یوم آزادی پر مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

105
کراچی: یوم آزادی کے موقع پر طالبات پاکستان اور کشمیر کے پرچم اٹھائے مزار قائد کے احاطے منعقدہ تقریب میں شریک ہیں
کراچی: یوم آزادی کے موقع پر طالبات پاکستان اور کشمیر کے پرچم اٹھائے مزار قائد کے احاطے منعقدہ تقریب میں شریک ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) یوم آزادی کی مناسبت سے کراچی میں مزار قائد پر اعزازی گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، پاکستان نیول اکیڈمی کے چاق وچوبند کیڈٹس نے مزارقائد کی سیکورٹی کے فرائض سنبھال لیے۔ اعزازی گارڈز کی جانب سے بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کو سلامی دی گئی۔کمانڈنٹ نیول اکیڈمی کموڈور عرفان تاج نے پریڈ کا معائنہ کیا اور مراز قائد پر فاتحہ خوانی کے بعد پھولوں کی چادر بھی چڑھائی، کموڈور عرفان تاج نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔ کراچی میں دن کا آغاز21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔اس موقع پر ملک کی سلامتی اور یکجہتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یوم آزادی کے موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی اور قومی ترانے کی گونج میں پرچم کشائی کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی، دعا کی اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کیے۔ اس موقع پروزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ صوبائی وزراء سعید غنی، ناصر شاہ، مکیش چاؤلہ، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، نواب وسان، سیدقاسم نوید ، وقار مہدی بھی تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب بیان ہے کہ اقوام متحدہ میں ہمیں کوئی ویلکم نہیں کرے گا۔ شہید بھٹو جب اقوام متحدہ گئے تو اْس وقت بھی ہمارے ساتھ کوئی نہیں تھا لیکن بھٹو صاحب نے پوری دنیا کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ ہمیں قائد اعظم ور ذوالفقار بھٹو کے وژن سے سیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریال تالپور کو رات 12 بجے اسپتال سے جیل منتقل کرنا انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں کئی دہائیوں سے اتنی بارش نہیں ہوئی، میں مسلسل 4 دن سے سڑکوں پر تھا۔ میری کابینہ کے اراکین، انتظامیہ ، لوکل باڈیز نے بڑی محنت کرکے کافی علاقے کلیئر کیے۔ جو ہلاکتیں ہوئیں ہیں وہ کے الیکٹرک کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ کے الیکٹرک کو اپ گریڈیشن اور سسٹم کو ٹھیک کرنا چاہیے تھا۔ 12 سال سے کے الیکٹرک پرائیویٹ ہے، پولز میں کرنٹ کیسے آجاتا ہے، یہ کے الیکٹرک کی انتظامی غفلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی آفس کے باہر سے سندھ حکومت نے پانی نکالا۔ میں اس کو کسی کی بھی غفلت نہیں کہوں گا بلکہ ہم سب کو مل کر اس شہر کی خدمت کرنی ہے۔ مراد علی شاہ نے مزارِ قائد پر آئے ہوئے سفیروں ،اہم شخصیات اور اسکول کے بچوں سیملاقاتیں کیں۔