سپریم کورٹ کا ڈی جی ایس بی سی اے کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم

443

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)سپریم کورٹ نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دے دیا ہے،یہ حکم عدالت عظمیٰ نے کراچی کے علاقے بوٹ بیسن کے اطراف پارک کی زمین پر عمارتیں تعمیر ہونے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیا ہے،

سماعت کے دوران ایک خاتون شہری نے کہا کہ بوٹ بیسن کے اطراف پارک کی جگہ پر کئی عمارتیں بنائی گئی ہیں، میں آپ کو ماسٹر پلان کے تحت نقشے فراہم بھی کر سکتی ہوں،

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے پاس بے نظیر بھٹو پارک کی الاٹمنٹ ہے؟ اس پر کے ڈی اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ بورڈ آف ریونیو نے زمین الاٹ کی ہے،

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کے ڈی اے کی زمین کی الاٹمنٹ پر بورڈ آف ریونیو کیسے الاٹمنٹ کر سکتا ہے؟عدالت نے بے نظیر بھٹو پارک کی جگہ پر عمارت بنانے پر عدالت سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عمارت کے مالک اخلاق میمن کو نوٹس جاری کر دیا ہے،

سندھی مسلم سوسائٹی میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سوسائٹی میں چائناکٹنگ کر دی گئی ہے، پورے شاہراہ کشمیر پر ہی چائنا کٹنگ کردیں ہیں،

بورڈ آف ریونیو کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ زمین سندھی مسلم سوسائٹی نے دیگر لوگوں کو الاٹ کی ہے،جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شاہراہ فیصل الاٹ کردے تو کیا کریں گے، یہاں سب کچھ الاٹمنٹ کرنے کا لیٹر جاری ہوجاتا ہے،

جسٹس گلزار احمد نے سندھی مسلم سوسائٹی میں نالے کی زمین پر عمارت تعمیر ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کردیا ہے،عدالت نے چیف سیکرٹری کو حکم جاری کیا کہ ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول کو آج ہی ہٹائیں،

انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے کارکن محمود اختری نقوی نے کہا کہ یہ ہر علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کروا رہے ہیں اور ڈی جی ایس بی سی اے خود ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ چھ لاکھ روپے فی منزل رشوت لے کر آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں،

اس موقع پر جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ناظم آباد میں ہر گلی، محلے میں کھلے پیسے لے کر پورشن بن رہے ہیں، کیا میرے ساتھ ابھی جا کر دیکھیں گے؟انہوں نے کہا کہ سرکاری نمبر پلیٹ کی گاڑیاں کھڑی کرکے غیر قانونی تعمیرات کی جا رہی ہیں،

چیف جسٹس آپ پاکستان نے کہا کہ یہ مکمل طور پر کراچی شہر کے لیے تباہی ہے۔