چین:ایغور مسلمانوں پر مظالم کی تفصیلات لیک ہوگئیں

384

ایمسٹرڈیم میں مقیم جلا وطن ایغور مسلمان آسیا عبد الوہاب نے انکشاف کیا ہے کہ  چین میں آباد ایغور مسلمانوں کو ایذا رسانی کے لیے حکومت نام نہاد تعلیمی کیمپوں میں منتقل کر رہی ہے۔

کیمپوں میں نظربند افراد میں سے 60 فیصد سے زائد کی عمریں 20 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔ آسیہ عبدلوہاب کا کہنا ہے کہ انہیں موصول ہونے والی خفیہ دستاویزات میں اس امر کا انکشاف ہوا جسے بعد ازاں انہوں نے  بی بی سی اور سی این این کو بھی فراہم کر دیں۔

آسیا عبدالوہاب نے کہا کہ ان کے اس انکشاف سے جو خطرات ہیں ان سے وہ بخوبی آگاہ ہیں لیکن یہ ان کا فرض ہے کہ وہ عوامی سطح پر یہ بتائیں کہ چینی حکومت کیا کررہی ہے؟۔

انہوں نے بی بی سی  نیوز کو بتایا کہ یقیناً وہ چین میں مقیم اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی حفاظت کے بارے میں پریشان ہیں لیکن اگر ہر شخص اپنی حفاظت کی بنا پر خاموش رہے تو ہم ان جرائم کو کبھی نہیں روک سکتے۔

میلبورن میں رہنے والی متاثرہ ایغور مسلمان خاتون ریحان الابلیز نے ایس بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ انہیں خدشہ ہے ان کے والدین کو چینی حکومت نے مغربی صوبے سنکیانگ کے ایغور کیمپ میں حراست میں لیا ہوا ہے۔ ریحان الابلیز کو دو سال سے اپنے والدین کا کچھ پتہ نہیں۔

ابلیز نے اپنے لاپتہ 70 سالہ والد اور 66 سالہ والدہ کے لئے خوف کا اظہار عوامی سطح پر پہلی بار کیا ہے جب بی بی سی اور سی این این کے ذریعہ حاصل کردہ لیک دستاویزات میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ چینی حکومت سختی کے ساتھ  مسلم اقلیت کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔

دستاویزات میں ان وجوہات کی تفصیلات کا بھی ذکر ہے کہ حکومت نے 331 ایغورمسلمانوں کو سنکیانگ میں قاراقکس کاؤنٹی سے نام نہاد تعلیمی کیمپوں میں کیوں منتقل کیا؟۔

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایغور کے مسلمانوں پر کڑی نگرانی کرنے کیلئے ہر جگہ مانیٹر لگائے ہوئے ہیں۔ لوگوں کے فون چیک کیے جارہے ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو کسی سے رابطہ بھی نہیں کرنے دیا جا رہا۔

ایک اور متاثرہ خاتون روزنسا مماتوہٹی اور ان کے کنبے جو سنکیانگ میں مقیم ہیں کو لیک دستاویزات کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کی 34 سالہ بہن پاٹیم  کو مبینہ طور پر بچوں کیلئے بنائی گئی چینی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں 2018 میں ایک کیمپ میں بھیجا گیا تھا۔

روزنسا نے کہا کہ جب انہوں نے دستاویز دیکھیں تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی چھوٹی بہن پچھلے دو سال سے قید میں ہیں۔

چینی حکومت نے کیمپوں کے بارے میں موقف اپنایا ہے کہ ‘رضاکارانہ’  کیمپس حکومت کا انتہا پسندوں کے خلاف رد عمل ہے۔

چینی حکومت کا دعوی ہے کہ حراست میں لئے گئے افراد کو مینڈارن( چین کی ادبی و سرکاری زبان) کی تعلیم اور ملازمت کی تربیت دی جاتی ہے جس کی مدد سے ان میں معاشرے میں ضم ہونے اور انتہا پسندانہ نظریات سے بچنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

آسٹریلیا میں چینی سفارت خانے نے ایس بی ایس نیوز کو ایغور مسلمانوں سے متعلق حکومتی عملی اقدامات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ سنکیانگ سے متعلق معاملات کبھی بھی انسانی حقوق یا مذہب سے متعلق نہیں رہے۔ ان معاملات کا تعلق ہمیشہ علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے ہوتا ہے جبکہ 137 صفحات پر مشتمل لیک دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت ایغور آبادی کے ہر اقدام پر نظر رکھتی رہی ہے۔ نماز پڑھنے سے لیکر کھانا کھانے اور لباس کے چناؤ  تک، حکومت چہرے کی شناخت کی ٹکنالوجی کا استعمال کرتی رہی ہے۔

سنکیانگ کے ایڈریان  زینز نے دستاویزات کا مطالعہ کیا اور ایس بی ایس نیوز کو بتایا  کہ دستاویزات حراست میں لیے گئے افراد  کی حکومت کی جانب سے دی گئیں وجوہات سمیت اصلی ہیں۔ یہ  دستاویزات  ہمیں سیکڑوں افراد اور ان کے کنبہ کے رہن سہن، طور طریقوں اور ان کے حرکات و سکنات کے بارے میں بتاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دستاویزات میں چینی حکومت کے نظریے اور مذہب کے بارے میں نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے۔اس دستاویز سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ چین اپنے ہی آئین، جو کسی بھی  مذہب پر اعتقاد رکھنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے، کی واضح اور صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی مذہبی اقلیت پر ظلم ڈھا رہا ہے۔

دستاویزات میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ  کسی کو صرف اس وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا کہ اس کی اہلیہ نے 2012 اور 2014 کے درمیان نقاب پہن رکھے تھے، یا اس وجہ سے کہ انہوں نے پاسپورٹ کے لئے درخواست دی لیکن کبھی ملک سے باہر نہیں گئے۔

سنکیانگ میں قاراقکس کاؤنٹی سے سیکڑوں ایغوروں کی حراست کی دیگر وجوہات میں بہت زیادہ بچے پیدا کرنا، رشتہ داروں کا بیرون ملک رہنا یا داڑھی رکھنا وغیرہ شامل تھا۔

دستاویزات میں یہ بھی لکھا ہے کہ آیا حراست میں لئے گئے افراد کو رہا کیا جانا چاہئے یا نہیں جو کہ تربیتی مراکز میں افراد کے رضاکارانہ طور پر رہنے کے چینی حکومت کے دعوؤں کی تردید کرتا ہے۔

سال 1980 اور 2000 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کو “تشویشناک” اور “ناقابل اعتماد” قرار دینے والی سرکاری دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کیمپوں میں نظربند افراد میں سے  60 فیصد سے زائد کی عمریں 20 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔

قراقکس لسٹ کے نام سے موسوم یہ تازہ ترین لیک تیسری بار شائع کی گئی ہےجس میں ایغوروں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی تفصیلات درج ہیں۔