آزادہ مارچ بلیک میلنگ ہے،این آر او نہیں دونگا،وزیراعظم

101
اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان بابا گورو نانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد دعا مانگ رہے ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب ودیگر بھی موجود ہیں
اسلام آباد، وزیر اعظم عمران خان بابا گورو نانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد دعا مانگ رہے ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب ودیگر بھی موجود ہیں

ننکانہ صاحب/لاہور(نمائندہ جسارت) وزیر اعظم عمران خان نے آزادی مارچ کو ’بلیک میلنگ‘ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ مصالحت کے تمام امکانات عملا ختم کردیے ہیں۔پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں بابا گورونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آزادی مارچ والے ایک بات سن لیں، میں جب تک زندہ ہوں بلیک میل ہوں گا اور نہ ہی کسی کو این آر او دوں گا۔عمران خان نے یہ بات یسے وقت پر کہی جب ان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کے قافلے ملک کے مختلف علاقوں سے اسلام آباد کی طرف اپنا مارچ جاری رکھے ہوئے ہیں۔وزیراعظم کے بقول ماضی میں ایک این آر او شریف خاندان کو ملا اور دوسرا آصف علی زرداری کو دیا گیا تھا، دونوں این آر اوز کی وجہ سے آج ملک اس حال میں پہنچا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے پہلے ہی دن سے شور مچا دیا تھا کہ حکومت ناکام ہوگئی ہے، ہماری حکومت نے پہلے سال جتنا بھی ٹیکس جمع کیا، وہ گزشتہ حکومتوں کی طرف سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی میں استعمال ہوگیا، ملک کا قرضہ 4گنا ایسے ہی نہیں بڑھتا،  لوٹ کھسوٹ سے ایسا ہوتا ہے، اقامہ لینے کا مطلب اس ملک سے لوٹا ہوا پیسہ چھپانا ہے، کبھی سنا ہے کہ کسی ملک کا وزیر اعظم کسی دوسرے ملک کا شہری اور وہاں ملازم ہو۔عمران خان نے کہا کہ آزادی مارچ کرنے والوں کو اصل خوف یہ ہے کہ حکومت کامیاب ہو رہی ہے، سب اکٹھے ہوکرمارچ سمیت سب کچھ کرلیں۔انہوں نے کھل کر کہاکہ یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ لینے آرہے ہیں، کیوں لینے آ رہے ہیں؟ کہیں یہودی لابی، کہیں احمدیوں کی حمایت کا الزام لگایا جاتا ہے تو کہیں مہنگائی کا کہتے ہیں، آپ ادارہ شماریات کا ڈیٹا دیکھ لیں، سب کچھ سامنے آ جائے گا۔عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے پوچھے جانے والے ایک سوال کا حوالہ دیے بغیر کہاکہ میں نے اخبار میں پڑھا کہ نواز شریف کی زندگی کی ضمانت کے حوالے سے پوچھا گیا تھا۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میں تو اپنی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتاتونوازشریف کی زندگی کی ضمانت کیسے دے سکتا ہوں؟ ہم نواز شریف کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے لاہور میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی جب کہ مختلف اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں انہوں نے لوکل گورنمنٹ سسٹم پرجلد ازجلد عملدرآمد کرنے اور جرائم پیشہ افراد کے خلا ف بھرپور ایکشن لینے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعظم