پی ایس ایل لائیو اسٹریمنگ ،جوئے کی کمپنی سے معاہدے کیخلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ

51

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سابق ٹیسٹ کپتان جاوید میانداد نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کے لائیو اسٹریمنگ حقوق جوئے کی کمپنی کو دینے کی اعلی سطح پرغیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں،غلطی کے مرتکب کو قصور وارثابت ہونے پر سزا دی جائے، اس معاملے میں فریقین کے درمیان معاہدہ بہت اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو مستقبل کے لیے سبق مل گیا۔ نجی خبر رساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق عظیم بیٹسمین نے کہا کہ پی ایس ایل میں 2019 سے2021 تک تین ایڈیشنز کیلیے پاکستان سے باہر لائیو اسٹریمنگ کے حقوق سٹے باز کمپنی کو فروخت کرنا اہم معاملہ ہے،دنیا بھر میں کھیلوں میں قانونی طور پر بیٹنگ (سٹہ بازی) کی جاتی ہے تاہم پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا، پی ایس ایل قومی ایونٹ ہے، پی سی بی اور لائیو اسٹریمنگ کرنے والی غیر ملکی کمپنی کا معاہدہ بہت اہمیت رکھتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اہم معاملے کی اعلیٰ سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، پی سی بی از خود یہ تحقیقات نہیں کر سکتا، رپورٹ دیکھ کر قصوروار کا تعین اور ضابطے و قواعد کے مطابق سزا دی جائے.جاوید میانداد نے کہا کہ معاہدے کی شقوں کا جائزہ لے کر دیکھنا ہوگا کہ یہ عمل جان بوجھ کر کیا گیا یا غلطی سے سرزد ہوا، اگر یہ بات سامنے آئے کہ بورڈ کو اس امر کا علم تھا کہ پارٹنر کسی سٹہ بازکمپنی سے معاہدہ کرنے کا مجاذ ہے تو پی سی بی ہی قصور وار قرار پائے گا اور سزا کا بھی حقدار ہو گا،البتہ اگرمعاملہ برعکس ہو اور بورڈ کے علم میں لائے بغیر ایسا ہوا تواسے بری الذمہ قرار دیا جانا چاہیے.انھوں نے کہا کہ اس معاملے سے اب پی سی بی کو بھی مستقبل کیلیے سبق مل گیا، اسے ایسے اہم معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے وقت محتاط رہنا ہوگا۔واضح رہے کہ پی سی بی نے کہاتھا کہ غیر ملکی آن لائن سٹے باز کمپنی سے اسٹریمنگ رائٹس کا معاہدہ پارٹنر نے بغیر بتائے کیاتھا جس پر اس سے خط وکتابت جاری ہے۔