پاکستان میں عوام کورونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہے،شاہ محمود قریشی

74

اسلام آباد (صباح نیوز) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں عوام کورونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہے،ان کا کہنا تھا کہ سیلف آئیسولیشن ہیلتھ پروٹوکول فالو کرنے کے لیے ضروری ہے، معمول کے دفتری کام گھر سے سر انجام دے رہا ہوں ۔ تفصیلات کے مطابقشاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ کورونا وائرس صرف قومی آفت ہی نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے آفت ہے، جب
173 سے زیادہ ملک اس سے متاثر ہو چکے ہوں اور جہاں 10 ہزار سے تجاوز کرچکی ہوں ، جہاں ترقی یافتہ دنیا کے ممالک جن کی آمدی اور وسائل ہم سے زیادہ ہیں ، جن کا ڈسپلن اور شعور ہم سے زیادہ ہے وہ بالکل بے بس دکھائی دے رہے ہوں تو ہمیں اس کو سنجیدگی سے لینا ہے ۔اگر ہم یہاں ڈسپلن کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو ہم خود بھی متاثر ہوں گے اور اپنے عزیزواقارب اور دوستوں کو بھی متاثر کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی کوشش کے باوجود ابھی تک لوگ پاکستان میں اس کو اتنا سنجیدہ نہیں لے رہے جتنا سنجیدہ اسے لینا چاہیے، اگر آپ چھٹی کے ماحول میں اہلخانہ کے ساتھ تفریحی مقام پر جاکر بیٹھنا شروع کر دیں گے تو پھر آپ اپنا نقصان کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جو شخص متاثر ہو کرگھر جائے گا تو اپنیخاندان اور اپنے بچوں کا نقصان ہی کرے گا۔ علاوہ ازیں اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سیلف آئیسولیشن ہیلتھ پروٹوکول کو فالو کرنے کے لیے ضروری ہے،میں معمول کے دفتری کام گھر سے سر انجام دے رہا ہوں ،ہمیں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک اجتماعی حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، دفتر کے اسٹاف کو کم سے کم رکھا جائے اور باقی اسٹاف جو پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے روزانہ دفتر آتا ہے انہیں گھر بیٹھ کر فرائض سر انجام دینے کی ترغیب دی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر ادارے کو اس طرح کے چھوٹے چھوٹے حفاظتی اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاسی قائدین کی طرف سے قومی بیانیے کی بات انتہائی مناسب بات ہے ۔