پناہ گاہیں اور لنگر خانے کھول کر غریبوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے،سراج الحق

109
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں پناہ گاہیں اور لنگر خانے کھول کر غریب عوام کا مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ ملک مافیاز کی گرفت میں ہے سب سے خطرناک پیاروں کا مافیا ہے ۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے ۔دیہات میں رہنے والی 70فیصد غریب آبادی کی یوٹیلیٹی اسٹورز تک پہنچ ہی نہیں۔حکومت کا ریلیف پیکج اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں۔مہنگائی کی وجہ سے کم عمر بچے اسکول چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔بہتر ہے حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے اقتدار سے الگ ہوجائے ۔دہلی میں مودی کو عبرت ناک شکست،لوگوں نے مودی کو آئینہ دکھا دیا ہے ،مودی مسلم دشمنی سے باز نہ آیا تو پورے بھارت میں یہی حال ہوگا۔ بھارت کے اجتماعی ضمیر نے مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کو مسترد کردیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تربیت گاہ سے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے بھی خطاب کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنے پیاروں کا احتساب کرنا ہوگا۔جب تک پیاروں کا احتساب نہیں ہوتاتب تک معیشت سنبھلے گی نہ ملک چلے گا۔ جس ملک میں کرپشن اور بد انتظامی ہو وہاں ترقی نہیں ہوتی ۔ ملک میں پناہ گاہیں اور لنگر خانے کھول کر غریب عوام کا مذاق اڑایا جارہا ہے ۔غربت ،مہنگائی اوربے ر وزگاری کے خاتمے کے لیے کارخانے کھولنے کی ضرورت ہے جہاں لوگوںکو نوکریاں اور روز گار مل سکے تاکہ وہ عزت کے ساتھ 2 وقت کی روٹی کماسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا ۔حکمرانوں میں یہ صلاحیت اور اہلیت ہی نہیں کہ وہ ملک کو کسی بہتری کی طرف لے جائیں۔انہوںنے کہا کہ نااہل ٹولے نے ملک کا حشر کردیا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نااہل حکمرانوں نے غریب کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے ۔ آٹے اور چینی کے بحران پیدا کرنے والے حکومتی صفوں میں اور وزیر اعظم کے ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں۔حکمرانوں نے غریب سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا ہے ۔موجودہ دور حکومت میں 40 لاکھ کے قریب لوگ خط غربت سے نیچے لڑھک گئے ہیں۔ خود دولت کے انبار لگارہے ہیں۔ یہ کام کوئی کسان،مزدور یا رکشہ ڈرائیور نہیں بلکہ اثرو رسوخ والے وہ لوگ کررہے ہیں جنہیں حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔انہوںنے کہا کہ ان بحرانوں میں اگر اپوزیشن کا کوئی آدمی ملوث ہوتا تواب تک حوالات کی سلاخوں کو پیچھے ہوتا ۔تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیر العظیم نے کہا کہ جماعت اسلامی آئین پاکستان کے تقاضوں کے مطابق اسلام کو ریاست کے نظام میں داخل کرنے کی جدوجہد کررہی ہے ۔ مسجداور منبر و محراب سے وابستہ دیانتدار لوگ ہی ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ برائی کے راستے کو روکنا اور دیانتدار لوگوں کواقتدار کے ایوانوں میں لانا ہماری جدوجہد کا مرکز و محور ہے ۔ملک پر مسلط مغرب سے مرعوب حکمران اسلام کو مسجدوں تک محدود کرناچاہتے ہیں جبکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔حکمران ریاست ، سیاست ،معیشت ،عدالتوں اور تعلیم میں اسلام کا داخلہ ممنوع سمجھتے ہیں کیونکہ اسلامی نظام میں اس طرح کے حکمرانوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی جان بچانے سے بڑھ کر نیکی یہ ہے کہ لوگوں کا ایمان بچایا جائے ۔جماعت اسلامی کا لٹریچر نسلی ایمان کو اصلی ایمان میں تبدیل کرتا ہے ۔