رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد ممکن نہیں،کرکٹ آسٹریلیا

79

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کرکٹ آسٹریلیا نے غیر رسمی طور پر تصدیق کی ہے کہ رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا۔جمعہ کو ویڈیو کال پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سی اے کے چیف ایگزیکٹو کیون رابرٹس نے کہا کہ اکتوبر، نومبر میں میگا ایونٹ کروانے کی امید کرتے رہے ہیں لیکن اب کہا جاسکتا ہے کہ یہ ہائی رسک ہوگا۔ انہوں نے آئندہ سال فروری، مارچ یا اکتوبر،نومبر میں نئی ونڈوز کی نشاندہی بھی کی۔یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2020 آسٹریلیا میں شیڈول ہے جبکہ 2021 کا میزبان بھارت ہے، اگر آسٹریلیا میں شیڈول ایونٹ ملتوی کرکے اگلے سال کروایا جاتا ہے تو بھارت کو بھی ایک سال کی تاخیر گوارا کرنا ہوگی جس کے لیے وہ آمادہ نظر نہیں آتا۔بی سی سی آئی کی کوشش ہے کہ رواں سال ورلڈ کپ ملتوی کیا جائے تاکہ اس کو آئی پی ایل کروانے کا موقع مل سکے اور آسٹریلیا میگا ایونٹ کی میزبانی اکتوبر 2022 میں کرے۔دوسری طرف ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے مستقبل پر فیصلے کیلیے گزشتہ روز ہونے والا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)کا بورڈ اجلاس نئے تنازعے کا شکار ہوگیا جس کے بعد غیر روایتی انداز میں اجلاس کے تمام ایجنڈے مؤخر کردیے گئے۔آئی سی سی بورڈ میں رازداری کی خلاف ورزی پر رکن ممالک نے ناراضی کا اظہار کیا جس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔آئی سی سی کے چیئر مین ششانک منوہر کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ رواں سال اکتوبر میں آسٹریلیا میں کھیلا جانا ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے ایونٹ کے انعقاد پر خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں آئی سی سی کی اہم ٹیلی کانفرنس بھی نہ صرف بے نتیجہ ثابت ہوئی بلکہ ایک نیا تنازع بھی پیدا ہوگیا۔غیر روایتی انداز میں آئی سی سی اجلاس کا تمام ایجنڈا مؤخر کردیا گیا ،آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو کی رازداری کی خلاف ورزی پر بوررڈ ممبران نارض ہوگئے جس کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔کئی بورڈ اراکین نے اس مسئلہ پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سمیت دیگر معاملات پر بحث 10 جون تک ملتوی کردی گئی ہے۔اجلاس میں بورڈ ز نے آئی سی سی منیجمنٹ کو کوویڈ 19 کی بدلتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متبادل آپشنز کی کھوج جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔