وزیراعلیٰ نے سڑکوں سے پانی کی نکاسی کیلئے 48 گھنٹے دے دیئے

42

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کراچی میں صفائی کے حوالے سے جمعے کو وزیراعلیٰ ہائوس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ آئندہ48 گھنٹے میں شہر کی ہر ایک گلی اور سڑک سے بارش اور سیوریج کا پانی نکال کر انہیں رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا ٹاسک ہے اور دوسرا ٹاسک کراچی شہر کے سیوریج کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا جبکہ تیسرا ٹاسک یہ ہوگا کہ محرم الحرام کے دوران جلوس اور مجالس کے راستوں اور سڑکوں کی استرکاری اور مرمت اور صفائی ستھرائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، وزیرکچی آبادی مرتضیٰ بلوچ، صوبائی مشیر مرتضیٰ وہاب، میئر کراچی وسیم اختر، کمشنر کراچی افتخار شہلوانی، سیکرٹری خزانہ نجم شاہ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خالد حیدر شاہ، ڈی جی کے ڈی اے، ڈی جی ایس ایس ڈبلیو ایم اے اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ ہر15 دن کے بعد کوآرڈینیشن کے حوالے سے تمام منتخب نمائندوں بشمول میئر، ڈی ایم سیز کے چیئرمینوں، ڈسٹرکٹ کونسلز کے چیئرمین ، ایس بی سی اے ، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور کنٹونمنٹ بورڈ کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کریں اور باہمی طریقے سے مسائل کو حل کریں۔ ڈی ایم سیز کے چیئرمینوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس فنڈز کی قلت ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو بھی وفاقی فنڈ میں کمی کے باعث مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر شاہ کو ہدایت کی کہ وہ ایس ایس ڈبلیو ایم اے کی کارکردگی کو بہتر بنائیں نہیں تو وہ گاربیج لفٹنگ اور ڈور ٹو ڈور کچرا جمع کرنے کے باکس ڈی ایم سیز سے واپس لے لیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ ڈی ایم سیز کے پاس گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن نہیں ہیں لہٰذا وزیر اعلیٰ سندھ نے ڈی ایم سیز کے چیئرمینو ں اور ڈی سیز کو ہدایت کی کہ وہ ہر ایک ضلع میں اس حوالے سے زمین کی نشاندہی کریں تاکہ گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن قائم کیے جا سکیں نہیں تو کچرا کھلے مقامات پر پھینکا جائے گا جس سے ماحول خراب ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے میئر کراچی اور ڈی ایم سیز کو شہر میں فیومیگیشن شروع کرنے کی ہدایت کی اس پر میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ انہوں نے ڈی ایم سیز کو فیومیگیشن کے لیے48 گاڑیاں دی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس ادویات کی خریداری حتیٰ کہ ان کا انتظام کرنے کے لیے بھی فنڈز نہیں ہیں کہ انہیں لوکل باڈیز کو فراہم کروں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر کہا کہ شہر کی صفائی ان کا کام نہیں ہے مگر اس کے باوجود میں آپ سب کے ساتھ مل کر کام کررہا ہوں تاکہ شہریوں کو فوری ریلیف مل سکے‘ میں فنڈ بھی دے رہا ہوں‘ انتظامی سپورٹ بھی کر رہا ہوں مگر اس کے باوجود مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدات سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری سندھ ممتاز شاہ، وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی تیمور ٹالپر، صوبائی مشیر مرتضیٰ وہاب، انسپیکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر کلیم امام اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ پولیس نے وزیر اعلیٰ سندھ کو 10000 کیمرے نصب کرنے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کیمرے کراچی کے ریڈ زون، اہم تنصیبات اور مقامات پر نصب کیے جائیں گے‘جیسے ہی یہ پروجیکٹ کام کرنا شروع کرے گا پورے شہر میں کیمرے کی تنصیب شروع کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس کو 15 دن کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ اس پروجیکٹ کے تمام فنی پہلوؤں کو حتمی شکل دی جائے‘ دوسرا مرحلہ ٹینڈرکا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ پروجیکٹ انسپیکشن رپورٹ، کنٹرول روم، سروے رپورٹ، ٹیکنیکل فزیبلیٹی رپورٹ اور پی سی ون جمع کرائے جا چکے ہیں۔یہ پروجیکٹ20 بلین روپے سے زائد لاگت کا ہوگا۔