حکومت مہنگائی ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، جماعت اسلامی

67

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے امیر محمد حسین محنتی کی زیر صدارت قبا آڈیٹوریم میں منعقدہ صوبائی مجلس شوریٰ کے حالیہ اجلاس نے کمرتوڑ مہنگائی وبے روزگاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اپنے انتخابی وعدوں پر عمل کرتے ہوئے عوام کو ریلیف ، لوٹی ہوئی دولت کی واپسی اور مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لیے کرپشن فری وسنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے انتخابات جیتنے کے لیے یہ نعرہ لگایا تھا کہ وہ کرپٹ سیاستدانوں سے لوٹی ہوئی دولت واپس، ملک میں معاشی خوشحالی،روزگار اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنائیں گے مگر ایک سال گزرجانے کے باوجود حکومت لوٹی ہوئی دولت واپس نہ لاسکی اس کے برعکس مہنگائی کی بمباری کرکے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، حکومت کی غلط معاشی پالیسی اور ٹیکسوں کی بھرمار سے کئی لاکھ لوگ بے روزگار اور کاروباری طبقہ سخت پریشان ہے، عوام دشمن بجٹ نے عام آدمی سے لے کر تاجروں تک ہر طبقے کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے، بجٹ کا بڑا حصہ سود کے ساتھ قرض کی واپسی میں خرچ ہوگا جو اس مقروض ملک کے ساتھ ظلم وزیادتی کے مترادف ہے، بجٹ ہمیشہ اپنے وسائل کو دیکھ کر بنایا جاتا ہے مگر امپورٹیڈ وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم نے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لیے 3 کھرب سے زاید خسارے کا بجٹ پیش کیا، 713 ارب کے نئے ٹیکس لگاکر عوام دشمنی کا ثبوت دیاگیا ہے۔ جماعت اسلامی سندھ کی مجلس شوریٰ نے حالیہ بجٹ اور ٹیکسز کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آمدن کو سامنے رکھ کر بجٹ بنایا جائے، عوام کو ریلیف اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا قوم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے، ٹیکسز پر نظرثانی ،سادگی وکفایت شعاری کو فروغ دے کر اس ملک وقوم کی حالت زار پر رحم کیا جائے۔