قومی اسمبلی:ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بل منظور ،اپوزیشن کا شدید احتجاج ،اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ

175
اسلام آباد، ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بل منظور۔اپوزیشن کا شدید احتجاج،اسپیکر ڈائس کا گھیرائو۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی جانب سے سخت شور شرابے کے باوجود حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق 2 بل ایوان سے منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی۔پارلیمان کے ایوان زیریں کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا جس میں وزیر خارجہ کی گزشتہ روز کی طویل تقریر کے جواب میں خواجہ آصف نے تقریر کی اور شاہ محمود قریشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ان کی تقریر کے بعد متعدد مرتبہ شاہ محمود قریشی نے ذاتی وضاحت دینے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن نے کل موقع نہ ملنے کی وجہ سے انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا۔ اس دوران ایوان میں سخت شور شرابہ دیکھنے میں آیا اور ایوان کی کارروائی 3 مرتبہ ملتوی ہوئی۔بعدازاں اسی شور شرابے کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بل انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور اقوامِ متحدہ (سیکورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020 پر ووٹنگ کروائی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ رانا ثنا اللہ کی ترمیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئی۔ایوان میں گو نیازی گو نیازی کے نعرے لگے۔ ایک ٹکے کے دو نیازی گو نیازی گو نیازی کے نعرے بھی لگے ۔قومی اسمبلی سے منظور ترمیمی بلز فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طرف سے دی گئی ہدایات کی روشنی میں تیار کیے گئے ہیں۔نئے قوانین کے تحت مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست شیڈول 4 میں شامل افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے اور ایسے افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے گا جس فرد نے مشتبہ دہشت گرد کو قرض دیا اس پر ڈھائی کروڑ جب کہ ادارے کو 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔انسداد دہشت گری ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کی سیکشن 11 جے کے مطابق کسی شخص یا گروپ کو دہشت گردی مقاصد کے لیے بیرون ملک بھیجنے میں مدد یا مالی معاونت دینے والوں کو بھی اسی طرح جرمانے ہوں گے۔ سیکشن 11 او او کے مطابق کسی بھی کالعدم تنظیم یا اس کے نمائندے کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائداد فوری منجمد کی جائے گی۔ سیکشن 11 کیو کے مطابق جائداد کی تصدیق نہ ہونے پر عدالتی دائرہ کار سے باہر کی جائداد بھی قرق کی جاسکے گی۔ منجمد کیے گئے اثاثہ جات کاگزٹ نوٹیفکیشن بھی نکالا جائے گا اور ایسے افراد کو اپنے بنیادی اخراجات چلانے کے لیے اپنی جائداد کا ایک حصہ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جس کی منظوری ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر وفاقی حکومت دیا کرے گی۔قومی اسمبلی سے منظور کی گئی ان ترامیم کی سینیٹ سے منظوری کے بعد اس قانون کا اطلاق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزا پانے والے تمام مجرموں اور فورتھ شیڈول میں شامل مشتبہ دہشت گردوں پر ہوگا۔تفتیشی افسر دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات کے دوران عدالت کی اجازت سے کسی شخص کے ذرائع مواصلات اور کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کرسکے گا اور وہ انڈرکور اور کنڑول ڈیلیوری آپریشنز بھی کرسکے گا۔علاوہ ازیںن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے اپنے خطاب میںوزیر خارجہ کے گدی نشین ہونے کے تناظر میں ذاتی نوعیت کے ریمارکس دیتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ آمدن اور اثاثوں میں قبروں سے حاصل ہونے والی کمائی بھی شامل ہونی چاہیے اگر میرے آمدن سے زائد اثاثے ہیں تو ان کے قبروں سے زائد اثاثے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ بیٹھ کر لوگوں سے زیور حاصل کر کے جیبوں میں ڈالتے ہیں اور نوٹوں کی گڈیاں وصول کرتے ہیں اسے بھی نیب قانون میں شامل ہونا چاہیے۔ یہ سرِعام کرپشن کرتے ہیں، اسٹیج پر بیٹھ کر مذہبی نعرے لگاتے ہیں اور پیسے پکڑتے ہیں اور یہاں آکر ہمیں ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ شرافت پر لیکچر دیتے ہیں، شرم آنی چاہیے۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے مزید کہا کہ پورا ملک کھا گئے، لوگوں نے پارٹی فنڈ کے لیے پیسے دیے انہوں نے اپنی جیب میں ڈال لیے، 6 سال ہوگئے وہ کیس زیر التوا ہے جس پر انہوں نے حکم امتناع حاصل کررکھا ہے کیوں کہ وہ کیس ان کے چہرے بے نقاب کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ٹی تبدیلی کا مقبرہ بن چکی ہے اس پر احتساب کیوں نہیں ہوتا، ریفرنس کیوں نہیں بنتا، کل ایک روز کے اندر شاہد خاقان عباسی ان کے بیٹے، شہباز شریف، سلمان شہباز، حمزہ شہباز پر ریفرنس بن گیا، ان پر بھی قبروں کا ریفرنس بنائیں، فارن فنڈنگ، مالم جبہ، بی آر ٹی کا ریفرنس بنائیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ کہاں کا احتساب ہے، یہ احتساب نہیں ہے سیاسی انتقام ہے جس سے ہم چاہتے ہیں کہ یہ بھی بچیں اور ساری سیاسی برادری بچے۔پی ٹی آئی حکومت پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے خیبرپختونخوا میں کوئی بے ایمان نہیں ہے، وہ جنت کا ٹکڑا ہے سارے فرشتے وہاں پر رہتے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر ان کا ایجنڈا بدعنوانی کے خلاف ہے تو ان کی صفوں میں ایسے بڑے بڑے مہا کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں جس کی مثال پاکستان کی کسی حکومت کے دور میں نہیں ملتی، اپنے صوبے میں احتساب کمیشن ختم کردیا ہے۔بعدازاں اجلاس میں بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت کا ایک ہی مقصد ہے کہ نیب قانون میں ترمیم ہوجائے اور ان کی جان چھوٹ جائے اور اپنی پوری تقریر میں کل وزیر خارجہ نے صرف ایک بات ثابت کرنے کی کوشش کی حکومتی بینچز پر بیٹھے افراد ایماندار اور اپوزیشن اراکین بدعنوان ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اراکین کا احتساب نہیں ہوتا صرف اپوزیشن کا ہوتا ہے میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ برداشت کریں کیوں کہ حکومت جس راستے پر چل رہی ہے اس میں نظر آرہا ہے کہ بہت جلد ان کی بولتی بند ہونے والی ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے خطاب شروع کیا تو اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور ’’نو ‘‘،’’نو‘‘ کے نعرے لگا نا شروع کر دیے۔،مراد سعید نے کہا کہ جتنا دل کرتا ہے شور کر لیں این آر او نہیں ملے گا،کسی کو بھی معاف نہیں کریں گے،انشاء اللہ احتساب ضرور ہوگا۔