مخالف، پاکستان مخالف اور خطرے کے باعث بن سکتے ہوں۔ایس آئی او نے اپنی تحقیق میں ذکر کیا کہ فیس بک کی جانب سے معطل کیے جانے والے پورے نیٹ ورک میں قدر مشترک بات یہ تھی کہ ’اس میں شامل تمام صفحات اور اکاؤنٹس میں قوم پرست مواد کا پرچار کیا جاتا تھا اور بالخصوص پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی تعریف کی جاتی تھی۔اس کے علاوہ دوسری بات یہ سامنے آئی کے ’نیٹ ورک کے اکاؤنٹس حکومتی جماعت پی ٹی آئی کی واضح حمایت اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی مخالفت کرتے نظر آئے۔ایس آئی او کی جانب سے تحقیق میں لکھا گیا ہے کہ ’اس نیٹ ورک میں شامل اکاؤنٹس بھارت مخالف مواد بھی شائع کرتے اور خالصتان تحریک کی حمایت میں پوسٹس کرتے نظر آئے،ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اس نیٹ ورک سے بھارتیہ جنتا پارٹی، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، انڈین فوج کے خلاف مواد شائع کیا جاتا رہا ہے۔