بھارت متعصب ملک ہے،کسی صورت سیریز نہیں ہونی چاہئے،جاوید میاں داد

72

کراچی (رپورٹ : عارف میمن )بھارت مسلمانوں کا قاتل ملک ہے ،کشمیر میں ہونے والے ظلم پر ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے ،ایسے میں کرکٹ کی بات مذاق ہے ،مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ایسے میں بھارت سے کرکٹ سیریز کے حوالے سے میں حق میں نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار لیجنڈ کرکٹر جاوید میانداد نے نمائندہ جسارت سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ جاوید میانداد نے کہاکہ جو لوگ پاک بھارت کرکٹ کے لیے کہہ رہے ہیں انہیں پہلے کشمیر کے حالات دیکھنے چاہییں،اور ساتھ میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پاک بھارت کرکٹ سے فائدہ کسے ہور ہا ہے ، فائدہ بھارت لے جاتا ہے اور ہم یہاں خوش ہوتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ میں تو یہ کہتاہو ں کہ بھارت کا ہر سطح پر مکمل طورپر بائیکا ٹ ہونا چاہیے جب تک وہ مسلمانوں پر ظلم بند نہیں کرتا۔ جاوید میانداد نے ایک اور سوال کے جواب میں کہاکہ سب کچھ کرکٹ نہیں ہوتا، بھارت مسلمانوں کا قتل کرتا رہے اورہم کرکٹ کھیلتے رہیں ،بحیثیت مسلمان ہم کس طرح گوارا کرلیں کہ وہ ہمارے بھائیوںکو مارتا رہے اور ہم سے دوستی کی پینگے لڑاتے رہیں۔ خاص موجودہ گورنمنٹ میں تو یہ کام ہرگز نہیں ہوسکتا۔ انہوںنے کہاکہ اگر آئی سی سی کھیلنے کے لیے کہتا ہے تو پھر نیوٹرل مقام پر سیریز ہونی چاہیے ، کیوں کہ نہ تو بھارت پاکستان آنا چاہتا ہے اور نہ ہی پاکستان بھارت جانا چاہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی ہندو ازم کا کارڈ کھیل رہا ہے سب سے پہلے تو اسے یہ بند کرنا ہوگا ۔ کرکٹ امن کے ماحول میں کھیلی جاتی ہے ایسے ماحول میں کرکٹ نہیں کھیلی جاتی جہاں وہ مسلمانوں کا قتل کرتا رہے ۔ اگر فرض کریں کہ کرکٹ سیریز کھیلی بھی جاتی ہے تو ان لوگوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس سے کس کو زیادہ فائدہ حاصل ہورہا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے تمام فائدہ بھارت کے حصے میں جائے گا۔ بھارت میں کھیلی جانے والی کوئی بھی سیریز میں اسٹیڈیمز فل ہائوس رہتے ہیں ۔ ایک ،ایک ٹکٹ ایک ، ایک لاکھ روپے تک کا بکتا ہے ۔ اس سے ہمیں کیافائدہ ہوگا یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوںنے کہاکہ کرکٹ ہو یا کچھ اور ،کچھ لو کچھ دو کی پالیسی ہونی چاہیے۔لیکن اس سے پہلے بھارت کو اپنے ملک سے دہشت گردی ختم کرنی ہوگی اس کے بغیر پاکستان بھارت سے کرکٹ نہیں کھیل سکتااور نہ ہی کھیلنا چاہیے۔ میں اس کی مخالفت کروں گا۔ بین اسٹوکس کے اس بیان پر کہ ورلڈکپ2011ء میں بھارت جان بوجھ کر انگلینڈ سے ہارا تھا کہ جواب میں جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ وہ باتیں پرانی ہوگئیں ہیں اب ایسی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب تک اس گیم کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوجاتا اس وقت تک کوئی بھی بات کرنا بہتر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی بھارتی کرکٹ میں ایسا ہی ہوتا ہے وہ اپنے فائدے کے لیے کھیلتے ہیں ،ورنہ اتنا پیسہ کون سا بورڈ دیتا ہے جتنا یہ لوگ دیتے ہیں ۔ لیکن اگر پاکستان اور بھارت کے پیسے کو کمپیئر کرکے دیکھا جائے تو ہم ہر لحاظ سے بہتر ہی نکلیں گے۔ ہمارا ایک روپے ان کا سو روپیہ بنتا ہو تب بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ ایک روپے 140کروڑ لوگوں پر تقسیم کرے گا، جب پاکستان ایک روپے 20کروڑ لوگوں پر تقسیم کرے گا ایسے میں ہم ہی بہتر ہوئے۔ جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ بھارت میں جتنی مہنگائی ہے اتنی پاکستان میں نہیں۔ ان کا ایک ہزار روپیہ بھی کسی کام نہیں ،جب کہ ہمارا سو روپیہ بھی بہتر ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ فکسنگ بھارت کی ایجاد ہے یہ کہانیاں 70ء کی دہائی سے چلتی آرہی ہیں ۔ ان کے مذہب اور ملک میں جواء حلال ہے جب ہمارے مذہب اورملک میں جوا ء حرام ہے ،اس لیے بھارت جوئے کو زیادہ ترجیح دیتا ہے ۔ ان کے یہاں ہولی ہو یا دیوالی ہرتہوار پر جواء سٹا اورشراب عام چلتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی مسلمانوں کا قتل عام کرکے بھارت کو دوسری طرف لے کر جا رہا ہے اور میری وہاں کے لوگوں سے اپیل ہے کہ انتخابات میں ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو مذہب اور انسانیت دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہوں ۔ آخر میں جاوید میانداد نے کہاکہ کرکٹ سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں مگر مودی سرکار یہ نہیں چاہتی کہ تعلقات بہتر ہوں اس لیے کرکٹ میں بھی سیاست کو لے آئے ہیں اس لیے جب تک وہ کرکٹ کو سیاست سے پاک نہیں کرتے ان کے ساتھ کھیلنے کی حمایت نہیں کرسکتا۔