امریکی نمائندہ خصوصی کی جنرل باجوہ اور شاہ محمود قریشی سے ملاقات، افغان امن عمل پر گفتگو

312
راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد ملاقات کررہے ہیں

راولپنڈی،اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)افغانستان میں دیرپا قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد پاکستان پہنچے جہاں انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف اور امریکی نمائندہ خصوصی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت خطے میں مجموعی صورتحال اور جاری افغان مصالحتی عمل پر تبادلہ خیال ہوا۔آئی ایس پی آر کے مطابق زلمے خلیل زاد نے خطے میں امن کے باہمی مقصد کے لیے امن عمل میں معاونت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔قبل ازیں زلمے خلیل زاد نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے علیحدہ ملاقات کی تھی۔دفترخارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں زلمے خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ حالیہ بات چیت سے متعلق وزیر خارجہ کو بتایا اور افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان حتمی امن معاہدہ انٹرا افغان مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا اور اس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔مذکورہ ملاقات میں شاہ محمود قریشی نے امریکی نمائندہ خصوصی کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان، افغانستان میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔علاوہ ازیں دونوں فریقین نے افغان امن عمل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔واضح رہے کہ یہ ملاقات امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات پر بظاہر نظر آنے والے ڈیڈلاک پر دونوں فریقین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد دیکھنے میں آئی۔دوحہ میں ہونی والی پیش رفت سے جڑے ذرائع کا کہنا تھا کہ طالبان نے داخلی طور پر امریکی فورسز کے خلاف حملوں کو روکنے اور افغان حکومت کے مفاد کے خلاف حملوں کو ‘کم’ کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا لیکن طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا۔