آزادی مارچ روکنے کیلیے جہانگیر ترین میدان میں آگئے

74

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) جہانگیر ترین نے مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری اور جے یو آئی ف کیخلاف کریک ڈاون کی مخالفت کر دی۔ معاملات طے کروانے کیلیے میدان میں آگئے۔ گورنر پنجاب چودھری سرور سے ملاقات۔ مولانا سے بات چیت کیلیے غور و فکر کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک
انصاف کے سینئر ترین رہنما جہانگیر ترین مولانا فضل الرحمان اور حکومت کے درمیان معاملات طے کروانے کیلیے میدان میں آگئے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین نے منگل کے روز اس سلسلے میں گورنر پنجاب چودھری سرور سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماوں نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کو روکنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جہانگیر ترین نے مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کرنے اور جے یو آئی ف کے خلاف کریک ڈائون کی مخالفت کی ہے۔جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے خاتمے کیلیے ٹیبل ٹالک کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے جے یو آئی کا آزادی مارچ رکوانے کے لیے بیک ڈور ڈپلومیسی کا آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے ا سپیکر قومی اسمبلی سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنمائوں کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومتی شخصیات کی جانب سے بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت اب تک کئے گئے رابطوں میں وفاقی حکومت کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے آزادی مارچ رکوانے کے لئے آپشن نمبر 2 پر غور شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی قیادت میں اجلاس طلب کرلیا ہے۔ جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ 27 اکتوبر کے آزادی مارچ کو کس طریقے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے صوبائی وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں جمعیت علمائے اسلام ف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے متحرک کارکنوں کی فہرستوں کی تیاری کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔ جنہیں 27 اکتوبر سے قبل گرفتار کئے جانے کا امکان ہے۔
جہانگیر ترین میدان میں