ہاکی کی طرح پی ایچ ایف کے ملازمین کا حال بھی تباہ

208

کراچی(سید وزیر علی قادری)پاکستان کا قومی کھیل ہاکی جہاں روبہ زوال ہے وہیں فیڈریشن نے اپنے ملازمین کازندہ رہنا مشکل کردیا ہے، کراچی ریجن سے لے کر دیگر ہاکی اسٹیڈیمز میں کام کرنے والے ملازمین تنخواہوں اور دیگر ضروری مراعات نہ ملنے پر خودکشی کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ملک میں ہوش ربا مہنگائی ہونے کے باوجود ملازمین کی نہ تو تنخواہوں میں اضافہ کیا اور نہ ہی اس سلسلے میں ہیڈ آفس کے اسٹاف کے برابر ان کی تنخواہیں مختص کی ہیں۔ ملازمین نے نمائندہ جسارت سے بات چیت کرتے ہویے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی مزدور کش پالیسی پر روتے ہوئے بتایا کہ کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں اور قرض لے کر گھر چلاتے چلاتے ہم تھک چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ رویہ ترک نہ کیا گیا تو ہم خودکشی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سال سے ہمیں دلاسہ دیا جارہا ہے کہ جیسے ہی حالات بہتر ہونگے ان کے مسائل کو حل کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی جائے گی۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے اوپر کئی کئی ڈائریکٹرز بٹھادیے گئے ہیں اور وہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے نئی نئی گاڑیوں سے آفس آتے ہیں اور ہم ان کی فائلز اور وہ کھانا جو وہ گھر سے لاتے ہیں ان کے کمرے میں رکھنے جاتے ہیں تو دل خون کے آنسو رو رہا ہوتا ہے۔ ملازمین نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ وہ قسم کھا سکتے ہیں کہ گھر پر ایک وقت کا بھی راشن چھوڑ کر نہیں آتے اور خود چائے پیئے بغیر آفس آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں قائم ہاکی فیڈریشن کا ہیڈکوارٹر جہاں ہمارے رینک کے ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی تنخواہیں ہم سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ جبکہ مراعات بھی ملتی ہیں۔ ہمیں تو تنخواہ بھی وقت پر نہیں دی جاتی۔ ایک ریٹائرڈ ملازم نے بتایا کہ میں ای او بی آئی کی رجسٹریشن کے لیے فائل لے کر مارا ماراپھر رہا ہوں مگر کوئی سنوائی نہیں۔ ایک اور ملازم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس ریٹائرڈ ملازم نے کہا کہ اس کے بڑے یہاں اپنی جوانی سے بڑھاپے تک ان کی خدمت کرتے رہے مگر ان کے مرنے کے بعد ان کے لواحقین کواس کا حق بھی ادا نہیں کیا گیا۔ جب بھی ہیڈکوارٹر فون کرکے صدر اور سیکریٹری سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ صاحب مصروف ہیں۔ کراچی کے دورے پر جب بریگیڈئیرصاحب آئے تو انہوں نے وعدہ کیا کہ آپ کے مسائل کو جلد حل کیا جائے گا مگر اب تو اس میں کئی گنا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان ملازمین کا کہنا ہے کہ یہاں براجمان بیٹھے ڈائریکٹر صاحبان کے بجائے تسلی دینے کے یہ تاثر دینے کی کوشش ہے کہ آمدنی نہ ہونے پر فیڈریشن مالی بحران کا شکار ہے ۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ پھر آپ نے یہاں جو دکانیں اور آفسز کرائے پر دیے ہوئے ہیں ان کو خالی کراکر جگہ کو بیچ دیں اور ہمیں ہمارا حق دے دیں اور ہمیں فارغ کردیں۔ ہم ہر صبح اس آسرے میں آتے ہیں کہ شام کو تنخواہ گھر لے کر جائیں گے مگر مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ ہی نہیں ہماری فیملی اس صورتحال میں ذہنی مریض بن چکی ہے۔ اور ہماری آئے دن لڑائیاں ہونے لگی ہیں۔اس صورتحال میں ہم کہاں جائی، پاکستان اسپورٹس بورڈ بھی ہمارے مسائل کو حل کرنے میں نکام رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میڈیا ہمارا ساتھ دے اور ہم مظلموں کی آواز کو اسپورٹس مین وزیر اعظم عمران خان، عدالت عظمی ، سینیٹ اور قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی تک ہماری گرتی ہوئی صورتحا ل کو پہنچائے ورنہ اگر غریب ملازمین کی بددعا یا آہ منہ سے نکل گئی تو اس قومی کھیل کو آپ کبھی وکٹری اسٹینڈ پر نہ دیکھ سکیں گے۔