بابر اعظم کو اعتماد دے کر 10 سال چلائیں،انضمام الحق

96

لاہور(جسارت نیوز)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر اور سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد نے ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی 2017 جتوائی، ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نمبر ون بنایا، انہیں بطور کپتان مزید وقت ملنا چاہیے تھا۔ انضمام کا خیال ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈپی سی بی نے سرفراز کو جلدی ہٹادیا، کپتان تجربوں سے ہی سیکھتا ہے اور جب سیکھتا ہے اس کو ہٹادیا جاتاہے۔ایک انٹرویو میں انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ ٹیم میں تسلسل نہ ہونے پر کھل کر بات کی اور کہا کہ جب پلیئرز اور کپتانوں کو یہ خوف ہوگا کہ وہ آج ہیں، کل نہیں تو ان کی کارکردگی متاثر ضرور ہوگی۔ کھلاڑی ایک یا دو سیریز سے ٹاپ پلیئرز نہیں بن جاتے، جب صلاحیتیں سامنے آجائیں تو ان کو ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جائے، ایسے میں سلیکٹر کی نظر کا کردار بھی کافی اہم ہوتا ہے۔سابق کپتان نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کو موقع کے ساتھ ساتھ اعتماد دینا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ بھرپور انداز میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرسکیں۔ بابر اعظم شروع میں ٹیسٹ کرکٹ میں لڑکھڑا رہے کرتے رہے لیکن ان کی صلاحیت سے کسی کو انکار نہیں تھا اس لیے ہر کسی نے بابر اعظم کو اعتماد دیا اور آج وہ ہر فارمیٹ میں اچھا پرفارم کررہا ہے۔ورلڈ کپ 1992 کی فاتح ٹیم کے رکن نے مزید کہا کہ لوگ عمران خان کی مثال دیتے ہیں، عمران خان نے بھی 10 سال بعد تیسرے ورلڈ کپ میں جاکر ٹیم کو کامیابی دلوائی کیوں کہ اس وقت تک انہیں ٹیم لڑانے کا بھرپور تجربہ ہوچکا تھا، اب ہم دو تین سال میں کپتان بدل دیں گے تو اس کو تجربہ کیسے حاصل ہوگا؟ کپتان مار کھاکر ہی تجربہ حاصل کرتے ہیں اور جب کپتان تجربہ حاصل کرنے لگتا ہے تو اسکا ہٹا دیا جاتا ہے جو پاکستان کرکٹ کیلئے بہت تکلیف دہ دہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بابر اعظم کو کپتان بنایا ہے تو اسے اعتماد دیں اور لمبا چلائیں، اگر اچھا کپتان ثابت ہوتا ہے تو آٹھ دس سال اس کے ساتھ چلائیں۔انضمام نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ بابر اعظم ڈمی کپتان ثابت ہوں گے، ان کی اپنی کرکٹ کی سمجھ بوجھ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ٹیم کس طرح چلانی ہے لیکن ایک چیز ضروری ہے کہ کپتان اپنی پرفارمنس پر بھی فوکس رہے کیوں کہ پورے اسکواڈ میں سب سے اہم بندہ کپتان ہوتا ہے نہ کہ کوچ یا کوئی اور ، کپتان ہی ہوتا ہے جو فیلڈ میں پلیئرز کو لڑاتا ہے اس لیے کپتان کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔