وفاق کا 880ارب روپے کا ریلیف پیکیج، مزدوروں کیلیے 200 ارب مختص ، پیٹرول 15روپے سستا

55

 

اسلام آباد( نمائندہ جسارت)وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر 880ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں اقتصادی ٹیم کے اجلاس کے بعد سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے بتایا کہ پیٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کمی کی گئی جبکہ مزدوروں کے لیے 200 ارب روپے مختص کردیے ، مشکلات کا شکار ہر خاندان کو 4ماہ تک 3 ہزار روپے ماہانہ دیں گے،لاک ڈاؤن کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 100ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، 300یونٹ تک گیس اوربجلی کے بل 3ماہ تک قسطوں میں لیے جائیں گے۔ عمران خان نے بتایا کہ دالوں سمیت دیگراشیاپر ٹیکس کی شرح کم کررہے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورزکیلیے 50ارب روپے مزید مختص کیے ہیں، گندم کی سرکاری خریداری کیلیے 280ارب ، انتہائی غریب طبقے کے لیے 150ارب روپے مختص کردیے، برآمد کنندگان کے قرضوں پر سود ملتوی کر رہے ہیں، صنعتیں 100 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ سے لیبرپر خرچ کرسکیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیا ملازمین کے لیے بھی خصوصی پیکیج تیار کرنے
کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہے ہیں تاہم فی الحال کرفیو نہیں لگاسکتے کیوں کہ یہ ٹی ٹوئنٹی کا میچ نہیں، ہوسکتا ہے صورتحال 6 مہینے چلے، ہمیں افراتفری کے بجائے دانشمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے ، جہاں کورونا کا خدشہ لگے تو اسے سیل کریں گے، اگر خدانخواستہ کرفیو لگانا پڑا تو پہلے پوری تیاری کرنی ہوگی، کرفیو لگنے پر انتظامیہ کے ساتھ مل کر رضاکاروں کی فورس بنانا پڑے گی اور اس فورس کے ذریعے غریبوں کو کھانا گھروں پر پہنچانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ بندکرنے سے سب سے بڑا مسئلہ سپلائزکا آتا ہے، لوگوں کوپکڑ کے جیلوں میں ڈالا گیا تووہاں بھی کوروناپھیل سکتا ہے۔وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کتنی دیر چھابڑی والے کوگھر میں بندکرسکتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس یہ صلاحیت ہے کہ ہم غریبوں کے گھر کھانا پہنچاسکیں؟ملک میں 21کیس آنے پر اسکول اور دیگرادارے بندکردیے گئے تھے۔ عمران خان کے بقول سب سے زیادہ خطرہ کورونا سے نہیں ،غلط فیصلوں سے ہوسکتا ہے،18ویں ترمیم کے بعدصوبے خود فیصلہ کرتے ہیں ہم صرف تجویزکرسکتے ہیں، وقت نے چین میں پاکستانی طلبہ سے متعلق ہمارافیصلہ درست ثابت کیا جب کہ ایران میں تو خود مسئلے تھے، کیا ہم پاکستانیوں کو واپس نہ لیتے؟ ایران کوروناسے چین کی طرح ڈیل نہیں کرسکا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پناہ گاہوں کو مزید پھیلائیں گے کیونکہ موجودہ پناہ گاہوں میں بہت رش دیکھا جارہا ہے۔