سینیٹ میں حکومت کو شکست ، این ایف سی ایوارڈ میں ترمیم کی تحریک مسترد

177

 

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)سینیٹ نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)ایوارڈ میں آئینی ترمیم کا حکومتی بل پیش کرنے کی تحریک مسترد کردی۔سینیٹربیرسٹر محمد علی سیف کو آئینی ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کرنے کی اجازت نہ ملی اور بل پیش کرنے کے حق میں 17جب کہ مخالفت میں 25ووٹ آئے۔تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی نے بل کی حمایت کی۔ اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی، جمعیت
علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر نے بل کی مخالفت کی۔اس دوران ترمیمی بل پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرمی بھی جاری رہی۔بل پر ووٹنگ کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا کہ 18ویں ترمیم کوئی صحیفہ نہیں ہے، اس پر ضرور بات ہو گی۔ اتنی دولت فرعون کے پاس نہیں تھی جتنی اپوزیشن کے پاس ہے۔سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ صدارتی نظام کے دور میں ہی ملک کے ٹکڑے ہوئے، کسی میں جرات نہیں کہ صدارتی نظام کو لے کر آئے یا 18ویں ترمیم کو ختم کرے۔مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ لوگ تاریخ نہیں پڑھتے،صدارتی نظام سے ملک دولخت ہوا،کراچی میں قتل و غارت اور نواب اکبر بگٹی کا قتل بھی صدارتی نظام میں ہوا،پلے نہیں دھیلا کرتی میلا میلا،6 وزیر اعظم بنے گھوم رہے ہیں ،پہلے گھر کو تو ٹھیک کرو۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے پی آئی اے کو زمین بوس کر دیا لیکن میرے بارے میں کہا جا رہا ہے ان کے 17رشتہ دار پی آئی اے میں ہیں، میرا کوئی بھائی یا رشتہ دارپی آئی اے میں ثابت ہو جائے تو استعفا دے دوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک بیان دے کر قومی ائر لائن کو 33ارب کا نقصان پہنچا دیا گیا، حیران ہو کہ حکومت کیسے چل رہی ہے،ایسی ایسی کرپشن ہو رہی ہے کہ کچھ عرصے بعد بہت سے لوگ جیل میں ہوں گے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عطاالرحمن نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو اگر چھیڑا تو یہ ملک ہی نہیں رہے گا، اس بل پر بحث ملک توڑنے کے مترادف ہے اور ہم اس ملک کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔