سی این جی اسٹیشن کی بندش سے تین لاکھ افراد کا روزگار متاثر

36

اسلام آباد( آن لائن )آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی چئیرمین غیاث عبداللہ پراچہ نے کہا ہے کہ گزشتہ چالیس روز سے سندھ اور پنجاب کے سی این جی سٹیشن بند رکھنے سے تین لاکھ افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ آئل امپورٹ بل میں اضافہ ہو گیا جبکہ سی این جی کی صنعت کو کاروبار اور حکومت کو ریونیو کی مد میں مجموعی طورپر اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور شہروں میں آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اب سی این جی سٹیشن روزانہ بارہ گھنٹے کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے جو نامنظور ہے اس لیے انھیں سال بھر مسلسل کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے ۔ پچھلے پانچ سال میں سی این جی اسٹیشنز کو موسم کی شدت کی وجہ سے بند نہیں کیا گیا مگر اب ایسا کر کے ناانصافی کی گئی۔غیاث پراچہ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب کے سی این جی ا سٹیشنز سستی قدرتی گیس چھوڑ کر مہنگی آر ایل این جی پر اس لیے منتقل ہوئے کیونکہ انھیں یقین دلایا گیا تھا کہ اسکی سپلائی کبھی منقطع نہیںہوگی اسی لیے حکومت کو اربوں روپے ایڈوانس ادائیگی بھی کی گئی تاکہ آر ایل این جی کی خریداری میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اور کاروبار چلتا رہے لیکن اس کے باوجود سی این جی اسٹیشنوں کو درامد شدہ گیس سے محروم رکھاجاتا ہے جبکہ سندھ بھر میں سی این جی سیکٹر کو قدرتی گیس سے محروم رکھا جا رہا ہے جہاں گیس سپلائی کی بندش غیر آئینی ہے اس سے کاروباری حلقوں میںشدید بے چینی اور اضطراب پھیلتا ہے۔ سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی کی بندش گیس کے گردشی قرضہ او قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس اقدام سے لاکھوں لوگوں کا کاروبار اور روزگار متاثر ہو تاہے جبکہ ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ سی این جی بند ہونے پر درامد ہونے والی مہنگی گیس گھریلو صارفین اور سستے ٹیرف لینے والے سیکٹرز کو فراہم ہو تی ہے جس سے اربوں روپوں کا سرکلر ڈیٹ بنتا ہے اور اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے حکومت اگلی ششماہی کیلئے پورے ملک کی گیس کے ریٹ میں اضافہ کر دیتی ہے جس کے ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ عوام کو گیس کی زیادہ قیمت چکانی پڑتی ہے ۔ ایسے فیصلوں سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔